پانی پر مجرمانہ غفلت ایک المیہ

یہ صدا بہ صحرا اپیل نہیں ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ پانی کے مسئلہ پر سنجیدہ سوچ اپنائیں، اخباری رپورٹیں چشم کشا ہیں۔


Editorial October 21, 2018
یہ صدا بہ صحرا اپیل نہیں ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ پانی کے مسئلہ پر سنجیدہ سوچ اپنائیں، اخباری رپورٹیں چشم کشا ہیں۔ فوٹو:فائل

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے بڑے آبی ذخائر کی فوری تعمیر کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پانی کے مسئلے کو حل کرنا ہو گا، جب کہ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ پانی بچانے کے معاملہ میں گزشتہ 40 سال سے حکومتوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے زیراہتمام سپریم کورٹ میں ''آبی طور پر محفوظ پاکستان کی تشکیل'' کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سمپوزیم میں کیا۔

بین الاقوامی سمپوزیم میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مملکت برائے آبی وسائل فیصل واوڈا، چیئرمین واپڈا، چیئرمین ارسا اور غیر ملکی مندوبین نے بھی شرکت کی اور پانی بحران سے متعلق اہم مسئلہ پر روشنی ڈالی۔ چیئرمین واپڈا مزمل حسین نے سمپوزیم کے شرکاء کو پاکستان میں آبی وسائل کی صورتحال، پانی کی ضرورت اور اس سے منسلک مسائل کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے اقدامات کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔

بات جہاں مجرمانہ غفلت کی ہے وہاں وزیراعظم عمران خان نے بھی ایک وفد سے حالیہ ملاقات میں قومی ایشوز سے دامن چھڑانے اور تجاہل عارفانہ کی شکایت کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ملک کے ساتھ جو کیا وہ دشمن بھی نہیںکرتے، ان غلط کاریوں اور غلط پالیسیوں کا خمیازہ آج قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے، ملکی اداروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، آج بڑے بڑے قومی ادارے خسارے کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ملک میں وسائل کی کمی نہیں لیکن موجودہ وقت مشکل ہے۔

بہرحال اس حقیقت سے شاید ہی کسی کو انکار ہو کہ آبی وسائل کے گھٹتے وسائل، سیلاب سے بچائو کے میکنزم سے عدم دلچسپی، آبی ذخائر کی تعمیر سے پہلوتہی، آبادی کے پھیلائو، غربت و افلاس، مہنگائی اور میٹھے پانی کے دستیاب وسائل کے بیدردی سے استعمال سمیت دیگر مسائل نے ملک کو انجام کار آبی بحران کے خطرہ سے دوچار کیا ہے، جب کہ طرز حکمرانی، سیاستدانوں، ماہرین آب اور اہم آبی محکموں اور بیوروکریسی کی غفلت بھی ہمارے آبی وسائل و مسائل کی اہم وجوہ ہیں۔

ملک کو داخلی امن و استحکام چاہیے، نئی حکومت کے سامنے معیشت کی بحالی سب سے بنیادی چیلنج ہے، آج کی دنیا میں صرف فوجی طاقت کسی ریاست کی بقا کے لیے کافی نہیں، جب تک قوم حکومت کی اقتصادی اور سماجی پالیسیوں کے ثمرات سے بہرہ مند نہ ہو۔ یوں تو پاکستان میں وسائل کی دستیابی کو قدرت کا عظیم عطیہ خیال کیا جاتا ہے مگر المیہ ہے کہ قومی سطح پر بے عملی، سست روی، کرپشن، حقیقت پسندی اور عوام دوستی سے گریزاں سیاست اور مسلمہ جمہوری روایات سے لاتعلقی اور مفاد پرستی نے ملکی ترقی کے سارے خواب بکھیر کر رکھ دیے۔

کسی حکومت نے آبی مسائل کے مکمل خاتمہ اور میٹھے پانی کی ملک گیر فراہمی کے مضبوط ترین سسٹم کی بنیاد رکھنے پر توجہ نہیں دی، جمہوریت اور آمریت نے ٹھوس آبی روڈمیپ قوم کو نہیں دیا، سیلابی پانی کو روکنے کے آبی ذخائر تک نہیں بنائے، کروڑوں کیوسک سیلابی پانی بستیاں اجاڑتا اور کھڑی فصلیں روندتا ہوا سمندر برد ہوتا رہا مگر کسی حکومت نے یہ تک نہیں سوچا کہ تربیلا، منگلا ڈیم اپنی فطری مدت پوری کر چکے، اب نئے ڈیمز بنانے چاہییں، لیکن یہ کام بھی موجودہ چیف جسٹس نے ایک قومی کاز کے طور پر اپنے سر لے لیا، فنڈز کی اپیلیں کیں، قومی شعور کو بیدار کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے فورم سے اداروں کے مابین یکجہتی اور قومی مشن کے طور پر سیاستدانوں، نئی نسل اور تارکین وطن پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے آبی قلت کے خطرات کا فوری ادراک کریں۔

صدر مملکت عارف علوی نے اس موقع پر کہا کہ پانی کی ضرورت زراعت اور انڈسٹری کے لیے بھی لازمی ہے، اللہ نے پاکستان کو بہترین آبی وسائل سے مالا مال کیا لیکن قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک تربیلا اور منگلا ڈیم ہی بنائے گئے، وقت کے ساتھ پانی کے استعمال میں اضافہ اور ذخائر میں کمی ہوتی رہی، صدر مملکت نے کہا کہ پانی کو محفوظ اور ذخیرہ کرنا بنیادی مسئلہ ہے، ملک میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، تھر میں پانی کی کمی کے باعث بچوں کی اموات واقع ہو رہی ہیں، آبی ذخیرے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، ملک میں آبی پالیسی موجود ہے جس پر عملدرآمد کیا جائے۔

انھوں نے پانی جیسے اہم مسئلے پر توجہ مبذول کرانے پر چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا۔ صدر عارف علوی کا کہنا تھا ڈیم بنانا فوری ضرورت ہے تاہم اس سلسلے میں اتفاق رائے اور باہمی اعتماد سازی چاہیے، کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا پاکستان کے آبی ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں، مستقبل میں ملک آبی قلت کا شکار ہوسکتا ہے، بروقت اقدامات نہ کیے تو 2025ء میں پاکستان کو خشک سالی کا سامنا کرنا ہوگا، پانی کے بغیر زندگی کا وجود ناممکن ہے، آبی ذخائر میں اضافے کے لیے عدلیہ بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے لیکن آبی پالیسی کے نفاذ میں انتظامیہ کا کلیدی کردار ہے، ہر شہری کو پانی بچانے کے لیے اقدامات کرنا ہونگے.

چیف جسٹس نے کہا پانی کی قلت جیسے مسائل سے فوری نمٹنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں واٹر پرائسنگ سسٹم کی تشکیل، مناسب اداروں کے قیام، فضلہ اور آلودگی کے انتظام کے لیے ریگولیشنز، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموںکے لیے فنڈنگ کی رفتار کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ عوام کو پانی کے درست و منصفانہ استعمال اور بچت کے طریقوں سے آگاہی دی جائے۔

آئین کی محافظ ہونے کی حیثیت سے عدلیہ کی ذمے داری ہے وہ شہریوں کو پانی کی فراہمی جیسے بنیادی حق کے تحفظ کو یقینی بنائے، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیرکے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں، ہمارے پاس بڑے ڈیموںکی تعمیر کے لیے سرمایہ نہیں اس لیے ڈیم فنڈ قائم کیا جس میں پنشنرز اور بچوں نے بھی حصہ ڈالا، انھوں نے زور دیا کہ پانی کی کمی دور کرنے کے لیے وسائل پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے، ملکی معیشت کا زیادہ انحصار دریائوں اور نہری نظام پر ہے، دنیا میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے جسکے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔

یہ صدا بہ صحرا اپیل نہیں ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ پانی کے مسئلہ پر سنجیدہ سوچ اپنائیں، اخباری رپورٹیں چشم کشا ہیں، بتایا جاتا ہے کہ دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے زیریں علاقوں میں میٹھے پانی کی شدید کمی نے سمندر کو کھلی چھٹی دے دی ہے کہ وہ ساحلی اضلاع کی زمین کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ کے خشک حصے میں بھی چڑھ دوڑے، یہی وجہ ہے کہ ضلع ٹھٹھہ اور سجاول کی ساحلی پٹی پر کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور اب دیگر موجود رہ جانے والے دیہات میں رہنے والوں کو میٹھے پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

کئی بڑے دیہات جہاں 1200 نفوس سے زائد آبادی تھی وہ مٹ چکے اور پانی کی کمی سے اب دیگر دیہات میں رہنے والے بھی بیراجی علاقے کی جانب نقل مکانی کرنے پر غور شروع کر رہے ہیں۔ شکارپور کو سیوریج اور زیر زمیں پینے کے آلودہ پانی کا خطرہ درپیش ہے۔ آبی سیناریو کا منظرنامہ دلگداز اور اعصاب شکن ہے، مگر زندہ قوموں کے لیے آزمائشیں عمل کے نئے در کھولتی ہیں۔ لہٰذا پانی پر مجرمانہ غفلت کا باب اب ہمیشہ کے لیے بند ہونا چاہیے۔

 

مقبول خبریں