افغانستان میں گاجر اور چھڑی کی امریکی پالیسی

دیکھنا یہ ہے کہ امریکا اور افغانستان کی حکومت طالبان کو کیسے مناتی ہے۔


Editorial December 04, 2018
دیکھنا یہ ہے کہ امریکا اور افغانستان کی حکومت طالبان کو کیسے مناتی ہے۔ فوٹو: فائل

افغانستان کے صوبہ پکتیا میں ایک فضائی کارروائی میں 10 عام شہری جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ اطلاع بھی ہے کہ مقامی افراد نے اس پر احتجاج کیا ہے' ادھر صوبائی حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس فضائی کارروائی میں 4 جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ شہریوں کی ہلاکت کے الزامات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاہم ترجمان کے حوالے سے یہ خبر بھی ہے جس میں اس نے جواز پیش کیا ہے کہ چونکہ یہ علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے' اس لیے اطلاعات کا حصول خاصا مشکل ہے۔ مطلب یہی ہے کہ جو ہوگیا سو ہوگیا۔

ایک دوسری خبر کے مطابق افغانستان کے صوبہ ہلمند میں اتحادی اور افغان فوج کے مشترکہ آپریشن میں طالبان کے معروف کمانڈر اور سینئر رہنما ملا عبدالمنان کے اپنے29 ساتھیوں سمیت مارے جانے کی اطلاع ہے۔ طالبان نے اس کی تصدیق نہیں کی البتہ افغان حکام تصدیق کر رہے ہیں ۔ ایک اطلاع کے مطابق یہ ہوائی حملہ امریکی ڈرون سے کیا گیا۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکا خفیہ طور پر طالبان نمائندوں سے رابطے میں ہے، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ افغانستان کے لیے امریکا کا خصوصی نمایندہ زلمے خلیل زاد افغانستان پاکستان اور دیگر متعلقہ ممالک کے طویل دورے پر یہاں آ رہے ہیں۔ ان کا دورہ طالبان قیادت کو منانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

اس حوالے سے مشکل یہ ہے کہ ایک طرف امریکا طالبان رہنماؤں سے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے دوسری طرف ڈرون اور دوسرے ہوائی حملوں کے ذریعے انھیں مسلسل مارا جا رہا ہے جیسے کہ ملا منان کو ڈرون حملے کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا گیا' ایسی صورت میں طالبان بھلا کس طرح امریکا کے جھانسے میں آ کر اس کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے امریکا گزشتہ 17سال سے افغانستان میں برسرپیکار ہے لیکن ابھی تک اس کو نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ امریکا اور افغانستان کی حکومت طالبان کو کیسے مناتی ہے' البتہ یہ بات واضح ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں خاصی تیزی آئی ہے، قطر میں قائم طالبان کا دفتر بھی فعال ہے جب کہ امریکا اور افغان حکومت کے نمائندے میں خاصے فعال ہے۔

روس اور چین بھی ماضی کے مقابلے میں افغانستان میں قیام امن کے لیے زیادہ کوششیں کررہے ہیں لیکن سوال وہی ہے کہ طالبان کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں اور مذاکرات بھی جاری ہیں' امریکا افغانستان میں گاجر اور چھڑی کی پالیسی پر کار بند ہے۔ یعنی افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائیاں بھی جاری رکھی جائیں اور مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھا جائے۔ اب امریکا ایک بار پھر پاکستان سے مدد مانگ رہا ہے۔صدر ٹرمپ کے رویے میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔

مقبول خبریں