بھارت اور پاکستان کے مشترکہ مقاصد
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے دورہ بھارت میں بھارتی حکمرانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان سے اپنے تعلقات۔۔۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے دورہ بھارت میں بھارتی حکمرانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان سے اپنے تعلقات کو بہتر بنائے۔ اگر بھارت نے ایسا کیا تو دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ امریکی حکمران ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر تو دیکھنا چاہتا ہے لیکن وہ دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا نہیں کرسکتا۔
بھارت آبادی کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ بھارت سے قریبی تعلقات استوار کرے تاکہ دنیا کی اس دوسری بڑی منڈی تک اس کی رسائی آسان ہو۔ امریکا کی بھارت سے اسٹرٹیجک دوستی، چین کے مستقبل کے کردار کے پیش نظر ایشیا کی اس دوسری بڑی طاقت سے اس کی سیاسی ضرورت بھی ہے۔ اس پس منظر میں وہ بھارت کو پاکستان سے دوستی بڑھانے کا مشورہ تو دیتا ہے لیکن کوئی ایسا کردار ادا کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہتا ہے جو بھارت کی ناراضگی کا سبب بنے۔
اس مفاداتی سیاست کی وجہ سے دنیا میں علاقائی تنازعات مدتوں سے حل طلب چلے آرہے ہیں۔ جان کیری کا یہ بیان کہ افغانستان کے انتخابات میں بھارت کے تعاون کا خیرمقدم کیا جائے گا، انھوں نے طالبان سے مذاکرات پر بھارتی تشویش دور کرنے کا وعدہ بھی کیا، یہ خوشامدی انداز اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکا بھارت کو ناراض نہیں دیکھنا چاہتا، یہ امریکی موقف اصولی نہیں ہے بلکہ اس کے قومی مفادات کے مطابق ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کے ساتھ ایک بڑی خبر یہ بھی میڈیا میں آئی ہے کہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے عین دورہ سری نگر سے پہلے عسکریت پسندوں نے ایک بھارتی فوجی قافلے پر حملہ کردیا، جس میں 8 بھارتی فوجی ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے۔ عسکریت پسندوں اور بھارتی فوج کے درمیان کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ کا مقابلہ ہوتا رہا، اس حملے کے دوسرے دن بھارتی وزیراعظم سونیا گاندھی کے ساتھ سری نگر آنے والے تھے۔ کشمیری قیادت کی کال پر کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی، بھارتی پولیس نے سیکڑوں کشمیریوں کو گرفتار کرلیا ہے۔
یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر مسلسل اس قسم کے واقعات سے دوچار ہے، جب بھی کوئی بھارتی رہنما سری نگر کے دورے پر آتا ہے اس کا استقبال ایسی ہی ہڑتالوں سے کیا جاتا ہے۔ اس طویل محاذ آرائی میں اب تک 80 ہزار سے زیادہ کشمیری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، اس کے باوجود بھارت ''میں نہ مانوں'' کی ضد پر اڑا ہوا ہے، اس کی 7 لاکھ فوج بھی کشمیری عوام کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ہم بھارت سے دوستی کی شدید خواہش رکھنے کے باوجود یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بھارت کشمیر کے مسئلے پر سامراجی ذہنیت کا مظاہرہ کرتا آرہا ہے۔ جب کہ پاکستان کے حکمران طبقات نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے بھارت کو ایسی رعایات دینے کی پیشکش کیں جو اس کے روایتی موقف کی نفی کرتی ہیں۔ ایوب خان کے مشترکہ دفاع کی پیشکش سے لے کر سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرف سے آگرہ مذاکرات میں اقوام متحدہ کی قراردادوں سے دست برداری تک دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے کس حد تک آگے جانے کو تیار ہے۔
اور بدقسمتی سے پچھلے 65 سال سے ہر بھارتی حکومت یہی رٹ لگاتی آرہی ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ یہ برصغیر کی تاریخ کا بڑا المیہ ہے کہ جمہوریت کے علمبردار بھارت کا حکمران طبقہ بھارتی ایلیٹ کے مفادات کی خاطر اور کشمیر کو ہر قیمت پر اپنے قبضے میں رکھنے کی غیر اخلاقی اور غیر جمہوری خواہش کے زیر اثر خود بھارت کے ڈیڑھ ارب عوام اور اس خطے کے اجتماعی مفادات کو کچلتا آرہا ہے۔
مسئلہ کشمیر ہی کی وجہ سے دونوں پسماندہ ملک اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ اپنے دفاع پر خرچ کر رہے ہیں، اس مسئلے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان 1965 اور 1971 میں دو بڑی جنگیں ہوچکی ہیں اور اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ملکوں میں مذہبی انتہاپسندی بڑھتی جارہی ہے۔ آج سیکولر بھارت میں بی جے پی جیسی مذہبی انتہاپسند جماعت نہ صرف مستحکم ہے بلکہ بھارت میں برسر اقتدار بھی رہی ہے اور آج بھی بھارت کی کئی ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں برسر اقتدار ہیں، اس مذہبی انتہاپسندی کا نتیجہ ہے کہ بی جے پی نے بدنام زمانہ گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرمودی کو آنے والے الیکشن میں بھارتی وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے اور اسے انتخابی مہم کا سربراہ بھی بنادیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کی خواہش نے بھارتی حکمرانوں کو اس قدر اندھا کردیا ہے کہ وہ بھارت کی اصل پہچان سیکولرازم کو بھی اپنی اس خواہش کے جوتوں تلے روند رہے ہیں۔ بھارت ایک سیکولر ریاست کے بجائے ایک کٹر مذہبی ریاست کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔ کیا بھارت کا حکمران طبقہ اس حقیقت سے واقف نہیں کہ سیکولرازم ہی کی وجہ سے بھارت کا وجود باقی ہے اور سیکولرازم ہی کی وجہ سے ساری دنیا میں بھارت کا احترام کیا جاتا ہے۔
دنیا میں گلوبلائزیشن کے کلچر نے دنیا کو ایک گاؤں میں بدل کر رکھ دیا ہے اور اب دنیا بھر کے انسان یہ سوچ رہے ہیں کہ انھیں قومی شناخت کے صدیوں پر پھیلے ہوئے کلچر سے نکل کر انسانی شناخت کو اولیت دینا چاہیے کیونکہ دنیا بھر میں جو جنگیں اور جو نفرتیں پھلتی پھولتی رہی ہیں اس کی بنیادی وجہ انسانوں کی قومی شناخت کا کلچر ہے، جیسے سیاستدانوں نے قومی مفادات کا نام لے کر اس کے تحفظ کے نام پر لاکھوں افراد پر مشتمل فوجیں بنائیں اور انھیں جدید ترین اسلحے سے لیس کرنے کے لیے کھربوں ڈالر خرچ کیے اور کر رہے ہیں، جس کا آخری انجام جنگ اور تباہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس حقیقت کا ادراک رکھنے والے اہل علم اور اہل دانش دنیا بھر میں یہ کوشش کررہے ہیں کہ انسانوں کو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، امریکی، برطانوی، چینی، جاپانی، فرانسیسی، جرمنی، ہندوستانی، پاکستانی کی متعصبانہ تقسیم اور نفرتوں کے کلچر سے نکال کر انھیں انسان بنایا جائے اور محبت و اخوت کے ساتھ مل جل کر زندگی گزارنے کی طرف راغب کیا جائے تاکہ دنیا کے سر پر لٹکتی جنگوں اور نفرتوں کی تلوار سے مکتی حاصل ہوسکے اور دنیا جہنم کے بجائے جنت بن سکے۔
پاکستان میں نئی منتخب حکومت کے قیام پر خوشی اور امید کا اظہار کرنے والے بھارتی حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ محض سیاسی لفاظی کے دائرے سے نکل کر مسئلہ کشمیر کے کسی ایسے حل کی طرف آئیں جس سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوری اور بے گانگی ختم ہو، دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کی جگہ اعتماد اور بھروسے کی فضا قائم ہو، دونوں پسماندہ ترین ملک ہتھیاروں کی دوڑ سے باہر نکل سکیں، دونوں ملکوں کے سروں پر لٹکتی جنگ کی تلوار سے نجات حاصل ہو، پاکستان کے نئے وزیراعظم کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ بھارت سے دوستی کے خواہشمند ہیں، غالباً اس تاثر کی وجہ سے نواز شریف کے وزیراعظم بننے پر بھارت کے شہروں میں بھی خوشی کا اظہار کیا گیا۔
بلاشبہ بھارتی عوام کی اکثریت اب 65 سالہ محاذ آرائی کی سیاست سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہش مند ہے لیکن بھارت کا حکمران طبقہ ہمیشہ ان کی اس خواش کے درمیان دیوار بنا رہا، اس کی واحد وجہ کشمیر پر ہر قیمت پر قبضہ برقرار رکھنے کی خواہش ہے۔ اگر بھارت کا حکمران طبقہ اپنی اور اس خطے کے عوام کی خوشحالی اور ان کے درمیان محبت و بھائی چارے کا فروغ چاہتا ہے تو پھر اسے ''اٹوٹ انگ'' کے راگ وتیاگ سے باہر آکر یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کشمیر پر قبضہ کیوں چاہتا ہے؟ کیا وہ خواہشیں جو اس قبضے کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں، وہ مقاصد جو کشمیر میں 7 لاکھ فوجیں رکھنے کا سبب بن رہی ہیں، کیا ان خواہشوں، ان مقاصد کو باہمی اعتماد کے ساتھ مشترکہ خواہشوں، مشترکہ مقاصد میں بدلا جاسکتا ہے؟