شاہ پور چاکر محکمہ خوراک کی نااہلی کروڑوں کی گندم خراب ہونے کا خدشہ

گندم کی ہزاروں بوریاں مخلف جگہوں پر کھلے آسمان تلے پڑی ہیں، بارش سے تباہ ہونے کا اندیشہ.


Nama Nigar July 01, 2013
گندم کی ہزاروں بوریاں مخلف جگہوں پر کھلے آسمان تلے پڑی ہیں، بارش سے تباہ ہونے کا اندیشہ۔ فوٹو: فائل

MULTAN: شاہ پور چاکر اور اس کے نواح کے علاقوں کھڈرو، سرہاری، چودگی، لنڈو ، مقصودو رند، سلیمان ڈاہری، برہون، پریتم آباد(زرداری فارم) اور دیگر علاقوں میں محکمہ خوراک ضلع سانگھڑ کی جانب سے سرکاری خریداری مراکز پر خریدی جانے والی گندم کی بوریاں مختلف جگہوں پر، روڈوں کے کنارے اور پٹرول پمپوں پر کھلے آسمان کے نیچے پڑی ہوئی ہیں۔

صحافیوں کی ٹیم کے سروے کے مطابق کھلے آسمان کے نیچے پڑی ہوئی ہزاروں کی تعداد میں گندم کی بوریاں جن کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے، بارشوں کی وجہ سے خراب ہوجائیں گی اور حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ گندم کی ان بوریوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ انھیں سرکاری گوداموں میں پہنچایا جائے، جبکہ فوڈ انسپکٹروں کی جانب سے نہ ہی کوئی ایسا انتظام کیا گیا ہے اور نہ ہی ان بوریون کو ترپال سے ڈھانپا گیا کہ گندم بارشوں سے محفوظ ہوسکے۔ محکمہ خوراک کے فوڈ انسپکٹروں اور دیگر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہمارا کام صرف خریداری کرنا ہے، گندم اٹھوانے کاکام ٹھکیداروں کا ہے۔



گندم کی ہزاروں بوریاں کھلے آسمان کے نیچے پڑی ہیں اور محکمہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔ خدشہ ہے کہ مون سون بارشوں کی وجہ سے گندم بالکل خراب ہوجائے گی، اس سے ایک جانب تو حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے کے نقصان تو دوسری جانب آٹے کی قلت کا بھی بہت اندیشہ ہے جس سے آٹے کے بحران کا بھی اندیشہ ہے، بحران سے غریب عوام کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شہریوں نے حکومت سے کھلے آسمان کے نیچے پڑی ہوئی گندم کو محفوظ مقامات پر فوری طور پر پہنچانے اور محکمہ خوراک کے افسران، فوڈ انسپکٹر اور دیگر اہلکار جو نیند میں ڈوبے ہوئے ہیں ان نا اہل اور لا پرواہ افسران و اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کراکر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں