کرتار پور سرحد امن ودوستی کی راہداری

تقسیم ہند کے وقت یہ گوردوارہ پاکستان کے حصے میں آیا۔تقریباً 56 سال تک گورد وارہ ویران رہا۔


Editorial November 24, 2018
تقسیم ہند کے وقت یہ گوردوارہ پاکستان کے حصے میں آیا۔تقریباً 56 سال تک گورد وارہ ویران رہا۔ فوٹو: فائل

پاک بھارت تناؤ اورکشیدگی کی اس فضا میں، یہ خبر تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی ہے کہ پاکستانی وزیراعظم 28 نومبرکوکرتار پورکوریڈورکا سنگ بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جب کہ بھارتی کابینہ نے بھی کرتار پورسرحد کھولنے کی منظوری دیدی ہے۔

دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کو بھی اس فیصلے سے مطلع کردیا گیا ہے۔ دونوں حکومتیں اپنی اپنی سطح پر کوریڈورکی تعمیرکے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ اس اقدام کو ہم ایک بڑا بریک تھرو بھی قرار دے سکتے ہیں کیونکہ بھارت کو یہ سرحدکھولنے کی تجویز پاکستان نے دی تھی، بھارتی کابینہ نے اس تجویزکی توثیق کرکے امن کی طرف قدم بڑھایا ہے۔

اس صائب فیصلے سے اس تاثرکی بھی تردید ہوتی ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان اقلیتوں کے لیے محفوظ ترین ملک ہے۔ تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر دیکھا جائے توکرتار پور وہ تاریخی مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیوجی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہ جگہ گرونانک دیوکی رہائشگاہ اور جائے وفات بھی ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت گوردوارہ دربار صاحب پاکستان کے حصے میں آیا، دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث طویل عرصے تک یہ گوردوارہ بند رہا، پہلی بار1998 میں سکھ یاتریوں کوکرتار پورکا ویزا ملنا شروع ہوا ۔

رواں سال اگست میں جب سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو وزیراعظم کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے تو اس موقعے پر پاک فوج کے سربراہ نے انھیں کرتار پورکوریڈورکھولنے کی خوشخبری سنائی تھی۔ یہ خوشی کی خبر سن کر انھوں نے پاکستانی آرمی چیف کو بے ساختہ جپھی ڈالی تھی ، یہ مثبت فیصلہ اسی محبت بھری جپھی کا کرشمہ ہے ۔ حالانکہ پاکستانی آرمی چیف کو جپھی ڈالنے کے منظرپر بھارتی میڈیا نے طنزکے نشتر نوجوت سنگھ سدھو پر خوب برسائے تھے ۔

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ بھارتی سکھ سرحد پارسے گوردوارہ کو دیکھنے کے لیے دوربینوں کا استعمال کرتے ہیں، اس حوالے سے بی ایس ایف نے خصوصی طور پر درشن ستھل بنا رکھے ہیں تاکہ سکھ اس مقام کے واضح طور پر درشن کرسکیں۔ اب پاکستان کے اس فیصلے کے بعد سکھ یاتری اپنے مذہب کے بانی کی آخری آرامگاہ کے درشن دوربین سے نہیں بلکہ اپنے جسمانی وجود کی موجودگی کے ساتھ درشن کرسکیں گے۔دراصل یہ کھیتوں کے بیچوں بیچ واقع ہے اور اس کی سفید عمارت کسی پرندے کی مانند لگتی ہے۔گوردوارے کی عمارت سے باہر کنواں گرو نانک سے منسوب کیا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے اسے ''سری کْھو صاحب'' کہا جاتا ہے۔ کنویں کے ساتھ ہی بم کا ایک ٹکڑا بھی شیشے کے شو کیش میں نمائش کے لیے رکھا ہے جس کے مطابق یہ بم بھارتی فضائیہ نے 1971 کی جنگ کے دوران پھینکا تھا جسے کنویں نے اپنی گود میں لے لیا اور دربار تباہ ہونے سے محفوظ رہا۔گوردوارے کے خدمت گاروں میں سکھ اور مسلمان دونوں شامل ہیں اور ہر آنے والے کو لنگر بھی کھلایا جاتا ہے۔گوردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والے سیلاب میں تباہ ہوگئی۔

موجودہ عمارت1920 سے 1929 کے درمیان ایک لاکھ35ہزار600 روپے کی لاگت سے مہاراجہ پٹیالہ سردار پھوبندر سنگھ نے دوبارہ تعمیر کروائی تھی۔1995 میں پاکستان نے بھی اس کی دوبارہ مرمت کی۔ تقسیم ہند کے وقت یہ گوردوارہ پاکستان کے حصے میں آیا۔تقریباً 56 سال تک گورد وارہ ویران رہا۔کئی دہائیوں کے کشیدہ تعلقات کے باعث گوردوارہ بھی یاتریوں سے محروم رہا ۔اسی تاریخی پس منظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی کرتار پور راہداری کھولنے کے فیصلے کو بینظیر بھٹوکے خواب کی تعبیر قرار دیا ہے۔25 سال قبل محترمہ بینظیر بھٹو نے ہی یہ تجویز دی تھی کہ یاتریوں کوکرتار پور ویزا کے بغیر آنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے ادیب ، شاعر، دانشور، تاجر اور عوام سمیت فہمیدہ حلقے چاہتے ہیں کہ دشمن ،دشمن کی رٹ چھوڑ کر امن و آشتی کی فضا قائم کی جائے کیونکہ پڑوسی بدلے نہیں جاسکتے ۔ بھارتی وزیراعظم کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ نفرت کی آگ بھڑکا کر الیکشن تو جیت سکتے ہیں لیکن کروڑوں انسانوں کے جنگ میں جھونکنے کی ناپاک خواہش اور ان کے روشن مستقبل پر سوالیہ نشان لگانے سے بہتر ہے کہ تاریخ میں زندہ رہ جائے جو امن ودوستی کے بغیر ممکن نہیں۔

قائداعظم محمدعلی جناح نے تقسیم برصغیر کے وقت سکھ قیادت کو پاکستان کے ساتھ شمولیت کی دعوت دی تھی جو ان کی قیادت کی ناسمجھی کی نذر ہوگئی، ورنہ سکھوں کا آج یہ حال نہ ہوتا جوکہ بھارت میں ہے ۔ بہرحال یہ ایک درست اور صائب فیصلہ ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان نفرت کے الاؤ کو ٹھنڈا کرکے محبت وچاہت کے کوریڈور کی راہ ہموارکرے گا۔

مقبول خبریں