آئی ایم ایف سے مذاکرات بے نتیجہ

دوسرا راؤنڈ آیندہ سال جنوری میں فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد شروع ہوگا۔


Editorial November 23, 2018
دوسرا راؤنڈ آیندہ سال جنوری میں فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد شروع ہوگا۔ فوٹو: آئی ایم ایف ٹوئٹر

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے مابین کوئی بریک تھرو نہ ہوسکا۔ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی کڑی شرائط کو تسلیم کرنے سے بوجوہ معذرت کرلی ، تاہم میڈیا کے آزاد ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے سے بات چیت مفید اور خوشگوار رہی،پاکستان نے قومی اقتصادی اور مالیاتی معاملات کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اصولی موقف اختیار کیا جو ملکی معیشت کے استحکام اور بلاشبہ ملکی مفاد میں تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے بجلی مہنگی کرنے، روپے کی قدر گرانے ، ٹیکسوں کی شرح بڑھانے کے مطالبات پیش کیے گئے جسے پاکستان نے قبول نہیں کیا جب کہ چین کی مالی معاونت کی تفصیلات دینے سے بھی اس لیے معذرت کرلی کہ وزیراعظم عمران خان پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ چین سے تاریخ ساز پیکیج ملا ہے جس کی تفصیلات دونوں ملکوں کے بہترین مفاد میں فی الحال نہیں بتائی جا سکتیں ، جب کہ آئی ایم ایف پر امریکی دباؤ بھی غیر مرئی ہے۔

پاکستان کی معاشی صورتحال کی بحرانی کیفیت کے حوالہ سے امریکی پروپیگنڈہ کی اساس اس گمراہ کن نکتہ پر رکھی گئی تھی کہ پاکستان کے اقتصادی بحران کی وجہ چینی قرضے ہیں جس کی پاکستان اور چین نے بیک وقت سخی سے تردید کی ہے ۔ذرائع کے مطابق نئے پروگرام کے لیے مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا ہے تاہم اس میں پریشانی یا مایوسی کی کوئی بات نہیں، دوسرا راؤنڈ آیندہ سال جنوری میں فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد شروع ہوگا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بادی النظر میں آئی ایم ایف کے وفد نے ہیرالڈ فنگر کی قیادت میں 14 روزہ دورہ پاکستان مکمل کر لیا، 7سے 20 نومبر کے دوران وفد نے وزارت خزانہ، وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات، وزارت توانائی اور اسٹیٹ بینک کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے جن میں ملکی معیشت کے تقریباً تمام شعبوں پر بات چیت ہوئی ۔

علاوہ ازیں ممبران پارلیمنٹ اور صوبائی وزراء خزانہ نے بھی آئی ایم ایف مشن کے ساتھ تبادلہ خیال کیا، وفاقی وزیر خزانہ اسد عمرنے منگل کو آئی ایم ایف مشن کے ساتھ اختتامی اجلاس کی صدارت کی، مذاکرات کے اختتام پر وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کی جانب سے الگ الگ اعلامیہ جاری کیا گیا، جن کا متن تقریباً یکساں تھا مگر معاشی مبصرین اور اپوزیشن حلقوں کا کہنا تھا کہ اگربات چیت مفید اور تعمیری رہی تو مشترکہ پریس کانفرنس کیوں منعقد نہیں کی گئی۔

سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ مشن کے سربراہ ہیرالڈ فنگر میڈیا سے بات چیت کیے بغیر واشنگٹن جب کہ وزیر خزانہ اسد عمر وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ملائیشیا کے دورے پر روانہ ہوگئے ،ادھر رات گئے وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کے متوقع پروگرام کے لیے پالیسی و ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے فریم ورک بارے اتفاق رائے بارے نمایاں پیشرفت ہوئی اور پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لیے مثبت بات چیت جاری رہے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیاکہ حکومت پاکستان نے عام لوگوں کی سماجی و اقتصادی بہتری کو بڑھانے سے متعلق اپنے وسیع البنیاد ترقیاتی ایجنڈا کے حصول کے سلسلہ میں آئی ایم ایف کی جانب سے معاونت کو سراہا جب کہ آئی ایم ایف کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ نئے پروگرام کے لیے دی گئی درخواست پر مذاکرات مفید رہے، جامع اصلاحاتی ایجنڈے، مالیاتی و کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی ، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے ، سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے ، گورننس و شفافیت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ وسیع معاہدے اورملک میں پائیدار روزگار کے مواقعے بڑھانے کے لیے مضبوط بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے، پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت میں پیشرفت نئے مالی پروگرام میں معاون ثابت ہوگی۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے رواں مالی سال کے دوران اضافی ریونیو کے لیے ایف بی آر کے انتظامی اقدامات پر انحصار کو مسترد اور ٹیکسیشن سے متعلق اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا، ریونیو اقدامات پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق نہیں ہوسکا ، گردشی قرضہ اور ادائیگیوں کے بحران پر بھی فنڈ کا طرز استدلال سخت گیر بتایا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اوگرا اور نیپرا کی خودمختاری سے متعلق بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ آئی ایم ایف کی طرف سے روپے کی قدر میں مزید کمی کرکے ڈالر کی قیمت 150 روپے تک لے جانے کا کہا جارہا ہے جب کہ پاکستان کا موقف ہے کہ اس سے معاشی صورتحال مزید خراب ہوگی اور اور قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کے علاوہ اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب اور چین سے ملنے والی مالی امداد ایک ٹھوس ڈھارس ثابت ہوئی جس کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف سے مذاکرات میں کسی دباؤ کا شکار ہونے کی پوزیشن میں نہیں تھا اور اسے معاشی ڈکٹیشن لینے کی ضرورت اس لیے بھی نہیں تھی کہ حکومت معیشت کی خود انحصاری کی موئید ہے البتہ اپوزیشن کی حکومت سے کشمکش کا سبب آئی ایم ایف سے ہر قیمت پر بیل آؤٹ پیکیج لینے کی آخری کوشش ہے جب کہ ملکی معیشت کی صورتحال اور قومی امنگوں کا تقاضہ ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ قومی وقارکے آئینہ میں بات چیت کی جائے۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے مزید دور رس اقدامات کرنا ہونگے۔

مقبول خبریں