ہفتہ رفتہ کاٹن مارکیٹس میں تیزی فی من بھاؤ 6 ہزار 800 روپے تک پہنچ گئے

اسپاٹ ریٹ 6ہزار450روپے،مون سون بارشیں قبل از وقت ہونے سے فصل میں تاخیراورمعمولی نقصان کا اندیشہ ہے، احسان الحق


Ehtisham Mufti June 17, 2013
اسپاٹ ریٹ 6ہزار450روپے،مون سون بارشیں قبل از وقت ہونے سے فصل میں تاخیراورمعمولی نقصان کا اندیشہ ہے، احسان الحق۔ فوٹو: فائل

بین الاقوامی سطح کے زرعی تحقیقی اداروںانٹر نیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی کے بعدیونائیٹڈ اسٹیس ڈپارٹمنٹ آ ف ایگریکلچر(یو ایس ڈی اے) کی جانب سے مالی سال2013-14 میں کپاس کی عالمی پیداوار میں نمایاں کمی اور کھپت بڑھنے کی رپورٹس کے اجرا نے گزشتہ ہفتے بھارت سمیت دیگر بین الاقوامی کاٹن مارکیٹس تیزی کا رجحان پیدا کیا۔

جبکہ پاکستان میں قبل ازوقت مون سون کی بارشیں شروع ہونے، کپاس کی نئی فصل کی آمد میں ممکنہ تاخیراورسوتی دھاگے کی قیمتوں میں معمولی اضافے کی وجہ سے روئی کی قیمتوں میں معمولی تیزی رونما ہوئی، مذکورہ بالا عوامل کے سبب گزشتہ ہفتے نیو یارک کاٹن ایکس چینج میں جولائی وعدہ روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ7.60فیصد کااضافہ سامنے آیا جوگزشتہ ایک سال کے دوران ایک ہفتے میںہونے والا سب زیادہ اضافہ ہے جبکہ پاکستان میں روئی کی قیمت میں 100روپے فی من اضافہ سامنے آنے سے نقد ادائیگی فی من پرروئی کی قیمت 6ہزار800روپے اورموخر ادائیگی پر 7ہزار روپے فی من تک پہنچ گئیں۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسو ایشن (پی سی جی اے)کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیو یارک کاٹن ایکس چینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے3.20سینٹ فی پائونڈ اضافے سے 96.40سینٹ فی پائونڈ،جولائی ڈلیوری روئی کے سودے ریکارڈ6.42سینٹ فی پائونڈ اضافے کے بعد91.29سینٹ فی پائونڈ،بھارت میں روئی کی قیمت ایک ہزار250روپے فی کینڈی اضافے سے 40ہزار 250روپے فی کینڈی،چین میں روئی کی قیمت معمولی اضافے سے90یوآن فی ٹن اضافے کے بعد 19ہزار 950روپے فی ٹن جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں فی من روئی کی اسپاٹ قیمت 50 روپے کے اضافے سے 6ہزار 450روپے فی من رہی ہے۔



انہوں نے بتایا کہ وفاقی بجٹ2013-14 میں کاٹن سیڈ کو سیلز ٹیکس ریجیم میں زیرو ریٹڈ کے بجائے سیلز ٹیکس سے مکمل طور پر مستثنی قرار دے دیا گیا ہے، کاٹن سیڈ آئل کی فروخت پر ایک روپیہ فی کلو گرام فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جبکہ کاٹن سیڈ آئل کی فروخت پر سیلز ٹیکس کی شرح 2 فیصد کو برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کاٹن سیزن 2012-13 کے دوران کاٹن جنرز کی طرف سے ٹیکسٹائل ملز کو موخر ادائیگی پر فروخت کی گئی روئی کی ادائیگیاں بعض ٹیکسٹائل ملز مالکان کی طرف سے نہ ہونے جو کہ کروڑوں میں ہیں، کے باعث بعض کاٹن جنرز بڑے معاشی بحرانوں کا شکار ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود مذکورہ ٹیکسٹائل ملز مالکان چھ،چھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک ادائیگیاں کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کاٹن جنرز کے لیے بے پناہ مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔

احسان الحق نے بتایا کہ ملک بھر کے بیشتر کاٹن زونز میں مون سون کی بارشیں قبل از وقت شروع ہونے سے جہاں کپاس کی نئی فصل کی آمد میں کچھ تاخیر متوقع ہے وہیں کپاس کی فصل کو تھوڑا بہت نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے یاد رہے کہ سندھ اور پنجاب کے بعض شہروں میں بعض کاٹن جنرز نے 27/28جون ڈیلیوری کی بنیاد پر روئی فروخت کی تھی جس سے توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ نیا کاٹن جیننگ سیزن جون کے تیسرے ہفتے میں شروع ہو جائے گا تاہم اب اس میں کچھ تاخیر واقع ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں