ذہن اور قلم کی ندامت

لکھنے کے حوالے سے خواہ وہ کالم ہو یا افسانہ جب ذہن میں موضوع طے ہوجاتا ہے تو ذہن اور قلم...


Zaheer Akhter Bedari June 25, 2013
[email protected]

لکھنے کے حوالے سے خواہ وہ کالم ہو یا افسانہ جب ذہن میں موضوع طے ہوجاتا ہے تو ذہن اور قلم ایک ساتھ رواں ہوجاتے ہیں لیکن بعض وقت کالم کا موضوع تو بالکل سامنے ہوتا ہے لیکن نہ ذہن کام کرتا ہے نہ قلم چلتا ہے پچھلے دو چار دن سے ہم ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہیں۔

پچھلے ایک عشرے سے پورے ملک میں بے گناہ انسانوں کو جس بہیمانہ انداز میں قتل کیا جارہا ہے اس پس منظر میں کوئی بھی انفرادی یا اجتماعی قتل اب ہمارے پورے معاشرے کے لیے نہ کوئی نئی بات ہے نہ حیرت انگیز لیکن 15 جون کو کوئٹہ کی ویمن یونیورسٹی اور بولان میڈیکل اسپتال میں جس سفاکی سے 14 طالبات کو شہید اور 19 کو شدید زخمی کیا گیا اس پر کالم لکھنا بڑا اذیت نام بن گیا ہے جب بھی میں اس سانحے پر قلم اٹھاتا ہوں ضمیر کی طرف سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اس انسانیت کش سانحے پر کالم لکھنا کیا ایک انتہائی منافقانہ اور بے شرمانہ رسم آرائی نہیں؟ کیا ان دہشت ناک سانحات پر برسوں سے ہم جس طرح اظہار مذمت، تحقیقات کے حکم، قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی باتیں کرتے آرہے ہیں کیا یہ سب ایک بے شرمانہ ریاکاری نہیں ہے؟

ویمن کالج کی طالبات کا بہیمانہ غیر انسانی قتل بھی اسی سفاکانہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا جو دہشت گردوں کی روایت رہی ہے۔ ویمن کالج سے جب 14 لاشوں اور 19 زخمی طالبات کو بولان میڈیکل اسپتال پہنچایا جارہا تھا تو کچھ سفاک بھیڑیے اسپتال کے اندر اور اسپتال کی چھت پر پہلے ہی سے اس لیے موجود تھے کہ شہید اور زخمی ہونے والی طالبات کے لواحقین اور شہری انتظامیہ کے اعلیٰ افسر لازماً دوڑے دوڑے اسپتال آئیں گے تو انھیں بھی دھماکوں، گولیوں کی نذر کردیا جائے گا اور ہوا یہی کہ اسپتال میں دو دھماکے کیے گئے۔

جس میں ایک اعلیٰ پولیس افسر شہید اور ایک زخمی ہوا اور اسپتال کی تین معصوم نرسوں کو بھی قتل کردیا گیا۔ مجموعی طور پر اس سانحے میں 22 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے دہشت گردوں نے ایمرجنسی وارڈ کے عملے کو یرغمال بنالیا۔ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 4 دہشت گرد مارے گئے ایک کو زندہ گرفتار کرلیا گیا۔ کالعدم لشکر جھنگوی نے اس قتل عام کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔

ویمن کالج کی طالبات کو جس طرح بارود کے شعلوں کی نذر کردیا گیا اس ہولناک سانحے نے ہمارے ذہن میں مختلف قوموں کی اپنے مرحومیں کی تدفین کی روایات کو تازہ کردیا۔ دنیا میں ہندو قوم کی اس حوالے سے روایت یہ ہے کہ وہ اپنے مرنے والے کی لاش کی تدفین نہیں کرتے بلکہ اسے جلادیتے ہیں اس رسم کو پورا کرنے کے لیے شمشان گھاٹ میں موٹی موٹی لکڑیوں سے ایک چتا تیار کی جاتی ہے جس پر لاش کو رکھ کر آگ لگادی جاتی ہے یہ آگ اس قدر تیز اور خوفناک ہوتی ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے لاش راکھ بن جاتی ہے۔

انسان جب لاش میں بدل جاتا ہے تو پھر اسے دفنائیں، پرندوں کی خوراک بنائیں یا جلائیں کچھ فرق نہیں پڑتا لیکن مہذب انسان لاش کو چتا پر رکھ کر جلادینے کے عمل کو ظالمانہ اور بے رحمانہ کہتے ہیں۔ جب میں اس تناظر میں کوئٹہ کی زندہ اور توانائیوں، امنگوں، آرزوؤں سے بھرپور طالبات کو جل کر راکھ بنتے دیکھتا ہوں تو ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ میں سفاکی کی انتہا کیا ہے؟

پاکستان کے 18 کروڑ دہشت زدہ انسان اس سانحے سے نکل بھی نہیں پائے تھے کہ مردان میں سفاکی کی ایک اور تاریخ رقم کی گئی اگرچہ یہ تاریخ دہشت گردی میں بار بار دہرائی جاتی رہی ہے لیکن مردان کی تحصیل شیرگڑھ میں ایک مقتول کی نماز جنازہ ادا کرنے والوں پر خودکش حملہ کرکے جس بربریت کے ساتھ 30 افراد کو شہید اور 75 سے زیادہ نمازیوں کو جس طرح زخمی کیا گیا ۔کیا اس بربریت کی مثال کافروں ہنود ونصاریٰ وغیرہ میں مل سکتی ہے؟

لگ بھگ دس سال سے ہم یہ خاک و خون کا کھیل دیکھ رہے ہیں ہمارا ردعمل صرف یہ ہے کہ ہم اس قسم کے سانحات کی خبریں اور مناظر میڈیا میں ہر روز دیکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں اور کسی نئے سانحے کا انتظار کرتے ہیں ذہن میں یہ خدشہ اور خوف ہوتا ہے کہ نہ جانے ہماری باری کب آجائے۔ سرکار، دربار اور اہل سیاست مذمتی بیانات اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کے ساتھ اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ زندگی کی رنگینیاں جاری رہتی ہیں۔ کیا انسانی تاریخ میں کوئی ایسی بے حس قوم اور حکمرانوں کی مثال مل سکتی ہے؟

اس ملک کے عوام یہ سوچنے اور سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ دس سال سے جس قتل و غارت کا شکار ہیں اس کے ذمے دار کون ہیں؟ افغانستان میں روسی مداخلت سے پہلے پاکستانی عوام مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی، خودکش حملوں، بارودی گاڑیوں، ٹارگٹ کلنگ، اسکولوں کو بموں سے اڑانے، بزرگوں کے مزارات کو تباہ کرنے، خواتین کو چہار دیواریوں میں قید کرنے، گھر گھر جدید اسلحہ، گلی گلی منشیات کے کلچر سے ناواقف تھے پھر اچانک وہ سب کیسے ہوگیا جس کا آج ملک وقوم کو سامنا ہے؟ امریکا کی تاریخ سیاسی مفادات کی تاریخ ہے اور امریکا کا حکمران ٹولہ کبھی یہ دیکھنے، یہ سوچنے، یہ سمجھنے کی زحمت نہیں کرتا کہ اس کے سیاسی مفادات دوسرے ملکوں، دوسری قوموں کی تباہی و بربادی کا سبب کس طرح بن جاتے ہیں۔

امریکا کا حکمران طبقہ روس کو افغانستان سے نکالنا تو چاہتا تھا لیکن اس مقصد کے لیے وہ اپنی فوج کو استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا سو اس کے منصوبہ سازوں نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے فوج کے بجائے ڈالر کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ پھر ڈالروں کے اس سیلاب میں حکومت دین و ایمان سب بہہ گئے۔ روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے دینی مدرسے مذہبی انتہاپسندوں کی تربیت کے فوجی مراکز میں بدل گئے، کئی مسلم ملکوں سے دہشت گرد امپورٹ کیے گئے۔ یوں ان مذہبی انتہا پسندوں نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے امریکی جہاد کا علم بلند کیا۔ لیکن روس جیسے ہی افغانستان سے چلا گیا امریکا افغانستان سے لاتعلق ہوگیا۔ اور اس کے پیدا کردہ دہشت گرد بے کار اور بے لگام ہوگئے۔ ہماری ایجنسیوں نے انھیں مختلف محاذوں پر کھپانے کی کوشش کی لیکن دہشت گردی بے لگام ہوتی چلی گئی اور 9/11 کے بعد یہ چھوٹے چھوٹے گروہ ایک بڑی تنظیم ایک بہت بڑے نیٹ ورک میں بدلتے چلے گئے ہماری بالادست قوتوں نے ان کی پیش رفت اور طاقت کا اندازہ لگانے کی زحمت نہ کی۔ ہمارے سیاستدانوں نے انھیں اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا شروع کیا ہمارے حکمران اس بلائے عظیم کے نقصانات کا اندازہ لگانے اور بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس خطرے کی نشاندہی کے باوجود لوٹ مار میں لگے رہے اور جب آنکھ کھلی تو ان کے پاس صرف کف افسوس ملنے کا آپشن تھا اور بے بسی کی انتہا تھی۔

9/11 نے خود امریکا کو اس قدر بدحواس کردیا کہ وہ اپنے انجام پر نظر ڈالے بغیر اور روس کی ذلت و رسوائی کا خیال کیے بغیر افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ اور اس حماقت نے جہاں اس کو معاشی تباہی اور اپنی سپر پاوری کے حشر نشر سے دوچار کردیا وہیں پاکستان کی سرزمین کو پاکستان کے بے لگام شہریوں کے خون سے لالہ زار کردیا۔ امریکا جلد افغانستان سے چلا جائے گا، خیبر سے کراچی تک جگہ جگہ قتل گاہیں سجی ہوئی ہیں، ہماری پولیس، ہماری رینجرز، ہماری فوج کے نوجوان آئے روز خودکش حملوں، بارودی سرنگوں، ٹائم بموں، راکٹوں، میزائلوں کا شکار ہورہے ہیں اور عوام اپنے محافظوں کی اس بے بسی کو دیکھ کر سخت خوف و ہراس اور عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں۔ ہماری فوجی تنصیبات، فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملے ہورہے ہیں اور ہمارے محترم سیاستدان پاکستانی عوام کے اس قتل عام کو امریکی جنگ قرار دے رہے ہیں۔

دہشت گردوں کے سامنے ان کی بے بسی اب بے شرمی میں بدل گئی ہے کوئٹہ کی ویمن کالج کی 14 طالبات کی شہادت 19 کی زخم خوردگی اور مردان میں نماز جنازہ پر خودکش حملوں میں 30 نمازیوں کی شہادت 75 سے زیادہ نمازیوں کے زخمی ہونے کے باوجود ہماری محترم حکومت ہمارے محترم سیاستدان مذمتی بیانات سے آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں نہ اس جنگ کو پاکستانی جنگ تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ اگر حکمران اور سیاستدان اس بزدلی کے حصار سے باہر نہ نکلے اور ایک قومی پالیسی بناکر اس عفریت کی سرکوبی کے لیے نہ اٹھ کھڑے ہوئے تو ان کی لاشوں پر کوئی مذمتی بیان دینے والا بھی باقی نہیں رہے گا۔

مقبول خبریں