اسپین کے وزیراعظم کا دورہ کیوبا

اسپین اور کیوبا حقوق انسان کے معاملے پر بھی معاہدہ کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔


Editorial November 25, 2018
اسپین اور کیوبا حقوق انسان کے معاملے پر بھی معاہدہ کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا میں اسٹرٹیجک اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے غیرمعمولی تبدیلیاں آئی ہیں' نئی عالمی صف بندیاں ترتیب پا رہی ہیں۔ اتحادی تبدیل ہورہے ہیں، مغربی اور مشرقی یورپ ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں' امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات کی نوعیت تبدیل ہوئی ہے جب کہ شمالی اور جنوبی کوریا بھی ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔

اب اسپین کے وزیراعظم بھی کیوبا کے دورے پر پہنچ گئے ہیں' یہ کسی ہسپانوی وزیراعظم کا پہلا دورہ کیوبا ہے۔ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچز نے کیوبا کے صدر مگویل ڈیاز کے ساتھ اپنے اولین سرکاری دورے میں ملاقات کے موقع پر دوطرفہ تعلقات اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم اور گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ واضح رہے کیوبا کو تین عشروں سے کمیونسٹ قیادت کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

کیوبا کے وزیراعظم نے کیوبن قیادت کے ہمراہ جو زمارٹی کی یاد گارپرپھولوں کی چادر چڑھائی۔ دونوں ممالک کے لیڈروں نے دونوں ملکوں میں سالانہ سربراہی ملاقات کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔کیوبا اور یورپی یونین کے تعلقات گزشتہ دو دہائیوں میں بتدریج بہتری کی طرف مائل تھے جب کہ امریکا روز اول سے ہی کیوبا کے شدید مخالفین میں شامل تھا کیونکہ کیوبا کا نظام حکومت کو امریکا اپنا مخالف خیال کرتا تھا حالانکہ کیوبا کا نظام کئی اعتبار سے امریکا کے سامراجی نظام کی نسبت بہت بہتر ہے جہاں عوام کے لیے تعلیم اور علاج مفت ہے بلکہ کیوبن حکمران طنزاً امریکا سے کہتے تھے کہ تم اپنے مریض ہمارے پاس بھجواؤ ہم ان کا بھی مفت علاج کریں گے۔ کیوبا آج بھی فلاحی ریاست کے معیارپر پورا اترتا ہے۔

اسپین اور کیوبا حقوق انسان کے معاملے پر بھی معاہدہ کرنے پر تیار ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کا معاملہ امریکا دوسرے ممالک کو تعدیب کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے حالانکہ اندرون امریکا حقوق انسانی کی کوئی قابل فخر حالت نہیں ہے بالخصوص اب جب امریکا میں پہنچنے والے میکسیکو کے تارکین وطن کو بلاتخصیص پناہ گزین کیمپوں میں دھکیل دیا ہے جب کہ ننھے منھے شیرخوار بچوں تک کو ان کی ماؤں سے جدا کر دیا ہے۔

ہسپانوی وزیراعظم اپنے دورے کے دوران کیوبا کے نظام سے منحرف ہونے والوں سے بھی مذاکرات کریں گے۔ یہ ایک غیرمعمولی تبدیلی ہے' ورنہ فیدل کاسترو کے دور میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ویسے بھی لاطینی امریکا اور کیوبا میں آباد باشندوں کی اکثریت کا نسلی تعلق اسپین اور پرتگال سے ہے۔ لاطینی امریکا کے زیادہ تر ممالک میں ہسپانوی زبان ہی بولی جاتی ہے جب کہ برازیل میں پرتگیزی زبان بولی جاتی ہے۔

امریکا میں بھی ہسپانوی نژاد باشندوں کی بھاری تعداد موجود ہے۔ اسپین اور کیوبا کے درمیان تعلقات میں جو بہتری آ رہی ہے' اس کے اثرات مغربی یورپ کے دیگر ممالک پر بھی پڑیں گے،سرد جنگ کے ایام میں امریکا اور کیوبا کے تعلقات انتہائی کشیدہ رہے ہیں اور ایک موقع پر کیوبا کے مسئلے پر امریکا اور سوویت یونین ایٹمی جنگ کے دہانے پر بھی پہنچ گئے تھے لیکن سرد جنگ کے بعد اب دنیا تبدیلی ہو رہی ہے' سابق سوشلسٹ ممالک امریکا اور مغربی یورپ کے قریب آ رہے ہیں۔ اسپین کے وزیراعظم کا دورہ کیوبا اس تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

 

مقبول خبریں