پاک ازبک ریلوے شاندار منصوبہ

ازبکستان اور افغانستان نے بھی دونوں ممالک کے درمیان ریلوے لائن کے منصوبے میں توسیع کے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔


Editorial November 03, 2018
ازبکستان اور افغانستان نے بھی دونوں ممالک کے درمیان ریلوے لائن کے منصوبے میں توسیع کے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ فوٹو: فائل

ترجمان دفترخارجہ ازبکستان کے مطابق ازبکستان نے پاکستان کو افغانستان کے راستے پاک ازبک ریلوے لائن بچھانے کی پیش کش کردی ہے، بلاشبہ اس منصوبے کے آغاز سے علاقائی راہداری کے مرکزکی حیثیت سے پاکستان کی صلاحیت اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ رابطہ کاری میں اضافہ ہوگا۔

یہ خوش آیند خبر ازبک وزیرخارجہ کی پانچ رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان آمد اور پاکستانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے ۔ دنیا بھر میں مواصلاتی نظام اور اس کے نتیجے میں باہمی تجارت کے فروغ کا اصول نمایاں اہمیت کا حامل ہے ۔ پاکستان میں ریلوے کا وسیع نیٹ ورک پہلے سے موجود ہے جب کہ لینڈ لاکڈ ازبکستان کی سمندری حدود تک رسائی بہت زیادہ محدود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ازبکستان اور افغانستان نے بھی دونوں ممالک کے درمیان ریلوے لائن کے منصوبے میں توسیع کے معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، اس اقدام سے ازبکستان کو بندرگاہوں تک رسائی ممکن ہو پائے گی ۔2011 میں ازبکستان کی سرکاری ریلوے کمپنی نے ازبکستان اور افغان سرحد کو ملانے کے لیے ایک ریلوے لائن تعمیر کی تھی جو ازبک سرحدی شہر ہیر تان کو مزار شریف سے ملاتی ہے ۔

یادش بخیر1975 میں ذوالفقارعلی بھٹو کے دور حکومت میں پراکس نامی ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا، جس کا کام سعودی عرب ، ایران اور مشرق وسطیٰ سے رابطہ قائم کرنے کے لیے ٹریک بنانا تھا ، لیکن یہ منصوبہ رک گیا جب کہ بارہ برس قبل جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں 'آئرن سِلک روڈ' پر پاکستان دستخط کرچکا ہے، اس منصوبے کے تحت ریل کا سلسلہ سنگاپور سے ترکی تک اور اندرون ایشیا کے علاوہ کئی ممالک سے یورپ کا بالواسطہ ریل رابطہ بھی قائم ہونا تھا۔

''انٹرگورنمنٹل ایگریمنٹ آن دا ٹرانس ایشین ریلوے نیٹ ورک'' نامی معاہدے کا مقصد یہ تھا کہ تمام متعلقہ ممالک کی حکومتیں اس منصوبے کے ڈھانچے پر متفق ہوسکیں ۔ بہرحال پاکستان ، افغانستان اور ازبکستان تک ریل منصوبہ وسطیٰ ایشیا تک رسائی کا بہترین منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے تو بذریعہ ریل ایشیا اور وسط ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی اور تجارتی تعلقات دونوں مضبوط ہوسکیں گے اور پاکستان کو مزید معاشی اقتصادی استحکام حاصل ہوگا۔

مقبول خبریں