فلسطینی گروپوں کا اسرائیل کے ساتھ فائربندی کا مشروط اعلان

فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قیام اور یہودی آبادکاری کے بعد فلسطین کے اصل باشندوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے۔


Editorial November 15, 2018
فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قیام اور یہودی آبادکاری کے بعد فلسطین کے اصل باشندوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

غزہ پٹی میں اسرائیل کے ساتھ متحارب فلسطینی گروپس بشمول حماس نے منگل کو اسرائیل کے ساتھ فائربندی کا مشروط اعلان کیا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ فائربندی کی مفاہمت کی جانب واپسی کے لیے اتفاق رائے ہوگیا ہے۔

اس پیش رفت کا مقصد 2014ء کے بعد فریقین کے بیچ بھڑکنے والے تشدد کے سب سے بڑے شعلے کو بجھانا ہے۔ حماس کے سیاسی بیورو کے رکن خلیل الحیہ نے بدھ کو بتایا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے جارحیت کو پسپا کرنے اور لڑائی کے اصول تبدیل کیے جانے کے بعد مصری وساطت کاروں نے مداخلت کی۔ فلسطینی گروپس نے فائربندی کا اعلان اس شرط کے ساتھ کیا ہے کہ جب تک اسرائیل فائربندی پر کاربند رہے گا اس وقت تک غزہ میں مسلح گروپس بھی اس کی پاسداری کریں گے۔

فلسطین میں جاری خونریزی کے تناظر میں یہ اعلان بروقت اور صائب ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے اب تک فائربندی کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ 2014ء میں بھی مصر نے فائربندی کے لیے ثالثی کا کردار دا کیا تھا جس نے اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے درمیان سات ہفتوں سے جاری جنگ کو اختتام تک پہنچادیا۔ جب کہ دوسری جانب بدھ کی تازہ صورتحال کے مطابق چند گھنٹوں کے دوران غزہ پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب 100 کے قریب راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ اگر جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو وہ حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں کے رہنماؤں کو ہلاک کرنے کی پالیسی کا سہارا لے گا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی نے ایک اسرائیلی ذمے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں فائر بندی سے متعلق خبر درست نہیں ہے۔ فلسطین ایک طویل عرصہ سے اسرائیلی جارحیت کا سامنا کررہا ہے اور فلسطینی گروپ اپنے حقوق اور آزادی کی جنگ میں پیش پیش ہیں۔ جنگ زدہ علاقوں میں کشت و خون اور عوام کی جان و مال کے نقصان کے ساتھ امن و امان کی خراب صورتحال دگرگوں کیفیت اختیار کرجاتی ہے۔

فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قیام اور یہودی آبادکاری کے بعد فلسطین کے اصل باشندوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے۔ افسوسناک امر ہے کہ اقوام متحدہ جیسا بین الاقوامی ادارہ بھی فلسطین پر ہونے والے مظالم پر خاموش ہے۔ نوع انسانی جنگ نہیں بلکہ امن کی متلاشی ہے، عالمی طاقتوں کے مفادات اور مسلم دنیا کے خلاف کارروائیوں نے دنیا بھر میں مسلمان ریاستوں کو شدید بحران کا شکار کررکھا ہے۔ صائب ہوگا کہ اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی کا خاتمہ کرتے ہوئے فلسطینی سرزمین پر مظالم کا خاتمہ کرے۔

مقبول خبریں