گندم کی ذخیرہ اندوزیرمضان میں آٹے کا بحران پیدا ہونیکا خدشہ

فلور ملز مالکان اور چھوٹی چکی مالکان بھی اوپن مارکیٹ سے گندم خرید رہے ہیں


Business Reporter June 24, 2013
فلور ملز مالکان اور چھوٹی چکی مالکان بھی اوپن مارکیٹ سے گندم خرید رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

گندم کی ذخیرہ اندوزی اور حکومت کی ناقص حکمت عملی کے سبب رمضان میں آٹے کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

سندھ میں گندم کی بمپر کراپ ہونے کے باوجود فلور ملز مالکان اور چھوٹی چکی مالکان اوپن مارکیٹ سے گندم خرید رہے ہیں اور گندم کے بیوپاری صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانے نرخ پر گندم فروخت کررہے ہیں۔ کراچی آٹا چکی ایسوسی ایشن نے کنٹرولر جنرل آف پرائسز کمشنر کراچی نام ایک خط میں کہا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ایک ہفتے کے دوران گندم کی قیمت 32روپے سے بڑھ کر 34.50روپے کلو تک پہنچ گئی ہے جبکہ حکومت کے مقرر کردہ گندم صاف کرنے والے ہلرز صاف شدہ گندم 36.50روپے کلو میں چھوٹی چکیوں کو سپلائی کررہے ہیں جس پر 6روپے کلو کی لاگت شامل کرکے چھوٹی چکیوں پر آٹے کی تھوک قیمت 41.50 روپے فی کلو پڑر ہی ہے۔



ایڈیشنل کمشنر کراچی ٹو نے چھوٹی چکیوں کے آٹے کی تھوک قیمت 39 روپے کلو مقرر کی ہے جو پیداواری لاگت سے بھی کم ہے،ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری انیس شاہد نے ایکسپریس کو بتایا کہ گندم کی قیمت میں مسلسل اضافہ جاری ہے جسے روکنے کے لیے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے بصورت دیگر رمضان میں آٹے کی اضافی طلب کو پورا کرنا ناکام ہوگا اور قیمت 50روپے کلو تک پہنچنے کا خدشہ ہے، آٹا چکی ایسوسی ایشن نے کمشنر کراچی سے اپیل کی ہے کہ آٹے کی قیمت گندم کی قیمت کے لحاظ سے مقرر کی جائے تاکہ صارفین کو آٹے کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

مقبول خبریں