مہنگائی چند ماہ میں دگنی اسٹیٹ بینک کی رپورٹ

خام تیل کی قیمت بڑھنے اور روپے کی بے قدری سے مہنگائی میں اضافے تو ہوا ہی ہے۔


Editorial October 20, 2018
خام تیل کی قیمت بڑھنے اور روپے کی بے قدری سے مہنگائی میں اضافے تو ہوا ہی ہے۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئے مالی سال میں دگنی مہنگائی بڑھنے کی پیش گوئی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کی ہے ۔ نئی حکومت کے برسراقتدار آتے ہی مہنگائی کا ایک طوفان آیا ہے، ڈالرکو جیسے پر لگ گئے ہیں، روپے کی قدر روز بروزگرتی جارہی ہے۔

ایک طرف غیر ملکی قرضوں کا بوجھ اور ان کی بروقت ادائیگی کا مسئلہ درپیش ہے تو دوسری جانب آئی ایم ایف کے پاس جانے، نا جانے کے حوالے سے گومگوکی کیفیت ہے۔ جس کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج مندی کا شکار ہے۔گیس کی قیمت ، درآمدی ڈیوٹی اور ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے سے مہنگائی بڑھی ہے اور تمام ٹیکسزکا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل ہوگیا ہے، جو ایک انتہائی پریشان کن صورتحال ہے۔

خام تیل کی قیمت بڑھنے اور روپے کی بے قدری سے مہنگائی میں اضافے تو ہوا ہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال2018-19 میں معاشی ترقی کی شرح نموکے لیے 6.2 فیصد کا ہدف پورا نہیں ہوگا۔ معاشی ترقی کی شرح نمو 4.7 فیصد سے 5.2 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیرخزانہ اسد عمرکا کہنا ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ و ٹیرر ازم فنانسنگ کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا ۔ لیکن عوام کے لیے مکمل ریلیف کی کوئی کھڑکی نہیں کھلتی، مسائل کا انبار لگا ہوا ہے، حل کی کوئی نہ کوئی صورت نکلنی چاہیے۔ الفاظ کا ہیر پھیر، فیصلوں میں ناپختگی حکومتی سطح پر اجلاس پر اجلاس ہو رہے ہیں،کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں، لیکن معاشی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے اور نتیجہ ابھی تک صفر ہے، بیرونی سرمایہ کاری تو درکنار ملکی سطح پر صنعت وحرفت کی حالت بھی دگرگوں ہوئی ہے۔

فشریزانڈسٹری بند ہونے سے سولہ لاکھ افراد کی بے روزگاری کا خدشہ ہے جوکہ انتہائی غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سمیت دیگر انڈسٹریز بھی بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں ۔کرپشن کے ناسورکا بھی تاحال کوئی شافی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے کیونکہ ہمارا قانونی نظام احتساب میں بڑی رکاوٹ ہے، احتساب کے فیصلے پہلے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں جاتے ہیں،کیسز برسوں چلتے ہیں اور اس وقت تک حکومتیں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

اشیائے خورونوش،گیس، بجلی ، سی این جی اور پیٹرول کی قیمتوں کے مضر اثرات براہ راست عوام پر مرتب ہورہے ہیں اور ان کے روزگاروکاروبارکے مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔ مہنگائی کے سیلاب کو روکنے کے لیے حکومت کو بند باندھنا پڑے گا ،ورنہ سب کچھ خس وخاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔

مقبول خبریں