لوٹی ہوئی دولت کا سراغ اور حقائق

لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کی بھی عدالتی اور ادارہ جاتی کارروائی کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہونا چاہیے۔


Editorial November 14, 2018
لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کی بھی عدالتی اور ادارہ جاتی کارروائی کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہونا چاہیے۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ 10 ممالک سے 700 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی تفصیلات مل گئیں اور جلد ریفرنس فائل کر دیا جائے گا، ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کے لیے سابق حکمرانوں نے اقامے بنوائے، تمام اقامہ ہولڈرز کی تفصیلات دبئی انتظامیہ سے لے رہے ہیں اور جن لوگوں نے دبئی اور یورپی بینکوں میں پیسے چھپا رکھے ہیں وہ چھپ نہیں سکیںگے۔ سینیٹر فیصل جاوید اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شہزاد اکبر نے یہ انکشافات کیے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اس کو عوام نے مینڈیٹ کرپشن کے خاتمے، بدعنوان سیاست دانوں، بیوروکریٹس، کاروباری مافیا اور اَن ٹچ ایبلز عقابوں کے نشیمنوں کا سراغ لگا کر انھیں قانون کے مطابق عدالتوں سے سزا دلوانی ہے۔

بلاشبہ احتساب وقت کا تقاضہ بھی ہے اور انتظامی شفافیت، اقتصادی ترقی، عوام کی خوشحالی کے لیے پاکستان کو کرپشن فری ملک بنانے کا عہد اور قوم سے وعدہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جمہوریت طرز حکمرانی کی مکمل شفافیت پر ہی قائم رہ سکتی ہے، اسی لیے بعض لوگ کہتے ہیں کہ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے۔ مگر عوام، ماہرین اقتصادیات، میڈیا کے تجزیہ کار،اہل فکر ونظر اور بالخصوص ووٹرز کے ذہنوں میں حکومت کے جاری احتسابی عمل سے کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں، بلاشبہ ملک عدالتی فعالیت کے نئے سنگ میل عبور کر رہا ہے ،کئی ہائی پروفائل کیسز زیر سماعت ہیں۔

قانون و آئین کی حکمرانی کے قیام کی جدوجہد کا عزم چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بارہا اپنے ریمارکس میں ظاہر کر چکے ہیں تاہم 100 دنوں کے ٹارگٹ دورانئے میں اس خوشخبری سے عوام تاحال محروم ہیں جو حکمراں بدعنوانوں کو جلد کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے دیتے رہے ہیں، بادی النظر میں حکومتی انکشافات در انکشافات نے عجیب افراط و تفریط کا سماں باندھ رکھا ہے، بعض سنجیدہ ٹی وی ٹاکس اور تجزیاتی مضامین اور کالموں میں مسند انصاف اور حکومت سے اس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس اور بینکوں سے کھاتیداروں کی رقوم کی غیر قانونی ٹرانزیکشن یا شہریوں کی جمع شدہ رقوم کے نکالے جانے کی مجرمانہ وارداتوں سے اخبارات اور چینلز پر بیانات اور الزامات کی صرف بھرمار کیوں ہے، فالودہ والے کی رقم ابھی تک صیغہ راز میں ہے۔

ادھر ماہرین اقتصادیات ایک الگ کہانی سناتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکوں میں چھپائی گئی ناجائز دولت کی واپسی طلسم ہوشربا ہے۔ بجائے داستاں طرازی کے عدلیہ کے سامنے ٹھوس شواہد، مصدقہ دستاویزات، جملہ رسیدیں، منی ٹریل، شہادتوں سے جڑے سچے گواہوں کو بلا تاخیر پیش کر کے کمیشن،کک بیکس، کرنسی اسکینڈلز، لوٹ کھسوٹ، منی لانڈرنگ اور خورد برد میں ملوث افراد کا بلاامتیاز حساب بے باق کیا جائے، وہ جنہوں نے سرکاری رقوم میں گھپلے کیے ان کا محاسبہ مشکل تو نہیں، جن بیوروکریٹس اور وزرا کے گھر سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے، ان کے خلاف تو کارروائی ہو جانی چاہیے تھی۔

اب بھی وقت ہے کہ حقیقت اور افسانہ گڈ مڈ نہ ہوں تاکہ کھربوں ڈالروں کی اخباری بازیافت، ہزاروں بے نامی اکاؤنٹس کی بے نقابی اور اربوں کروڑوں روپے شہریوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کرنے کی تشویش ناک و الف لیلائی حقائق منطقی انجام تک پہنچائے جاتے جب کہ روزانہ ہونے والے سنسنی خیز معاملات کا عدلیہ میں شواہد پیش کرکے ان کا جلد فیصلہ ہو جانا ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔

کرپشن اور کرپٹ عناصر کے خلاف احتساب کی جاری مہم سے حکومت کے لیے بھی بحرانی اور ہیجانی صورتحال پیدا ہونا غیر فطری بات ہو گی، اپوزیشن کی موجودہ مہم اور صورتحال پر تشویش اور مایوسی کا اظہار بھی بلاجواز نہیں، پی ٹی آئی کے منشور میں احتساب بنیادی نکتہ تھا اور بے یقینی اور ابہام اس نکتہ کا شاخسانہ ہر گز نہیں ہونا چاہیے، شنید ہے کہ منی لانڈرنگ کے دوران 5 ہزارسے زائد جعلی اکاؤنٹس ملے جو عام شہریوں کے نام ہیں جن کے ذریعے پاکستان سے منی لانڈرنگ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا تقریباً 10 ممالک سے منی لانڈرنگ کی معلومات ملی ہیں جس کے مطابق پاکستان سے 5.3 ارب ڈالر باہر لے جائے گئے جو 700 ارب روپے بنتے ہیں اور یہ کل رقم کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔ ان کاکہنا تھا جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور عدالتی حکم ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے میڈیا پر بات نہ کی جائے، ملزمان کی لسٹ جلد سامنے آ جائے گی اور جب تک ریفرنس فائل کرنیکا فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک فہرست سامنے نہیں لاسکتے۔

وزیراعظم کے خصوصی معاون افتخار درانی کا کہنا تھا پچھلے دس سال میں پاکستانیوں نے دبئی میں 15 ارب ڈالر کی پراپرٹی بنائی ہے، اپوزیشن کچھ بھی کر لے احتساب کا عمل نہیں رکے گا۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا دو جماعتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی نہیں چارٹر آف کرپشن سائن کیا تھا جس کو ختم کرنے کے لیے عوام نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا بجا ہے کہ موجودہ حکومت پر عوامی اعتماد کی سب سے بڑی مثال گزشتہ سہ ماہی میں بیرونی ملک سے بھیجی ریکارڈ 7.4 ارب ڈالر ترسیلات زر ہیں۔

تاہم لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کی بھی عدالتی اور ادارہ جاتی کارروائی کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہونا چاہیے۔ عوام تو معاشی آسودگی کے منتظر ہیں۔

 

مقبول خبریں