طاہر خان داوڑ کا افغانستان میں قتل

سیکیورٹی کے حوالے سے موجود نقائص کا جائزہ لینے کے لیے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے۔


Editorial November 16, 2018
سیکیورٹی کے حوالے سے موجود نقائص کا جائزہ لینے کے لیے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ فوٹو:فائل

افغانستان میں شہید ہونے والے ایس پی رورل ڈویژن پشاور طاہر خان داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ پاکستان نے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سانحے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور پاکستان کو اس سے آگاہ کیا جائے۔

افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایس پی طاہر خان داوڑ کی لاش ننگر ہار کے ضلع دربابا میں مقامی لوگوں کو ملی۔ وزیراعظم عمران خان نے ایس پی طاہر خان داوڑ کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ بی بی سی کے مطابق خراسان ولایہ نامی تنظیم نے طاہر خان کے اغوا اور شہید کرنے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

ایس پی طاہر خان داوڑ 26 اکتوبر کو اسلام آباد اپنے گھر گئے جہاں سے وہ گزشتہ روز لاپتہ ہو گئے تھے، 28 اکتوبر کو تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرکے پولیس کی تحقیقاتی ٹیم بنا دی گئی تھی۔ایس پی طاہر خان کے فون سے آخری لوکیشن ایف ٹین کی سامنے آئی تھی۔بتایا گیا کہ بنوں میں پوسٹنگ کے دوران طاہر داوڑ کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں ملی تھیں۔19 دن بعد افغانستان سے ان کی نعش ملنے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی مگر پاکستانی حکام نے تصدیق سے انکار کر دیا تھا۔

سینیٹ میں ایس پی طاہر داوڑ سے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیرمملکت داخلہ شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ طاہرداوڑ پاکستان کے وہ غیرت مند بیٹے تھے جن پردو دفعہ حملے ہوئے،ان کے بھائی اور بھابھی کو بھی شہید کیا گیا اور طاہرداوڑکو دھمکیاں بھی موصول ہوتی تھیں جب کہ طاہر داوڑ کا اہلخانہ کو آخری پیغام تھا کہ میں محفوظ ہوں، آپ پریشان مت ہوں اور پھر 28 اکتوبرکوطاہرداوڑ کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آردرج کی گئی۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ ایس پی طاہر داوڑ کا قتل تکلیف دہ واقعہ ہے اور یہ واقعہ پولیس کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے تاہم ریاست کا وعدہ ہے جو واقعے کے ذمے دار ہیں انھیں کیفرکردارتک پہنچائیں گے۔ وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کا انتہائی سخت انتظام ہے جسے موثر بنانے کے لیے جا بجا سیکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے ہیں' تمام تر سیکیورٹی کے باوجود ایک پولیس افسر کا وفاقی دارالحکومت سے اغوا اور پھر وہاں سے صوبہ خیبرپختونخوا سے گزر کر سرحد پار افغانستان میں جانا پورے ریاستی نظام اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

یہ اغوا ان خدشات کو جنم دیتا ہے کہ دہشت گردوں اور انڈر ورلڈ مافیا کا نظام انتہائی موثر اور طاقتور ہے اور انھوں نے ملک بھر میں اپنے خفیہ اڈے قائم کر رکھے ہیں' اس سے یہ امر بھی سامنے آتا ہے کہ یہ بے شناخت دہشت گرد پورے معاشرے میں آزادانہ گھوم رہے ہیں جن کے سامنے تمام ریاستی اور سیکیورٹی ادارے بے بس ہیں۔ دہشت گردوں نے ایک پولیس افسر کو اسلام آباد سے اغوا کر کے اپنی قوت کا اظہار کیا ہے کہ وہ جب چاہیں کسی کو بھی اغوا کر کے سرحد پار لے جا کر قتل کر سکتے ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹ میں بیان دے رہے ہیں کہ ایس پی طاہر کے ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا لیکن سوال وہی ہے کہ جب ان کی تمام فورس اور سیکیورٹی ادارے ایک پولیس افسر کے اغوا اور سرحد پار لے جانے کے عمل کو نہیں روک سکے تو وہ بے چہرہ ذمے داروں کو کیسے گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر کا اغوا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں دہشت گردوں کے ہینڈلرز پاکستان میں موجود ہیں۔

مولانا سمیع الحق کا قتل بھی تا حال معمہ ہے اور قاتلوں کا سراغ نہیں ملا۔ پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کے لیے بڑی تیزی سے خار دار تار نصب کی جا رہی ہے اس کے علاوہ متعدد چوکیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔

کچھ حلقے ان سیکیورٹی چوکیوں کے وجود کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ بڑی شد و مد سے کرتے ہیں۔ ایس پی طاہر داوڑ کا اغوا اور قتل ایسے حلقوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ اگر سیکیورٹی چوکیوں کو ختم کر دیا گیا تو پھر ایسی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔

سیکیورٹی کے حوالے سے موجود نقائص کا جائزہ لینے کے لیے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے اور اگر اس مسئلے پر روایتی بیان بازی اور تساہل کا رویہ ہی اختیار کیا گیا تو پھر دہشت گرد پورے ریاستی نظام کے لیے خوف کی علامت بنے دندناتے پھریں گے اور کسی کی جان و مال محفوظ نہیں رہے گی۔لہٰذا وقت کی یہ ضرورت ہے کہ افغانستان کی سرحد کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جائے اور اس سرحد سے متصل علاقوں میں قانون کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

مقبول خبریں