تجاوزات کے خلاف آپریشن اور انسانی مسائل کا ادراک

صدر جیسے مصروف ترین علاقے کی زمین کس قدر قیمتی ہے اس کا سب کو ہی ادراک ہے۔


Editorial November 13, 2018
صدر جیسے مصروف ترین علاقے کی زمین کس قدر قیمتی ہے اس کا سب کو ہی ادراک ہے۔ فوٹو: آن لائن

سپریم کورٹ کی ہدایت پر کراچی میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جس کے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انسداد تجاوزات کے عملے نے ایمپریس مارکیٹ کے اطراف قائم 50 سال پرانی پانچ مارکیٹوں سمیت تمام غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کردیا ہے۔ تجاوزات وہ غیر قانونی عمل ہے جس کی کسی طور حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی لیکن حالیہ دور میں تجاوزات کے خلاف ہونے والے آپریشن میں کئی انسانی مسائل اور المیوں نے جنم لیا جن کا درست ادراک ہونا بھی لازم ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ان گنجان آباد ملکوں میں سے ایک ہے جہاں کوئی شہر اور علاقہ تجاوزات سے مبرا نہیں۔ موجودہ حکومت کے دور اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم کی ہدایت اور سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد ملک بھر میں تجاوزات کے خلاف سخت آپریشن شروع کیا گیا، لاہور کی پرانی مارکیٹوں اور کراچی میں بھی جابجا قائم غیر قانونی شادی ہال، چائناکٹنگ پلاٹس، پارکوں پر رہائشی تعمیرات اور غیر قانونی مارکیٹوں کو مسمار کیا گیا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ صدر میں بارہا تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوئے اور پتھاروں اور ٹھیلوں والوں کو ہٹایا گیا لیکن وہ دوبارہ براجمان ہوگئے، اس صورت میں یہ کہنا صائب ہوگا کہ تجاوزات کے قیام میں زیادہ تر شہروں اور قصبوں کی مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کی ذاتی اغراض اور مفادات شامل ہوتے ہیں۔ صدر جیسے علاقے میں پچاس سال سے قائم مارکیٹیں کیا اس سے قبل انتظامیہ کی نظر میں نہیں آئیں؟

دوسری جانب یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں بھی بااثر افراد نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرکے اپنی تجاوزات مسمار ہونے سے بچالی ہیں۔ صرف یک طرفہ کارروائی نہیں ہونی چاہیے، صدر جیسے مصروف ترین علاقے کی زمین کس قدر قیمتی ہے اس کا سب کو ہی ادراک ہے، اس آپریشن کی آڑ میں بعد ازاں کوئی ''کرپشن'' جنم نہ لینے پائے اس کا بھی خیال رکھا جائے۔

نیز ان کارروائیوں میں دیگر انسانی مسائل کی طرف بھی توجہ نہیں دی گئی، دکانوں کو بنا نوٹس اور متبادل جگہ کی فراہمی سے قبل مسمار نہیں کیا جانا چاہیے تھا، ان مارکیٹوں میں قائم تقریباً ایک ہزار کے قریب دکانیں ختم ہونے کے بعد بے روزگاری کا ایک نیا طوفان جنم لے گا، کئی گھروں کے چولہے بجھ جائیں گے، کیونکہ بیشتر دکانیں کرائے پر حاصل کی گئی تھیں، جن پر لاکھوں کا ایڈوانس اور لاکھوں روپے آرائش پر خرچ کیے گئے۔ نیز ان سابقہ افسران و ذمے داران کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے جن کی موجودگی میں یہ تجاوزات قائم ہوئیں۔ انصاف کو یکساں لاگو کیا جائے۔

مقبول خبریں