دیکھنا یہ چاہیے
ایک زمانہ فرعونوں، بادشاہوں اور سلطانوں کا تھا جن کے خزانے میں آنے والی دولت ان کی ذاتی ملکیت ہوتی تھی ...
ایک زمانہ فرعونوں، بادشاہوں اور سلطانوں کا تھا جن کے خزانے میں آنے والی دولت ان کی ذاتی ملکیت ہوتی تھی اور ان کی خواہش کے مطابق خرچ کی جاتی تھی۔ لیکن جب زمانہ بدلا اور حکومت کے انداز بدلے گئے، حکومتوں کے پاس مختلف ذرایع سے دولت آنے لگی اور شاہوں کے مقبروں اور ان کے محلات پر خرچ ہونے والی کثیر دولت کے ساتھ ہی انھیں اندازہ ہوا کہ عوامی فلاح وبہبود پر بھی سرکاری خزانے سے رقم خرچ کیے بغیر چارہ نہیں تو اس کے بعد ہی آمدنی اور اخراجات کا حساب رکھا جانے لگا۔ فرانسیسی کے قدیم لفظ Bougette کی انگریزی شکل 'بجٹ' ہے۔ فرانسیسی میں اس کا مطلب ''روپیا پیسا رکھنے کا بٹوا' ہے۔
جس طرح برطانوی پارلیمنٹ کو ''پارلیمان کی ماں'' کہا جاتا ہے۔ اسی طرح بجٹ بنانے اور پارلیمنٹ میں پیش کرنے اور منظور کرانے کاآغاز بھی برطانیہ سے ہوا جہاں شاہی خزانے میں آمدنی اور اسے خرچ کرنے کا حساب رکھنے کے لیے باقاعدہ ایک محکمہ بنایا گیا۔ اس حوالے سے اصلاحات کا عمل صدیوں جاری رہا۔ صنعتی انقلاب کے بعد 18 ویں صدی میں ''سالانہ بجٹ'' کا جدید تصور پہلی بار سامنے آیا۔ 18 ویں صدی کے اختتامی برسوں میں انکم ٹیکس متعارف کرایا گیا۔
اس زمانے میں حکومت کی زیادہ آمدنی زراعت سے ہوا کرتی تھی اور زرعی ٹیکس اپریل میں جمع کیا جاتا تھا لہٰذا بجٹ بھی اسی مہینے میں پیش کیا جانے لگا۔ برطانوی ہندوستان پر نظر ڈالی جائے تو یہ درست ہے کہ برطانیہ نے ہم پر ایک سامراجی طاقت کے طور پر حکومت کی لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں کئی جدید ادارے دے کر یہاں سے رخصت ہوا، ان ہی میں سے ایک بجٹ ہے۔ ہندوستان کی تاریخ کا پہلا بجٹ ایک ایسے ماہر معاشیات نے پیش کیا جسے کارل مارکس نے اعلیٰ پائے کا ماہر معاشیات قرار دیا تھا۔ برطانوی شہری جیمز ولسن اس انڈین کونسل کامالیاتی رکن ہوا جو ہندوستان کے وائسرائے کو مشاورت فراہم کیاکرتی تھی۔اسی جیمز ولسن نے ہندوستان کا پہلا بجٹ 18 فروری 1869 کو پیش کیا تھا۔
1947 میں ہندوستان آزاد ہوکر دو حصوں میں تقسیم ہوا تو مسلم لیگ کو اچانک پاکستان کا پہلا بجٹ بنانے کا امتحان درپیش ہوگیا۔ نو آزاد ملک کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ایسے میں بجٹ بنانا ایک ناممکن عمل تھا۔ ہمارے یہاں گاندھی جی کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا جاتا۔ لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کا اعتراف ہمیں کم از کم 65 برس بعد کرلینا چاہیے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کی طرف سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ اسے ریزرو بینک آف انڈیا سے اس کے حصے کی رقم ادا کی جائے۔ بعض انتہا پسند ہندوستانی سیاستدان ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔
اس نازک وقت میں گاندھی جی نے پاکستان کے اس مطالبے کی حمایت کی کہ اسے انڈین ریزو بینک کے ذریعے اس کا جائز حصہ ملنا چاہیے۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے بھرپور آواز بلند کی اور اپنی بات منوانے کے لیے مرن برت (موت تک فاقہ کشی) رکھا۔ جس کی وجہ سے انتہا پسندوں نے انھیں 'پاکستان کا ایجنٹ، تک کے القاب سے نوازا۔ گاندھی جی کی وجہ سے ریزو بینک آف انڈیاسے پاکستان کو اثاثے اور نظام حیدر آباد دکن نے اس زمانے میں پاکستان کو 20 کروڑ روپے دیے جو آج کے حساب سے کم از کم 200 ارب روپے کے مساوی ہے۔ان دونوں سہولتوں کی وجہ سے پاکستان 1948-49کا اپنا پہلا بجٹ بنا پایا۔ اس وقت پاکستان مسلم لیگ کی حکومت تھی، وزیر اعظم لیاقت علی خان تھے اور وزیر خزانہ غلام محمد نے 28 فروری 1948 کو نواسی کروڑ سات لاکھ (89,700,000) کا بجٹ پیش کیا۔
گاندھی جی اپنی اس انصاف پسندی کی بناء پر ایک مہاسبھائی ناتھو رام گوڈے کی گولی سے ہلاک ہوئے لیکن ہم آج بھی انھیں شاطر، عیار اور مکار کے خطابات سے نوازتے ہیں۔
پاک ہند تعلقات کے حوالے سے ہم نے 65 برسوں میں غلط تاریخ پڑھا کر ذہنوں کو مسموم کررکھا ہے۔ اس لیے یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح، مہاتما گاندھی کے پاکستان دوست کردار کی بہت قدر کرتے تھے۔ ان دو بڑے رہنماؤں کے درمیان بدترین سیاسی تلخی اوراختلافات کی تاریخ دہائیوں پرانی تھی لیکن پاکستان کا پہلا بجٹ بنانے میں گاندھی جی کے کردار کا عملی اعتراف اس طرح ہوا کہ جب دہلی میں ناتھو رام گوڈے کے ہاتھوں گاندھی جی کا قتل ہوا تو پاکستان میں ان کے قتل پر سرکاری طور پر سوگ منایا گیا، تمام سرکاری ادارے بند رہے اور قومی پرچم سرنگوں رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کے پاکستانی رہنماؤں کو یہ بات یاد تھی کہ ہندوستان کے مرکزی اثاثوں میں سے پاکستان کو اس کا حصہ دلوا کر گاندھی جی نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا تھا اور ان کی جان بھی اسی لیے گئی تھی کہ وہ ہندو انتہا پسندوں کی نظر میں پاکستان کے ایجنٹ تھے۔
اس موقعے پر قائد اعظم نے گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ'' موت کے موقع پر کسی متنازعہ بات کا کوئی محل نہیں۔ ہمارے درمیان جو بھی سیاسی اختلافات تھے وہ اپنی جگہ، لیکن وہ ان عظیم ترین انسانوں میں سے ایک تھے جنھیں ہندو برادری نے پیدا کیا۔''
پاکستان میں جمہوریت کا سفر جاری رہتا اور تقسیم کی نفرتوں کو بھلاکر باہمی امن اور دوستی کو فروغ دیاجاتا تو ہمارا ملک اس قدربدحال نہ ہوتا۔ آج ہم اس خطے کے سب سے تباہ حال ملک ہیں۔ 65 برسوں بعد پاکستان کا بجٹ 2013-14 جن بدترین حالات میں بنا ہے، اس کا سرسری تذکرہ ہی یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے زوال کا سفر کتنی تیز رفتاری سے کیاہے۔ نئی حکومت کو ورثے میں جو ملا وہ کچھ یوں ہے:
-1 بیرونی قرضوں کی ادائیگی: 12 کھرب روپے،-2 گردشی قرضے:5کھرب روپے، -3 سرکاری اداروں کا نقصان: 5 کھرب روپے، -4 دفاع اور تنخواہیں: 7 کھرب روپے۔ مذکورہ چار شعبوں میں 27 کھرب کی رقم خرچ ہونی ہے، ان میں تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچر اور درجنوں دیگر اخراجات شامل نہیں ہیں۔ 30 جون 2013 تک ملک کی متوقع کل آمدنی 18 کھرب روپے ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ 900 ارب 9) کھرب) کا نقصان کہاں سے پورا ہوگا؟ تعلیم ترقی، صحت اور ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کے لیے مزید 8 کھرب روپے کہاں سے آئیں گے؟
آئیے اس حوالے سے ممکنات پر گفتگو ہوجائے۔
بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے 12 کھرب کاکیا کیا جائے؟ کیا اس کی ادائیگی سے انکار کردیا جائے؟ انکار کی صورت میں ملک بین الاقوامی سطح پر دیوالیہ قرار پائے گا ۔ درآمدات ، برآمدات اور تجارت سب ختم ہوجائے گی۔ لہٰذا 2013-14 میں 12کھرب ادا کرنے ناگزیر ہیں۔
گردشی قرض جو 5 کھرب روپے کا ہوچکا ہے۔ اس کا کیا کیا جائے؟ پہلا کام تو یہ ہوسکتا ہے کہ بجلی کے صارفین سے بجلی کی پوری لاگت وصول کی جائے۔ 8 روپے کے بجائے 16 روپے فی یونٹ وصول کیے جائیں۔ اس فیصلے سے گردشی قرضے پیدا ہی نہیں ہوں گے۔ لیکن ایسا کرنے سے بھیانک مہنگائی ہوگی اور لوگوں کی پوری ماہانہ آمدنی صرف بجلی کے بل ادا کرنے پر خرچ ہوجائے گی۔ اگر یہ سب نہیں کرنا ہے تو پھر حل یہی ہے کہ پہلے حکومت گردشی قرضے اتارے اس کے بعد بجلی کی لاگت کم کرنے کے منصوبوں پر کام ہو تاکہ یہ مسئلہ ختم ہوسکے۔
اب آتے ہیں اس پانچ کھرب روپے کی طرف جو حکومت کو پی آئی اے اور اسٹیل ملز جیسے بہت سے سرکاری اداروں کے نقصانات پورا کرنے کے لیے خرچ کرنے ہیں۔ اس کا ایک حل یہ ہے کہ نقصان میں چلنے والے اداروں کو بند کردیا جائے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ کارکنوں کی چھانٹی کی جائے۔ تیسرا حل یہ ہے کہ اونے پونے داموں ان کی نجکاری کی جائے۔ یہ سارے حل نقصان دہ ہیں۔ کرنا یہ ہوگا کہ پہلے قومی اداروں کو نقصان سے نکالنے کی کوشش کی جائے اور بعد ازاں جن اداروں کی نجکاری کا ضروری ہو ان کی نجکاری کردی جائے تاکہ قومی اثاثوں کی بہتر قیمت حاصل ہو اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں ہے۔
حکومت کے ناگزیر اخراجات میں دفاعی اخراجات اور اس سے متعلق دیگرخرچے ہیں جو 7 کھرب روپے سے بھی زیادہ ہیں۔ مثالیت پسند یہی کہیں گے کہ ان اخراجات کو فوراً کم کردیا جائے ۔ عملاً خطے میں جو صورتحال ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج جو کردار ادا کررہی ہے، مزید برآں امریکا کے افغانستان سے جانے کا مرحلہ بھی سامنے ہے۔ ایسے حالات میں حکومت سے اس ضمن میں کسی بھی قسم کی کٹوتی کی توقع رکھنا درست نہیں۔ریاست کے اخراجات اس کی آمدنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ بجٹ 2013-14میں ان اخراجات کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بجٹ سے بڑی امیدیں وابستہ کرنا غلط ہوتاہے۔ بجٹ تو آتے جاتے رہتے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ جب معیشت ترقی کرے گی تو حکومت کی آمدنی بڑھے گی اور اخراجات کا بوجھ عوام پر سے کم ہوجائے گا۔حکومت کی معاشی پالیسیاں درست سمت میں ہوں گی تو لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور ملک بھی ترقی کرے گا۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی سمت درست ہے یا نہیں؟