امریکی مڈ ٹرم انتخابات میں ٹرمپ کو دھچکا

حالیہ مڈٹرم انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ریپبلکن پارٹی اور ڈونلڈ ٹرمپ غیر مقبولیت کی جانب گامزن ہیں۔


Editorial November 09, 2018
حالیہ مڈٹرم انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ریپبلکن پارٹی اور ڈونلڈ ٹرمپ غیر مقبولیت کی جانب گامزن ہیں۔ فوٹو : فائل

امریکی تاریخ کے سب سے متنازعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منفی پالیسیوں اور متنازعہ بیانات کے منفی اثرات خود ٹرمپ پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور مڈٹرم الیکشن میں امریکی صدر کو شدید دھچکا ایوان نمایندگان اور چار گورنروں سے ہاتھ دھونے کی صورت پہنچا ہے۔

امریکا میں ہونے والے تازہ مڈٹرم انتخابات نے ناصرف امریکیوں میں سیاسی تقسیم کو مزید واضح کردیا ہے بلکہ انتخابی نتائج نے ملک کی دونوں سیاسی پارٹیوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے مابین محاذ آرائی میں شدت، ساتھ ہی ری پبلکن صدر ٹرمپ کے لیے بھی نئے مسائل پیدا کردیے ہیں۔

نتائج کے مطابق امریکی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت بدستور برقرار رہی لیکن ایوان نمایندگان میں ری پبلکن برتری کو ختم کرکے ڈیموکریٹک امیدواروں کی جیت نے نقشہ بدل ڈالا اور امریکی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں پر ڈیموکریٹک پارٹیوں کا کنٹرول ہوگیا۔ مڈٹرم الیکشن کے نتائج آنے پر 100 نشستوں کے سینیٹ میں 51 ری پبلکن اور 45 ڈیموکریٹک نشستیں حاصل ہوں گی جب کہ 435 نشستوں کے ایوان نمایندگان میں 222 نشستیں ڈیموکریٹک اور 199 ری پبلکن ممبران کو حاصل ہوں گی۔

50 ریاستوں کے گورنرز کے عہدوں پر 24 ری پبلکن اور 20 ڈیموکریٹک گورنر منتخب ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوان نمایندگان میں پہلے کے مقابلے میں 30 سے زائد نشستیں مزید حاصل کی ہیں اور گورنروں کی تعداد میں بھی مزید چار کا اضافہ کرلیا ہے۔

حالیہ وسط مدتی انتخابات میں پہلی بار 3 مسلم خواتین بھی امریکی کانگریس میں پہنچ گئی ہیں۔ اگر اجمالی جائزہ لیا جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی کو زیادہ نقصان خود ٹرمپ نے پہنچایا ہے جب کہ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی منفی پالیسیوں کے باعث امریکا کو کمزور کیا اور اسے منفی سمت کی جانب لے گئے۔

امریکی انتخابات سے قبل ہی ٹرمپ کی شخصیت متنازعہ قرار پاچکی تھی لیکن صدر بننے کے بعد نہ صرف ان کے اقدامات اور منفی پالیسیوں نے دنیا خاص کر اسلامی ممالک کو مایوس کیا بلکہ کئی اتحادی ممالک کے ساتھ رابطے کمزور ہوئے، صدر ٹرمپ نے اپنے تمام پیش رو صدور کی اقدار کو یکسر نظر انداز کردیا جنھوں نے خود کو نہ صرف مغربی دنیا بلکہ دنیا بھر کی جمہوری قوتوں کے اعلیٰ ترین لیڈر کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔

امریکی صدر کی مسلم دشمنی بھی بالکل واضح ہے جب کہ خود امریکیوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ طرز عمل ان کی جمہوری روایات کے خلاف ہے۔ حالیہ مڈٹرم انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ریپبلکن پارٹی اور ڈونلڈ ٹرمپ غیر مقبولیت کی جانب گامزن ہیں، صدر ٹرمپ کو اپنے رویوں اور اقدامات پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

مقبول خبریں