ٹریفک پولیس کی نا اہلی مختلف علاقوں میں بد ترین ٹریفک جام سے شہری پریشان

گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، ٹریفک جام میں ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں، شہریوں نے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کیا


Staff Reporter June 25, 2013
تین ہٹی پل اور سرشاہ سلیمان روڈ پر ٹریفک جام کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں،شہر کے دیگر مقامات پر بھی ٹریفک کی صورتحال ابتر رہی ۔ فوٹو : ایکسپریس

KARACHI: شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک پولیس کی نااہلی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، ٹریفک جام میں ایمبولینسیں بھی پھنسیں رہیں اور ان میں موجود مریض طبی امداد کے لیے تڑپتے رہے ، شام کو دفاتر سے گھروں کو واپس جانے والے افراد خصوصاً خواتین پریشانی میں مبتلا رہیں ، شہریوں نے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کیا ، شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں ٹھوس بنیادوں پر ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے انھیں ٹریفک جام کے عذاب سے چھٹکارا مل سکے ، تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزشہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک پولیس کی نااہلی اور ناقص حکمت عملی کا خمیازہ ایک مرتبہ پھر شہریوں کو ٹریفک جام کی صورت میں بھگتنا پڑا ۔

ٹریفک جام کے دوران ٹریفک پولیس کے اہلکار بیشتر شاہراہوں سے یکسر غائب ہوگئے اور شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹریفک کو کنٹرول کیا ، ٹاور ، برنس روڈ ، آئی آئی چندریگر روڈ ، ایم اے جناح روڈ ، جامع کلاتھ ، ڈینسو ہال ، بولٹن مارکیٹ ، صدر ، لکی اسٹار ، ریگل ، پریڈی اسٹریٹ ، نیو پریڈی اسٹریٹ ، نمائش چورنگی ، گرومندر ، لسبیلہ ، ناظم آباد ، تین ہٹی ، لیاقت آباد ڈاکخانہ ، لیاقت آباد دس نمبر ، کریم آباد ، عائشہ منزل ، واٹر پمپ ، سہراب گوٹھ ، نارتھ ناظم آباد ، میٹرو پول ، ایف ٹی سی ، کارساز ، ڈرگ روڈ ، ناتھا خان پل ، ملیر ، قائد آباد ، ڈیفنس ، کلفٹن ، کورنگی روڈ ، قیوم آباد انٹرچینج ، گلشن اقبال ، گلستان جوہر اور دیگر علاقوں میں شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ، ٹریفک جام میں ایمبولینسیں بھی پھنسی رہیں۔



جن میں موجود مریض طبی امداد کے لیے تڑپتے رہے جبکہ ڈرائیور ہوٹر بجا کر راستہ طلب کرتے رہے لیکن ان کی کوششیں بے سود رہیں ، پبلک ٹرانسپورٹ میں پھنسے مسافر بھی شدید گرمی و حبس کے باعث بے حال ہوگئے ، سر شام دفاتر سے گھروں کو واپس جانے والے افراد کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، خصوصی طور پر خواتین شدید پریشانی میں مبتلا رہیں اور گھروں کو پہنچنے میں انتہائی تاخیر کا سامنا رہا ، موبائل ٹیلی فون پر اہل خانہ ان کی خیریت دریافت کرتے رہے ، مختلف شاہراہوں پر بیشتر گاڑیوں میں ایندھن بھی ختم ہوگیا جس کے باعث شہری گاڑیاں پارک کرکے کھڑے رہے۔

جس کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب ہوگئی، شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس میں ایسے فرض شناس اور ایماندار افسران تعینات کیے جائیں جو شہریوں کو ٹریفک جام کی پریشانی سے چھٹکارا دلانے میں سنجیدہ ہوں ۔