افغان سرحدی علاقوں سے دھمکی آمیز فون کالز کا معاملہ

رواں سال جرائم پیشہ گروہ 125 افغان نمبروں سے رقم وصولی کے لیے کال کرچکے ہیں


Editorial November 26, 2018
رواں سال جرائم پیشہ گروہ 125 افغان نمبروں سے رقم وصولی کے لیے کال کرچکے ہیں۔ فوٹو: فائل

اخباری خبر کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقوں سے پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں اور علاقوں میں بھتے کا مطالبہ کرنے والے افغانستان کے ٹیلیفون نمبروں کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا گیا ہے، 2017ء اور سال رواں کے دوران اب تک بھتے کی وصولی کے لیے 341 افغان نمبرز سے پاکستانی شہریوں کو کالز موصول ہوچکی ہیں، رواں سال جرائم پیشہ گروہ سرحدی علاقوں سے 125 افغان نمبروں سے رقم وصولی کے لیے کال کرچکے ہیں۔ رواں سال بھتہ خوری کے 22کیسوں میں 19 ملزموں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

16 ملزموں سے تحقیقات کی جارہی ہیں جب کہ گزشتہ سال بھتے کی ڈیمانڈ کرنے والے 38 ملزم گرفتار کیے گئے۔ پاک افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے جسے فاٹا کہا جاتا ہے، بلوچستان سے ملحقہ افغان سرحدی علاقے دہشت گردوں، جرائم پیشہ گروہوں اور دہشت گردوں کے لیے محفوظ ترین جگہیں ہیں۔ سرحد پار افغانستان کے صوبوں میں بھی قانون کی علمداری نہیں ہے جس کی وجہ سے دہشت گرد اور جرائم پیشہ افراد خیبرپختونخوا کے شہروں اور قصبوں میں ہی وارداتیں نہیں کرتے بلکہ ان کا نیٹ ورک پنجاب اور سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔ بلوچستان میں بھی ایسے گروہ سرگرم ہیں، افغانستان کے موبائل فون نمبروں سے بھتے کے لیے دھمکی آمیز کالیں آنا نئی بات نہیں ہے۔

یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے، خیبر پختونخوا کے شہروں کی پسماندگی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ شہروں کے ساتھ ہی ایسے علاقے موجود ہیں جہاں قانون کی عملدآری نہیں ہے۔ حکومت کو موبائل کے ذریعے دھمکی آمیز کالز روکے لیے سخت قوانین بنانے چاہئیں۔ سرحدی علاقوں میں موبائل فونز اور سموں کی خریدو فروخت کا کوئی مربوط نظام ہونا چاہیے تاکہ ان کا ناجائز استعمال نہ ہوسکے۔ اس کے علاوہ پاک افغان سرحد کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جانا چاہیے۔ ان علاقوں میں پولیس کا باقاعدہ نظام بنایا جانا چاہیے تاکہ جرائم پیشہ اور دہشت گرد گروہوں کو جڑ سے اکھاڑا جاسکے۔

مقبول خبریں