امریکا کا روس سے جوہری معاہدہ توڑنے کا اعلان

امریکا روس کے جدید میزائلوں اور دفاعی نظام کو اپنی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔


Editorial/editorial October 23, 2018
امریکا روس کے جدید میزائلوں اور دفاعی نظام کو اپنی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کئی برس سے معاہدے پر عمل نہیں کررہا، اس لیے معاہدہ معطل کر رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ ہم روس کو ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے، انھوں نے سابق امریکی صدر بارک اوباما کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں کہ انھوںنے معاہدہ ختم کیوں نہیں کیا۔

ادھر روس نے امریکا کی جانب سے ایٹمی معاہدہ ختم کرنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا میں واحد عالمی سپر پاور بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ امریکا کا واحد عالمی طاقت بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

سرگئی لاروف نے کہا کہ امریکا کی معاہدے سے دستبرداری چند رعایتوں کے حصول کے لیے بلیک میلنگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر امریکا اسی طرح عالمی معاہدوں سے نکلتا رہا تو جوابی کارروائی کے لیے بشمول عسکری ٹیکنالوجی کے کوئی اور آپشن نہیں رہے گا۔ روس نے واشنگٹن کو تنبیہ کردی کہ اس کے انتہائی خطرناک اقدام کے خلاف جوابی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

امریکی صدر رونالڈ ریگن اور روسی صدر گوربا چوف نے 1987ء میں کم فاصلے اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری اور غیر جوہری میزائلوں پر پابندی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے' اس میں سمندر سے مار کرنے والے ہتھیار شامل نہیں تھے' اس معاہدے کے تحت زمین سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر پابندی ہے' یہ فاصلہ 500سے 5500کلومیٹر ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس نے 1987ء کے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکا کا اصرار ہے کہ روسیوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 'نویٹر9M729' نامی درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا میزائل تیار کیا ہے جسے نیٹو میں ایس ایس سی8کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میزائل کی مدد سے روس نیٹو ممالک کو بہت کم وقت میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

2014ء میں بھی امریکی صدر بارک اوباما نے روس پر آئی این ایف معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا جب اس نے زمین سے مار کرنے والے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ لیکن اوباما نے یہ معاہدہ برقرار رکھا اور اسے توڑا نہیں تھا جسے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ صدر اوباما نے اس پر بات چیت کیوں نہیں کی یا اس معاہدے سے کیوں نہیں نکلے جب کہ روس بہت برسوں سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بنے ہیں عالمی سطح پر وہ کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کرتے رہتے ہیں' انھوں نے 2017ء میں برسراقتدار آنے کے بعد چند مسلم ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔

ٹرمپ ایران کے ساتھ اوباما کے کیے گئے جوہری معاہدے کو بھی توڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ جو نہ صرف امریکا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک متنازع شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں' وہ امریکا کی عالمی سطح پر بالادستی کو ہر صورت قائم رکھنے کے لیے دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص طاقتور قوتوں کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ روس اور چین کی ابھرتی ہوئی قوت سے خائف اور انھیں امریکی عالمی مفادات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں اور وہ ہر صورت ان دو ممالک کو دبا کر رکھنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں لیکن اب وقت بڑی تیزی سے تبدیل ہو چکا ہے، روس ایک بار پھر بڑی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا اور امریکی عالمی مفادات کو چیلنج کر رہا ہے۔

روس ایس 400نامی جدید ترین میزائل دفاعی نظام تیار کر چکا ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک یہ میزائل سسٹم اس سے خریدنے کے لیے معاہدے کر چکے ہیں۔ ایس400میزائل نظام دوسرے ممالک کے کروز میزائل طیاروں یا ڈرون حملوں سے دفاع کا ایک خود کار نظام ہے، اس کا طاقتور ریڈار بیک وقت فضا میں 100حملہ آور اوبجیکٹس کی نشاندہی کر سکتا ہے' یہ 400کلومیٹر فاصلے تک 30کلو میٹر اونچائی تک اوبجیکٹس کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکا روس کے جدید میزائلوں اور دفاعی نظام کو اپنی بالادستی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ روس کو دباؤ میں لانے کے لیے صدر ٹرمپ نے 1987ء کے معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ بہرحال صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے بعد امریکا اور روس کے درمیان جاری سرد جنگ مزید بڑھے گی۔

مقبول خبریں