حاجی عبدالوہاب کا انتقال‘ دعوت دین کا روشن چراغ بجھ گیا

ان کا شمار پاکستان کے ان پانچ لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔


Editorial November 20, 2018
ان کا شمار پاکستان کے ان پانچ لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ فوٹو:نمائندہ ایکسپریس

تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب طویل علالت کے بعد ہفتے کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے' انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات پر صدر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب، مسلم لیگی رہنماؤں، ق لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین ، جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نوابزادہ شازین بگٹی و دیگر نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کی وفات کو قومی نقصان قرار دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا حاجی عبدالوہاب کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، خدا ان کے درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ حاجی عبدالوہاب گزشتہ کئی برسوں سے علیل تھے' انھیں ڈینگی بخار کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا' ان کے سانس اور سینے میں بھی تکلیف تھی اور وہ گزشتہ کئی روز سے وینٹی لیٹرپر تھے' وفات کے وقت ان کی عمر 95برس تھی۔

حاجی عبدالوہاب یکم جنوری1923ء کو بھارت کے شہر دہلی کے علاقے سہارنپور یوپی میں پیدا ہوئے۔ آپ کا آبائی گاؤں گمتھلہ راؤ تحصیل' نیسر ضلع کرنال انبالہ ڈویژن ہے۔ ہجرت کے بعد آپ پاکستان میں ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا کے چک نمبر EB/331 ٹوپیاں والا میں آباد ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انبالہ کے سکول میں حاصل کی۔

گریجویشن اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے کی جہاں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی بھی آپ کے استاد رہے۔ انھوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور تحصیلدار کیا لیکن کچھ عرصہ بعد ہی ملازمت چھوڑ کر 1944ء میں دینی جماعت سے وابستہ ہو گئے۔مولانا عبدالوہاب بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی' مولانا محمد یوسف کاندھلوی' مولانا انعام الحسن کاندھلوی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ تبلیغی جماعت کے پہلے امیر محمد شفیع قریشی کی وفات کے بعد دوسرے امیر حاجی محمد بشیر مقرر ہوئے اور ان کی وفات کے بعد حاجی عبدالوہاب عالمی تبلیغی جماعت کو تیسرا امیر مقرر کیا گیا۔

انھوں نے اپنی نوجوانی میں تحریک ختم نبوت میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مسلم دنیا کی 500 بااثرشخصیات میں ان کا 10ویں نمبر تھا' ان کا شمار پاکستان کے ان پانچ لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کر رکھی تھی' ان کے ہاتھ پر ہزاروں غیرمسلم مشرف بہ اسلام ہوئے۔ وہ تفرقہ بازی اور سیاست سے دور رہے اور اپنی تمام تر توجہ دعوت دین پر مرکوز رکھی۔ ان کی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا' ان کی وفات سے دعوت دین کا ایک روشن باب تمام اور عالم اسلام ایک عظیم داعی سے محروم ہو گیا۔ اللہ تعالی مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

مقبول خبریں