شمالی کوریا نے امریکی معاہدوں پر نظر ثانی کی دھمکی دیدی

شمالی کوریا کے حکام نےامریکی ماہرین کو بتایا کہ وہ 29فروری کے معاہدے میں مزید دلچسپی نہیں رکھتے،فارن پالیسی میگزین۔


AFP August 19, 2012
امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین کے ساتھ حالیہ ملاقات میں بھی سخت رویہ تھا، فارن پالیسی میگزین. فوٹو:اے ایف پی۔

ISLAMABAD: شمالی کوریا نے جوہری پروگرام کے بدلے میں امریکا کی جانب سے انسانی اور توانائی امداد کی رعایتوں سمیت متعدد معاہدوں پر نظرثانی کی دھمکی دی ہے ۔یہ بات فارن پالیسی میگزین نے بتائی۔مذاکرات سے آگاہی رکھنے والے دو نامعلوم ذرایع کے حوالے سے میگزین نے بتایا کہ گزشتہ ماہ سنگاپور میں شمالی کوریا کے درمیانے درجے کے حکام اور امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرین کے درمیان ملاقات میں شمالی کوریا کی جانب سے اپنے موقف میں سختی کا اظہار کیا گیا۔

ان مذاکرات میں اقوام متحدہ کے لیے شمالی کوریا کے نائب سفیر ہانگ سونگ ریئول اور شمالی امریکا امور کے بیورو کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل چوسن ہوئی شریک ہوئے تھے۔امریکا کی جانب سے سابق امریکی ایٹمی مذاکرات کار جوئیل وٹ کی قیادت میں جوہری خطرات اقدامات کے بین الاقوامی پروگرام کے نائب صدر کورے ہینڈرسٹین نے شرکت کی فارن پالیسی کے مطابق شمالی کوریا کے حکام نے امریکی ماہرین کو بتایا کہ وہ 29فروری کے معاہدے میں مزید دلچسپی نہیں رکھتے ،جس کے تحت امریکا نے شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام میں رعایتوں کے حوالے سے خوراک کی امداد کا وعدہ کر رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ڈی نیوکلیئرائزیشن کے گزشتہ کے معاہدوں پر بھی نظرثانی کر رہے ہیں۔