متحدہ نے سندھ بجٹ کو دیہی اور شہری تفریق قرار دیدیا

شہری علاقوں کے کاروبار پر ٹیکس لگا دیا گیا، سرکلر ریلوے منصوبہ بیرونی فنڈز پر چھوڑ دیا گیا، معین پیرزادہ


Staff Reporter June 18, 2013
74فیصد گیس پیدا کرنیوالے سندھ کو 40فیصد ملتی ہے،تقریر زرداری کی تیار کردہ ہے، حفیظ الدین، مروت، عام آدمی ٹیکسوں سے متاثر نہیں ہوگا، وسان فوٹو فائل

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے سندھ حکومت کے مالی سال 2013-14 کے پیش کردہ بجٹ کو دیہی اور شہری کی تفریق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہری سندھ میں کاروبار پر ٹیکسز لگائے گئے اور زرعی ٹیکس پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

صوبائی فنانس کمیشن کا اجراء نہ کرنا اور کراچی کے میگا پروجیکٹس صرف دو ارب روپے کی رقم کا مختص کرنا کسی صورت قبول نہیں ہوگا ۔ سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی عامر معین پیرزادہ نے کہا کہ بجٹ 2013-14 کا بجٹ بھی ماضی کے بجٹ کی طرح کتابی اور بیوروکریسی کا بجٹ ہے۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے بجٹ میں 181 ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن اس میں سے صرف 97 ارب روپے کی رقم ہی استعمال کی گئی تھی اور اب اس سال ایک بار پھر ترقیاتی فنڈز کے نام پر 185 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کے تین میگا پروجیکٹس کے لیے صرف 2 ارب روپے کی رقم مختص کرنا زیادتی کے مترادف ہے۔



کراچی سرکلر ریلوے کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی بلکہ اس منصوبے کو پچھلے 5سال کی طرحغیر ملکی فنڈز پر چھوڑ دیا گیا ہے اس لیے خدشہ ہے کہ یہ پروجیکٹ اس سال بھی مکمل نہیں ہوسکے گا۔ انھوں نے ٹیکس نیٹ میں اضافے کو شہری علاقوں میں کاروبار کرنے والوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ایسے کاروبار پر لگایا گیا ہے کہ جو سندھ کے شہری علاقوں میں ہوتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی سید حفیظ الدین نے بجٹ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ 72 فیصد گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہے اور بدلے میں اسے صرف 40 فیصد گیس ملتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان نے کہا کہ تنخواہوں میں 10سے 15 فیصد اضافہ خوش آئند ہے اور جن ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے اس سے عام آدمی کسی صورت متاثر نہیں ہوگا۔