ایران پر امریکی پابندیاں

امریکا کی طرف سے ہٹ دھرمی کا اصل مقصد ایران کو اقتصادی طور پر مکمل تباہی سے دوچار کرنا ہے۔


Editorial November 07, 2018
امریکا کی طرف سے ہٹ دھرمی کا اصل مقصد ایران کو اقتصادی طور پر مکمل تباہی سے دوچار کرنا ہے۔ فوٹو:فائل

ایران کے خلاف امریکا نے جو تازہ ترین پابندیاں عائد کی ہیں ان کا نفاذ شروع ہو گیا ہے۔ 2015ء میں امریکا نے ایران کو اس کے جوہری پروگرام کے لیے جو محدود اجازت دی تھی اسے عرف عام میں ''جے سی پی او اے'' کا نام دیا گیا تھا۔

نئی امریکی پابندیوں میں ایران کے بینکاری نظام اور جہاز رانی کے علاوہ سب سے اہم شعبہ ایرانی تیل کے شعبے پر پابندیاں عائد کرنا تھا تاکہ وہ بعض ممالک کو اپنا تیل فروخت کر کے رقم حاصل نہ کر سکے اور یوں ایران اقتصادی شعبے میں امریکا کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔

امریکا کے ساتھ ایران کا اپنے جوہری منصوبے کے حوالے سے جو معاہدہ ہوا تھا اس میں فرانس اور جرمنی کو ایران نے ضمانت کے طور پر شامل کیا تھا مگر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بنتے ہی اس معاہدے کو توڑنے کی کوششیں شروع کر دی گئی تھیں اور اس حوالے سے ایرانی جوہری پروگرام کے دونوں یورپی ضمانتی بھی دیکھتے رہ گئے اور وہ ایران کی کوئی مدد نہ کر سکے حالانکہ یہ معاہدہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان ہی نہیں تھا بلکہ اس میں فرانس اور جرمنی کے شامل ہونے کے باعث اس کی حیثیت ایک بین الاقوامی معاہدے کی سی ہو گئی تھی۔

معاہدے پر دستخط کرنے والوں میں آئی اے ای اے کا عالمی ادارہ بھی شامل تھا جو دنیا بھر کے جوہری پروگراموں کا نگران ادارہ ہے۔ آئی اے ای اے نے تصدیق کی ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی مکمل طور پر پاسداری کر رہا ہے اس لیے اس پر خلاف ورزی کا کوئی الزام عاید نہیں کیا جا سکتا لیکن ان حقائق کے باوجود امریکا کی طرف سے ہٹ دھرمی کا اصل مقصد ایران کو اقتصادی طور پر مکمل تباہی سے دوچار کرنا ہے۔

امریکا کی طرف سے ایران پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ خطے میں امریکا کی مرضی کے منافی اقدامات کر رہا ہے ان میں ایک تو شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت ہے اور اس کے ساتھ حزب اللہ اور حوثی باغیوں کی حمایت کا الزام بھی ہے۔ امریکا کی طرف سے جو جنگ و جدل کے خواہاں عقاب صفت جنگجو موجود ہیں وہ ایران کو کھلے تصادم کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں