وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس

جی ایس ٹی کی شرح میں ایک فیصد اضافے کا نتیجہ پٹرول کی قیمت میں فوری اضافے کی صورت میں سامنے آ گیا ہے۔


Editorial June 14, 2013
وزیر خزانہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ زیادہ آمدنی کمانے والے لوگوں پر تیس فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے جن کی تعداد صرف تین ہزار ایک سو چودہ ہے۔ فوٹو: ایکسپریس نیوز

NEW DEHLI: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کو یقین دہانی کرائی کہ اگلے سال ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر کے ان کی تلافی کی جائے گی۔ انھوں نے وفاقی بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا اور نہ ان پر کوئی بوجھ ڈالا گیا' صرف ٹیکسوں کی معمولی ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہیں ، جی ایس ٹی کی شرح پہلے بھی سترہ فیصد تھی جسے کم کر کے سولہ فیصد کیا گیا تھا' اسے پرانی سطح پر لایا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے ملک کی معاشی صورتحال کے حقائق بیان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو کڑوی گولی نگلنا ہو گی' معیشت ٹھیک کرنے کے لیے قربانیاں دینا پڑیں گی اور اب آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر بات چیت ہو گی۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک کی موجودہ معاشی حالت بہتر نہیں۔ بدانتظامی اور کرپشن کے باعث تمام سرکاری شعبوں کی کارکردگی بھی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے جس کو درست کرنے کے لیے حکومت کو سخت کارروائی کرنا ہوگی۔ جہاں تک جی ایس ٹی کا تعلق ہے اس سے امیر اور غریب سمیت تمام شہری متاثر ہوتے ہیں۔ امرا کے لیے جی ایس ٹی میں معمولی اضافہ ممکن ہے کوئی معنی نہ رکھتا ہو مگر عام آدمی جس کی آمدن بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا نہیں کر پا رہی' اس کے لیے یہ اضافہ بھی بہت زیادہ ہے۔

جی ایس ٹی کی شرح میں ایک فیصد اضافے کا نتیجہ پٹرول کی قیمت میں فوری اضافے کی صورت میں سامنے آ گیا ہے دوسری جانب اوگرا نے بھی سی این جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ جی ایس ٹی کی شرح، پٹرول اور سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کا فوری اثر روزمرہ کی اشیا پر پڑنا لازمی امر ہے۔ اس سے آنے والا گرانی کا طوفان غریب عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہیں بڑھیں مگر روزمرہ اشیا کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ وزیر خزانہ معاشی نظام ٹھیک کرنے کے لیے عوام سے قربانی مانگ رہے ہیں۔

عوام تو شروع دن ہی سے قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں مگر اس کا صلہ انھیں کیا ملا' شاید مزید قربانی کا مطالبہ۔ قسمت بدلنے کے حکومتی دعوؤں کا پھل ایک مخصوص طبقے کی جھولی میں گرا اور عوام آج بھی مہنگائی اور غربت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ ایک طرف امرا کا وہ طبقہ ہے جس کا لائف اسٹائل کسی شاہانہ انداز سے کم نہیں مگر یہ طبقہ ٹیکس ادائیگی کے دائرے سے باہر ہے یا معمولی ٹیکس ادا کرتا ہے۔ بعض امرا نے صرف انجوائے منٹ کے لیے بڑے بڑے فارم ہاؤس تعمیر کر رکھے ہیں مگر اول تو وہ ٹیکس نہیں دیتے' اگر دیتے بھی ہیں تو وہ بہت معمولی ہوتا ہے۔

حکومت پوش علاقوں میں بڑی بڑی کوٹھیوں اور فارم ہاؤس پر بھاری ٹیکس عائد کرے تو اس کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزیر خزانہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ زیادہ آمدنی کمانے والے لوگوں پر تیس فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے جن کی تعداد صرف تین ہزار ایک سو چودہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان چند ہزار افراد سے ٹیکس وصولی سے معاشی سمت درست ہو جائے گی۔ حکومت کو معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے امرا' جاگیرداروں' قبائلی سرداروں اور سیاستدانوں کو بھی ٹیکس کے دائرے میں لانا ہو گا۔

ارکان اسمبلی جن کا شمار امراء کے طبقے میں ہوتا ہے حکومت ان کے ٹی اے ڈی اے ، میڈیکل الاؤنس اور دیگر مراعات پر پابندی لگا کر کروڑوں روپے بچا کر عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کر سکتی ہے۔ ارکان اسمبلی کو اتنی زیادہ مراعات دینا بلاجواز ہے کیونکہ وہ خوشحال طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان مراعات پر غریب عوام کا حق ہے نہ کہ امیر ارکان اسمبلی کا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت فی کس آمدنی 1356 ڈالر ہے۔

ایک سال میں فی کس آمدن میں 100 ڈالر اضافے کا ہدف ہے۔ اگر حکومت معاشی سمت درست رکھتی ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے تو 100 ڈالر کا ہدف حاصل کرنا مشکل نہیں لیکن اگر معیشت کی بہتری کے لیے صرف غریب عوام ہی کو کڑوی گولی دی جاتی رہے اور تمام فوائد امرا ہی کو پہنچتے رہے تو معاشی حالات میں بہتری کی امید لگانا مشکل امر ہے۔ یہ عجیب امر ہے کہ فی کس آمدن میں امرا اور غربا کی آمدن کو مجموعی طور پر شمار کر لیا جاتا ہے۔ غریب آدمی کی فی کس آمدن کا طریقہ الگ ہونا چاہیے اس سے پتہ چلے گا کہ غریب آدمی کی فی کس آمدن میں اضافہ ہوا ہے یا غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

وزیر خزانہ کا دعویٰ ہے کہ اشیائے خوردنی پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا مگر جی ایس ٹی کی شرح میں اضافے سے پٹرول، سی این جی سمیت تمام اشیا کی قیمتوں میں خود بخود اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ امر بھی حیران کن ہے کہ جی ایس ٹی کا نفاذ نئے مالی سال کے شروع ہونے سے 17 روز قبل ہی کر دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سردار لطیف کھوسہ نے مالی سال یکم جولائی سے قبل نئے سیلز ٹیکس کے نفاذ کے حکومتی فیصلے کو پارلیمنٹ کی تضحیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نئے ٹیکس آیندہ مالی سال شروع ہونے سے قبل نافذ کر دیے جائیں۔ دوسری جانب تنخواہیں نہ بڑھنے پر سرکاری ملازمین نے مظاہرے شروع کر دیے ہیں اور تنخواہیں بڑھنے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

سرکاری ملازمین مہنگائی سے ایک جانب پریشان ہیں تو دوسری جانب تنخواہیں نہ بڑھنے سے ان کے معاشی حالات مزید دگرگوں ہو جائیں گے۔دوسری جانب یکم جولائی سے بجلی مہنگی ہونے کی نوید بھی سنائی جا رہی ہے۔ اگرچہ وزیرخزانہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سرکاری ملازمین سمیت ساری قوم کا اگلے بجٹ میں بھرپور خیال کیا جائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ معاشی حالات سدھارنے کے لیے حکومت کو سخت فیصلے بھی کرنا پڑیں گے مگر ان فیصلوں کے شکنجے میں امیر اور مراعات یافتہ طبقے کو لایا جائے نہ کہ اس سے عام آدمی کے لیے پریشانیاں پیدا کی جائیں۔ جہاں تک زرعی آمدنی پر ٹیکس کا تعلق ہے وزیر خزانہ نے اسے صوبوں کی ذمے داری قرار دے دیا ہے۔ بڑے بڑے جاگیردار اور زمیندار حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ اگر حکومت ان سے زرعی ٹیکس وصول کرے تو اس سے بھی حکومت کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

مقبول خبریں