یمن میں جنگ بند ہونی چاہیے

یمن کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ کوئی قدرتی عمل نہیں بلکہ سیاسی ناکامی ہے۔


Editorial November 09, 2018
یمن کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ کوئی قدرتی عمل نہیں بلکہ سیاسی ناکامی ہے۔ فوٹو : فائل

یمن میں بد امنی کا خاتمہ،خطے اور بین الاقوامی امن کے لیے ضروری ہے، پاکستان فریقین کے مابین تنازعہ کا سیاسی حل کرنے کے لیے کردار ادا کرے گا، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے یمنی سفیر مطہرالعشبی سے ملاقات میں کیا ۔ یمن میں جاری تنازع نہ صرف امت مسلمہ ، بلکہ اقوام متحدہ کے لیے بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

تین سال سے جاری جنگ میں سعودی عرب اور ایران بھی آمنے سامنے ہیں۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق یمن میں جنگ بندی کی امریکی اپیل کارگر ثابت نہیں ہوئی ہے اور یمن کے شہر حدیدہ میں شدید لڑائی کے دوران گزشتہ 6روز میں200 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یمنی فوج نے حدیدہ بندرگاہ کی جانب پیش قدمی کی ہے، لڑاکا طیاروں اور اپاچی ہیلی کاپٹرز کے ساتھ اتحادی فوج نے محاصرہ کیا ہوا ہے۔ ریڈ کراس نے متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے راستہ دینے اور جنگ کے دوران عام شہریوں اور انفرا اسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچانے کی اپیل کی ہے ۔ یمنی فوج اور حوثیوں کی لڑائی میں اب تک 10ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جب کہ عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ یمن میں انسانی بحران شدت اختیار کرسکتا ہے۔

یمن کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ کوئی قدرتی عمل نہیں بلکہ سیاسی ناکامی ہے۔ اسے سیاسی قحط کا سامنا ہے۔ جنگ سے قبل بھی یمن میں 90 فیصد خوراک بہرحال درآمد کی جاتی تھی۔ خوراک اور امداد کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، یہ وہ خوراک اور امداد ہے جس پر تقریباً دوکروڑ دس لاکھ افراد انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ یمن میں سڑکوں کا برا حال ہوچکا ہے ، شاہراہیں اور پل جنگ کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں ، یمن کے قحط کو انسانوں کی بنائی ہوئی اور سیاسی بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال قراردیا جاسکتا ہے ۔

اس پس منظرکو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کا یہ کہنا کہ یمن میں تنازعے کا حل فوج کے ذریعے نہیں ہوسکتا، تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے،انتہائی بروقت ہے اور مسئلے کے حل کی درست سمت میں نشاندہی کرتا ہے۔

وزیراعظم نے یمنی عوام کی مشکلات دورکرنے اوران کی اپنے گھروں کو بحفاظت یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر زیادہ مربوط کوششوں پر زور دیا ہے ۔اس المناک اور درد ناک صورتحال کو سنبھالنے کے لیے اگر پاکستان کی حکومت فریقین کے درمیان ثالثی کا رول ادا کرے تو یہ انتہائی مستحسن عمل قرار پائے گا۔

مقبول خبریں