ایک زندگی بچانے کیلیے 100 فیکٹریاں بند کر سکتے ہیں واٹر کمیشن

ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کیلیے ہفتے کی آخری مہلت دی، احکام پر عمل نہیں کیا گیا تو فیکٹری سیل کر دیں گے، جسٹس امیرہانی مسلم


Staff Reporter November 06, 2018
صنعتی اراضی پر قائم ریسٹورنٹس اور ہوٹل بند کیے جائیں، مالک آئندہ سماعت پر پیش نہ ہوئے تو ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیں گے۔ فوٹو: فائل

واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے واٹر بورڈ کو تمام شہریوں کو یکساں پانی فراہم کرنے کی ہدایت کردی، کمیشن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک زندگی بچانے کیلیے 100 فیکٹریاں بھی بند کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے احکام پر سندھ ہائیکورٹ میں واٹر کمیشن کی کارروائی جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں ہوئی اور صنعتی پلاٹوں پر کمرشل سرگرمیوں کے معاملے پر فتح ٹیکسٹائل کا نمائندہ اور پولیس افسران پیش ہوئے، واٹر کمیشن نے فتح ٹیکسٹائل کے مالک کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کیا، جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر فتح ٹیکسٹائل کے مالک پیش نہ ہوئے تو ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جائیں گے۔

فتح ٹیکسٹائل کی جانب سے صنعتی اراضی پر ریسٹورنٹس چلانے پر واٹر کمیشن برہم کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریسٹورنٹس اور ہوٹل فوری بند کریں ورنہ انھیں سیل کرا دیا جائے گا، واٹر کمیشن کے روبرو صنعتی فضلہ بغیر ٹریٹمنٹ کے نالے میں پھینکنے کا معاملہ بھی آیا، ڈینم انٹرنیشنل کا مالک واٹر کمیشن میں پیش ہوا، کمیشن نے ریمارکس دیے کہ اگر ایک انسانی جان بچانے کیلیے 100 فیکٹریاں بھی بندکرنا پڑیں تو ہم ایسا ضرور کریں گے۔

ڈینم انٹرنیشنل کے کنسلٹنٹ نے بتایا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی کی مین لائن چوک ہوجاتی جو ہم ہر ماہ خود صاف کراتے ہیں۔ پروڈکشن نہیں روک سکتے، کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ انسانی زندگیوں سے کھیلا جا رہاہے اورکہتے ہیں پروڈکشن کیسے روک سکتے ہیں؟

آپ کی فیکٹری اسی وقت سیل کرنے کا حکم دے سکتے ہیں ،کمیشن نے فیکٹری مالکان کو ایک ہفتے کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا معاملہ حل نہیں ہوا تو فیکٹری سیل کر دی جائے گی، فیکٹری سے کروڑوں روپے کمائے جارہے ہیں اور انسانی جانوں سے کھیلاجارہا ہے ۔

کمیشن نے فیکٹری مالکان کو حکم دیا کہ فیکٹری سے کوئی فضلہ باہر نہیں آئے گا یہ آپ لکھ کردیں، واٹر کمیشن کے روبرو نارتھ کراچی کے مختلف سیکٹرز میں پانی کی قلت سے متعلق بھی معاملہ آیا، ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا کہ پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کمیشن نے استفسارکیا کہ غیر قانونی کنکشن دینے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سیاسی مداخلت کے باعث غیر قانونی کنکشن دیے گئے لیکن اب سیاسی مداخلت ختم ہو چکی، کمیشن نے ریمارکس دیے کسی کو دو دو ہفتے بعد اور کسی کو 24 گھنٹے پانی کیوںدیا جارہا ہے۔

جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے پانی سب کو یکساں فراہم کرنا واٹر بورڈ کی ذے داری ہے، واٹر بورڈ حکام تمام شہریوں کو یکساں پانی کی فراہمی یقینی بنائے، اسی دوران کراچی ضلع وسطی میں پانی کی قلت سے متعلق نارتھ کراچی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بڑی تعداد کمیشن پہنچ گئیں اورکمیشن کو بتایا کہ ہمیں کئی کئی روز بعد پانی فراہم کیا جاتا ہے، ایم ڈی واٹر بورڈ نے اعتراف کیا کہ نارتھ کراچی میں 11 روز بعد دے رہے ہیں۔

جسٹس (ر)امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے 6 لوگوں کو پانی ملے اور 600 لوگ محروم رہیں یہ کہاں کا انصاف ہے، کمیشن نے متعلقہ ایکسین کو طلب کرتے ہوئے کارروائی 7 نومبر تک ملتوی کر دی۔