صنعت ماہی گیری کے مسائل کے حل کی ضرورت

گزشتہ 3 ماہ کے دوران فشریزسیکٹرکی آمدنی 80 فیصد سے کم ہوکر صرف 20 فیصد رہ گئی ہے۔


Editorial November 14, 2018
گزشتہ 3 ماہ کے دوران فشریزسیکٹرکی آمدنی 80 فیصد سے کم ہوکر صرف 20 فیصد رہ گئی ہے۔ فوٹو:فائل

نئی ڈیپ سی فشنگ پالیسی پر عمل درآمد کے خلاف ٹرالرز اورکشتی مالکان کے جاری احتجاج کے باعث کراچی فش ہاربر پر مچھلی کی خروید وفروخت مکمل طور پر بند ہونے سے ملک کو روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔واضح رہے نگراں وفاقی حکومت کی جانب سے تین ماہ قبل فشریز سیکٹرکے لیے نئی ڈیپ سی پالیسی کا اعلان ہوا ہے۔

ماہی گیر حلقوں میںاس پر ملا جلا رد مل دیکھنے میں آیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ اس پالیسی کے نتیجے میں مچھلی کی مجموعی برآمدات میں 11 فیصد کی کمی واقعہ ہوچکی ہے ۔ذرایع کے مطابق غیر ملکی ٹرالروں کو ملکی سمندروں سے مچھلی ، جھینگا اور دیگر غذائی حیات و اجناس نکالنے کا لائسنس دیا گیا ہے اور یہی شرائط پاکستانی ماہی گیروں پر بھی لاگوکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پالیسی کے مطابق بارہ ناٹیکل مائل کی پابندی اور سمندرکو شکارکے لیے 3 زون میں تقسیم کیا گیا ہے جب کہ پالیسی کے حوالے سے ماہی طبقہ دو حصوں میں بٹا ہوا ہے، ماہی گیروں رہنماؤں اور تاجروں کا موقف ہے کہ نئی ڈیپ سی پالیسی، بین الاقوامی ڈیپ ٹرالرز سی فشنگ کے مالکان کے مفاد میں جب کہ دوسری جانب یہ پالیسی سندھ فشریزکے سیکٹر کومشکلات کا سامنا ہوگا۔

ماہی گیر برادری کا کہنا ہے کہ بلوچستان فشریز نے پہلے ہی ''گجے'' پر پابندی لگا رکھی تھی اور اب نئی ڈیپ سی پالیسی کے تحت گجے پر پابندی لگا کر رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 3 ماہ کے دوران فشریزسیکٹرکی آمدنی 80 فیصد سے کم ہوکر صرف 20 فیصد رہ گئی ہے ، خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس پالیسی سے ماہی گیری کی صنعت کو نقصان ہوگا اور اس صنعت سے وابستہ دس سے بارہ لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔

اس جاری صورتحال میں گوکہ دو گروپ سامنے آئے ہیں، پہلا سندھ ٹرالرز اینڈ فشرمین ایسوسی ایشن اور دوسرا پاکستان فشر فوک فورم ہے، ایک دھڑا وفاقی حکومت کی پالیسی پر احتجاج جب کہ دوسرے دھڑے کے مطابق نئی پالیسی سابقہ پالیسوں کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن اصل مسئلہ صنعت ماہی گیری کے وسیع تر مفاد اور اس صنعت سے وابستہ بارہ لاکھ افراد کے روزگار کا ہے ، لہٰذا ضرورت اس بات کی کہ وفاقی حکومت ماہی گیری کی مقامی صنعت کو بچانے کے لیے دونوں گروپوں سے مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ پالیسی پر متوازن طور پر عملدرآمد کرتے ہوئے ماہی گیر کی صنعت کی بقا کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جاسکیں۔

 

مقبول خبریں