سی پیک سرمایہ کاری کے نئے راستے

اب پاکستان کی اقتصادی ترقی میں چین کی مدد ہمیں حاصل ہورہی ہے تو یہ ایک خوش آیند اور قابل قدر پیش رفت ہے۔


Editorial November 07, 2018
اب پاکستان کی اقتصادی ترقی میں چین کی مدد ہمیں حاصل ہورہی ہے تو یہ ایک خوش آیند اور قابل قدر پیش رفت ہے۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو چین کو وسطیٰ ایشیا سے جوڑنے کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے یہ منصوبہ نئی سرمایہ کاری، نئی مارکیٹ اور نئے راستے کھول رہا ہے، سی پیک سے رابطوں میں اضافہ اور فاصلے کم ہوں گے، سی پیک چین اور مشرق وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیا سے منسلک کرنے کا ایک میکنزم ہے۔

پی ٹی آئی نے انتخابات میں تبدیلی کے لیے مہم چلائی اور موثر اصلاحات کر رہے ہیں، پاکستان میں احتساب اور ہر شعبے میں شفافیت کا نظام رائج کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ بات شنگھائی میں انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم ٕ کے دورہ چین کے اقتصادی ، سماجی، مالیاتی اور سرمایہ کاری کے ممکنہ و مطلوبہ نتائج و مضمرات پر میڈیا میں بحث جاری ہے ، بادی النظر میں اس دورے کی کامیابی کو سرمایہ کاری کے لیے پر کشش قرار دیا جا رہا ہے اور اس کی منطقی منزل پاک چین اشتراک عمل کے ساتھ ساتھ چین کو مشرق وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیا سے منسلک کرنے کا میکنزم مہیا کرنا ہے، مگر جس بنیادی نکتہ کی طرف قوم اور اپوزیشن جماعتوں کی نگاہ جانی چاہیے وہ سی پیک کو اس کے معنوی تناظر میں پاکستان کے عوام اور دنیا کے سامنے پیش کرنے کی نئی کوششوں سے عبارت ہے۔

اس دورے سے جہاں چینی تجربات سے استفادہ اور اقتصادی تعاون کی ایک طویل المیعاد بنیاد ڈالی جا رہی ہے وہاں درآمد و برآمد کے شعبوں میں پاک چین تجارت اور ثقافتی ، سیاسی اور سماجی ارتباط ،خیر سگالی ، بقائے باہمی اور پیداواری استعداد میں حیران کن رفتار سے ترقی کے نئے راستے کھولے جاسکیں گے، یوں وزیراعظم کے دورہ کو فوری چینی حمایت یا قلیل مدتی مالیاتی پیکیج کے حصول کے بجائے لانگ ٹرم اقتصادی معاہدوں کے سیاق و سباق میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور چین سے خصوصی تعلق اور تاریخی قربتوں کے حوالہ سے دورہ کے محدود اور توہین آمیز معانی نہ تراشے جائیں اور نہ ہی بلا جواز پوائنٹ اسکورنگ ہو بلکہ انتہائی سنجیدگی سے پاک چین معاشی روڈ میپ پر نظر رکھنی چاہیے، اقتصادی معاملات حساسیت لیے ہوتے ہیں، ان پر باریک بینی سے بحث ہونی چاہیے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس میں ملکی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے ان گنت خوابوں کی تعبیر پوشیدہ ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں قراقرم ہائی وے سی پیک کے جدید ہائی ویز کے نیٹ ورک کا حصہ ہے جو گوادر کی بندرگاہ سے جوڑتے ہیں اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا نکتہ آغاز ہے، جس کے اثرات نہ صرف پاکستان میں پڑیں گے بلکہ خطے کی تمام معیشتوں پر بھی اس کے اثرات ہیں، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ عالمی برادری کے مشترکہ مفادات کی تشکیل کرتے ہوئے رابطے بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔

انھوں نے کہا سی پیک منصوبہ نئی سرمایہ کاری، نئی مارکیٹ اور نئے راستے کھول رہا ہے، سی پیک سے رابطوں میں اضافہ اور فاصلے کم ہوں گے، سی پیک دوریوں اور لاگت کو کم کرے گا اور اہم ضروری وسائل پیدا کرنے اور صارفین کے لیے نئی اشیا کی پیداوار میں اضافہ کریگا۔ انھوں نے کہاکہ سی پیک چین اور مشرق وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیا سے منسلک کرنے کا ایک میکنزم ہے، یہ تازہ سرمایہ کاری، نئی مارکیٹ اور نئے راستے کھول رہا ہے، وزیر اعظم نے کہاکہ ایسے وقت میں جب عالمی تجارتی نظام حملے کی زد میں ہے اور بعض کی جانب سے جارحانہ انداز میں یک طرفہ تجارتی مفادات حاصل کیے جا رہے ہیں، چینی صدر شی جن پنگ کا یہ وژن قابل تحسین اور اطمینان بخش ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ چین کے دروازے کبھی بند نہیں ہوں گے بلکہ مزید کشادہ ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا صدر شی جن پنگ کی قیادت کا معترف ہوں، بدعنوان معاشرے میں لوگ کاروبار نہیں کرتے، چین میں پانچ سال میں 400لیڈرز کا احتساب کیا گیا، ہمیں کرپشن کے خاتمے کے لیے اداروں کو مضبوط بنانا ہے، پاکستان میں بدعنوانی ختم ہوگی تو سرمایہ کار آئیں گے۔

قبل ازیں چینی صدرشی جن پنگ نے نمائش سے خطاب میںکہا درآمدات بڑھا کر عالمی برادری سے تعلقات مستحکم تر کرنا چاہتا ہے، چین کے دروازے تمام ممالک کے لیے مزید وسیع کریں گے، تجارت اورسرمایہ کاری کے مواقعے بڑھائے جائیں گے، چین آیندہ 15 سال میں 30 کھرب ڈالر کی اشیا اور 10 کھرب ڈالرکی خدمات درآمد کریگا۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے روسی ہم منصب دمتری میدیدوف نے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک روس تعلقات پراطمینان کا اظہار اور بدلتے علاقائی حالات کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں فروغ پر اتفاق کیا۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سی پیک کے گیم چینجر منصوبہ سے جڑے ہوئے خدشات اور خطرات و اندیشوں کا ازالہ اس امر سے مشروط ہو کہ خطے کی معاشی حرکیات کو سی پیک اور چینی شراکت سے نئے معانی ملیں گے، پاک چین اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہونگے، قوم آسودگی کی شاہراہ پہ گامزن ہوگی۔

یاد رہے چینی صدر شی جن پنگ ایک عہد ساز قومی رہنما ہیں انھوں نے اپنی قوم سے تین سال میں غربت ختم کرنے کا وعدہ پورا کیا اب پاکستان کی اقتصادی ترقی میں چین کی مدد ہمیں حاصل ہورہی ہے تو یہ ایک خوش آیند اور قابل قدر پیش رفت ہے۔

 

مقبول خبریں