آلودگی سے ہونے والی اموات اور غریب ممالک

عالمی سائنسدانوں نے آلودگی کے خاتمے کے حوالے سے چند اقدامات تجویز کیے ہیں۔


Editorial November 06, 2018
عالمی سائنسدانوں نے آلودگی کے خاتمے کے حوالے سے چند اقدامات تجویز کیے ہیں۔ فوٹو: فائل

ایک عالمی طبی جریدے کی رپورٹ میں چشم کشا انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک برس میں آلودگی کے باعث نوے لاکھ انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، یہ سال تھا 2015 ۔ جس میں 92 فی صد اموات غریب ممالک میں ہوئی ہیں جس میں پاکستان کو استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا، دنیا بھر میں فضائی آلودگی کے باعث درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔

عالمی سائنس دان اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سوچ بچار اور تحقیق میں مصروف ہیں ۔ پاکستان میں صورتحال انتہائی سنگین ہے،آلودگی کے سبب بڑے شہر رہنے کے قابل نہیں،کارخانوں،گاڑیوں اور جدید آلات سے خارج ہونے والے دھویں کی وجہ سے اموات کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جن میں ہارٹ اٹیک ، ہیٹ اسٹروک اور پھیپھڑوں کا سرطان شامل ہیں۔

آلودگی کا ایک اور اہم بنیادی سبب گھروں میں لکڑی اورکوئلے کا جلانا بھی ہے جب کہ دوسرا بڑا خطرہ پانی کی آلودگی قرار دیا گیا ہے، وطن عزیزکی ایک بہت بڑی آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہے، جب کہ کام کی جگہ آلودگی کے باعث لوگ زندگی کی بازی ہار رہے ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھرکی شہری آبادی کا 80 فیصد حصہ فضائی آلودگی میں سانس لے رہا ہے، فضائی آلودگی سے لوگوں کی ذہانت کم ہوجاتی ہے، جو قبل از وقت اموات کا بھی سبب بنتی ہے۔کراچی کے ساحلی علاقے مبارک ولیج کے نزدیک زیر سمندر پاکستان کی سب سے خوبصورت آبی حیات اورکورل موجود ہیں، لیکن گزشتہ دنوں یہاں پر تیل پھیلنے سے سمندری حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، تفریحی مقام پر چھٹی والے دن دس سے بارہ ہزار افراد آتے تھے اس اتوارکو یہ جگہ سنسان نظر آئی جس سے مقامی لوگوں کے روزگارکوخطرات بھی لاحق ہیں۔

عالمی سائنسدانوں نے آلودگی کے خاتمے کے حوالے سے چند اقدامات تجویز کیے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ساحلی جنگلات کی تعداد میں اضافہ کرکے فضا میں موجود کاربن ختم کرنے کی صلاحیت کو دگنا کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں ایک وسیع ساحل موجود ہے ، جس پرکام کرنے کی ضرورت ہے، جب کہ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں شجرکاری کی مہم زورشور سے جاری ہے۔

ہماری وفاقی حکومت نے 10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ بنایا ہے، جو عوام کے تعاون کے بغیر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا ۔آلودگی کے حوالے سے عوام میں شعوروآگاہی اجاگرکرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ہماری نسلوں کی بقا کا مسئلہ ہے ۔

مقبول خبریں