میاں صاحب حکمران ہیں خطیب نہیں

اللہ کا دیا بہت کچھ ہونے کے باوجود جب کوئی پاکستانی یہ دیکھتا ہے کہ امریکی نگرانی میں سرگرم عالمی مالیاتی ادارے آئی۔۔۔


Abdul Qadir Hassan June 23, 2013
[email protected]

اللہ کا دیا بہت کچھ ہونے کے باوجود جب کوئی پاکستانی یہ دیکھتا ہے کہ امریکی نگرانی میں سرگرم عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی نظر کرم کے لیے ہماری حکومت ان دنوں اس کی خوشامدیں کر رہی ہے تو یہ پاکستانی اپنی قسمت یا اپنے نئے پرانے حکمرانوں پر ماتم کرتا ہے کہ بدنصیب لوگو خود بھی دنیا بھر میں مذاق کا نشانہ بنتے ہو اور ظاہر ہے کہ اپنی قوم کو بھی رسوا کرتے ہو جب کہ تمہارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ شہید حکیم سعید کہا کرتے تھے کہ خدا نے سورۃ رحمٰن میں انسان کے لیے جتنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے پاکستان میں اس سے زیادہ ہیں۔

یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے لیکن ہمارے حکمران اس قومی اور رحمانی شعور سے بے بہرہ ہیں۔ انھیں کسی گدا گر کی طرح بھنک بھی پڑ جائے کہ فلاں گھر میں خیرات بٹ رہی ہے تو وہ گداگروں کی صفیں چیر کر آگے پہنچ جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ادارے کو بنایا ہی اسی لیے گیا ہے کہ اس کے قرض کے ذریعے کمزور ملکوں کو مزید کمزور کیا جائے اور جو مقروض ہوتا ہے وہ کوئی فرد ہو یا ملک وہ سر نہیں اٹھا سکتا۔ بڑے سرمایہ دار ملکوں کا یہی مقصد ہے کہ وہ کمزور ملکوں کو اپنی منڈی بنا دیں۔ وہ ان کے سامنے سر نہ اٹھا سکیں۔

میں نے آئی ایم ایف کا ذکر ایک کالم میں سرسری سا کیا تھا، یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ ہمارا کوئی حکمران بھی ایسا سوچ سکتا ہے اور قرض کے عذاب کا احساس کرتا ہے۔ پنجاب کے معروف سیاست دان اور ضرورت سے زیادہ سرگرم میاں محمد شہباز شریف کو ان دنوں پاکستان اور آئی ایم ایف کے تعلقات کا علم ہم سے زیادہ ہے اور اپنے ساتھی حکمرانوں کی وہ خوش خبری اور خوشی بھی ان کے سامنے ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف ہمارے بجٹ کو قبول کرتا ہے یعنی ہم اس کی سامراجی ضرورتوں پر پورا اترتے ہیں۔ اب وہ ہمیں مزید مقروض کرنے پر تیار ہے اور اس طرح ہمارے حکمرانوں کے پاس اب فارن ایکسچینج کی بوریاں آرہی ہیں۔

ڈالر ان دنوں ایک سو روپے سے چند پیسے زیادہ ہے اور ہمارے بڑے بہت خوش ہیں کہ گھر بیٹھے ان کے غیرملکی اکاؤنٹ کس طرح خودبخود بڑھتے اور بھرتے جا رہے ہیں۔ ڈالر 65-60 سے سو روپے تک انہی بے رحم لوگوں نے پہنچایا ہے۔ ان کے مکروہ مقاصد پوری بے بس قوم کے سامنے ہیں۔ میں اگر اپنی اشرافیہ کو شریف کی جگہ بدمعاشیہ لکھتا' کہتا ہوں تو شرح صدر کے ساتھ صحیح کہتا ہوں۔ یہ ہیں ہی چور اور بدمعاش لوگ جن کے پاس ایوان اقتدار میں نقب لگانے کے سو راستے ہیں۔ آج پھر انہی کی اکثریت ہماری اسمبلیوں اور وزارتوں پر قابض ہے اور جائز طور پر قابض ہے کہ آزادانہ الیکشن ہوئے اور ہماری قوم نے ان کو ووٹ دے کر اپنی پسند اور مرضی کے ساتھ ان کو اقتدار کے ایوان میں پہنچا دیا۔ اب یہ چڑیاں ہمارا کھیت اگر چگ رہی ہیں تو ہم ابھی سے روتے کیوں ہیں۔ اپنے آزادانہ الیکشن میں اپنی حماقت کا خمیازہ کچھ تو بھگت لیں پھر رونے کو تو عمر پڑی ہے۔

تو بات آئی ایم ایف کی ریشہ دوانیوں سے شروع ہوئی تھی۔ جس پر میں تاشقند میں ایک مختصر سی اطلاع پا کر چیخ پڑا۔ اب اس سے بڑھ کر میاں شہباز نے رونا رویا ہے۔ ملاحظہ فرمایئے۔ ''قرض کی زندگی ذلت کے سوا کچھ نہیں، آئی ایم ایف پنجے گاڑنے کے لیے چکر لگا رہا ہے۔ سیاسی آزادی کے بغیر معاشی آزادی نہیں مل سکتی۔ پاکستان کو بھکاری بنانے کے ذمے دار ہم خود ہیں جو دوسروں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ بہترین سفارت کاری کے باوجود ہمیں بھکاری اور گداگر سمجھا جاتا ہے۔ بھارت معاشی طور پر آگے نکل گیا۔ اب ہمیں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے''۔ یہ باتیں میرے جیسے کسی دیہاڑی دار صحافی کی نہیں ایک حکمران کی ہیں جس کا پورا خاندان ملک بھر کا حکمران ہے اور جو وزارت عظمیٰ اور ملک کے سب سے بڑے صوبے پر بھی حکمران ہے۔

سب کچھ میاں صاحب کے اختیار میں ہے وہ آگے بڑھیں تو قوم کو اپنے آگے پہلے سے موجود پائیں گے لیکن خود تو شاہانہ زندگی بسر کریں اور ہمارے جیسے مزدوروں سے کہیں کہ صرف تم قربانی دو کہ مشکل فیصلوں کا وقت آ گیا ہے۔ تو حضور یہ نہیں ہو سکتا۔ 65 برسوں سے یہی ہو رہا ہے، اب بس۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ اب میاں صاحب جب اس موضوع پر قوم سے بات کریں تو اس کے ساتھ عمل کی ایمان پرور مثالیں بھی ساتھ لائیں تا کہ بادامی باغ کے اس آہن گر کا منہ بند ہو سکے جس نے آزادی ملنے کی خوش خبری پا کر کہا کہ اب ہمیں کوئی بہتر کام مل جائے گا۔ جواب ملا کہ حالات ایسے نہیں ہیں تو اس نے کہا کہ اچھا انگریزوں کی حکمرانی میں بھی لوہا کوٹا اور پاکستانی حکمرانوں کی حکومت میں یہی کرتے رہیں گے۔ بھاڑ میں گئی تمہاری آزادی۔ محترم میاں صاحب آپ مسجد کے کوئی خطیب نہیں کہ صرف وعظ کرتے رہیں ان کا فرمان ایک حکمران کا فرمان ہے' ایک با اختیار اور با وسیلہ شخص کی بات ہے۔ پہلے کچھ کریں پھر کچھ ہمیں بتائیں۔

میرا خیال ہے میں کچھ گستاخی کر گیا ہوں لیکن بات غلط کہی ہو تو پکڑ لیں۔ صرف زبانی کلامی' البتہ ایک بات ضرور عرض کروں گا کہ شعیب بن عزیز کہاں گیا جو آپ کو نئے اچھے شعر بھی فراہم نہیں کر سکتا، وہ اپنا کلام ہی آپ کو دے دے تو کوئی بات نئی تو ہو۔ اس کے پاس شعر کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے جس میں اس کے کچھ اشعار ضرب المثل بھی بن گئے ہیں۔ میرا خیال ہے اس نے اپنا کلام سیاستدانوں سے چھپا کر رکھا ہوا ہے۔ ایران کا ایک شاعر ہجرت کر کے ہندوستان آ گیا۔ شاعر بہت اچھا تھا، مشہور ہو گیا تو ایک دن اس سے کسی نے کہا کہ آپ کے اشعار پر مدرسے میں بحث ہو رہی ہے۔ یہ سن کر وہ یہ کہتا ہوا مدرسے کی طرف بھاگا کہ ''شعر ما کے بمدرسہ برد'' کہ میرا شعر کون ظالم مدرسہ میں لے گیا۔ شعیب بھی سیاسی مدرسے سے دور رہنا چاہتا ہے مگر خود عوام میں سے ہے لیکن اقتدار کے ایوان میں گھومتا پھرتا پایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں