سکھر سے بازیاب لڑکی کراچی میں والدین کے حوالے

سکھر پولیس نے امہ حبیبہ کے اہلخانہ کوکراچی میں ڈھونڈا، بچی سکھرکے دارامان میں تھی۔


Staff Reporter November 06, 2018
بچی کو اغوا کرنیوالی کریمہ نے اعتراف جرم کر لیا تھا، ماں اور بیٹی گلے لگ کر روتی رہیں۔ فوٹو:فائل

BANGKOK: آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے ناظم آباد کراچی سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کو تلاش کے بعد والدین کے حوالے کرنے سے متعلق سکھر پولیس کی کاوشوں سراہتے ہوئے ایس ایس پی سکھر اور ان کی ٹیم کی کو شاباش دی ہے۔

ایس ایس پی سکھر کے مطابق کراچی سے 2014 میں 10 سال کی عمر میں اغوا کی جانے والی لڑکی امہ حبیبہ کے والدین کو پولیس نے ڈھونڈ لیا اغوا کار خاتون کریمہ بی بی نے گرفتاری کے بعد اعتراف جرم کیا تھا امہ حبیبہ گزشتہ 4 سال سے سکھر کے دارالامان میں مقیم تھی جسے 2014 میں کراچی سے اغوا کر کے روہڑی منتقل کیا گیا تھا، سکھر پولیس نے2014 میں ہی 2 ملزمان کو گرفتار کر کے امہ حبیبہ کو بازیاب کیا تھا تاہم والدین کا پتہ نہ ہونے کے باعث لڑکی کو دارلامان سکھر منتقل کر دیا گیا تھا ۔

سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ کے جسٹس صلاح الدین پنہور نے رواں سال جولائی میں دارالامان کے دورے میں ام حبیبہ کے والدین سے متعلق پوچھا تو تسلی بخش جواب نہ ملنے پر ازخود نوٹس لیا تھا جس پر سکھر پولیس نے امہ حبیبہ کے والدین کو کراچی ناظم آباد سے ڈھونڈ لیادارالامان میں ماں بیٹی گلے لگ کر روتی رہیں امہ حبیبہ اور اس کی والدہ کو گزشتہ روز پیر کو روہڑی کی عدالت میں پیش کرکے قانونی تقاضے پورے کرکے امہ حبیبہ کو والدہ کے حوالے کردیا۔