تعلیمی اداروں میں منشیات کی فراہمی

سندھ کے طالب علموں کا منشیات ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے لیے قانون کا ڈرافٹ تیارکرلیا گیا ہے جوکہ خوش آئند ہے۔


Editorial December 04, 2018
سندھ کے طالب علموں کا منشیات ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے لیے قانون کا ڈرافٹ تیارکرلیا گیا ہے جوکہ خوش آئند ہے۔ فوٹو:فائل

آئی جی سندھ نے منشیات فروشوں کے خلاف بھرپورکارروائی کا حکم دیتے ہوئے تعلیمی اداروں اور پوش علاقوں میں منشیات بیچنے والے گروہوں کے خاتمے کا ٹاسک پولیس فورس کو دیا ہے ۔ چند روز بیشتر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں طلبا کو منشیات باسانی دستیاب ہیں، ہمارا مستقبل اس لت میں پڑکر خراب ہو رہا ہے، پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے ہمیں منشیات مافیا کو قابوکرنا ہوگا ۔

یہ حقیقت ہے کہ ملک کے طول وعرض میں طلبا کو حشیش، آئس ڈرگ اور نشہ آور اشیاء سپلائی کی جا رہی ہیں ۔ مسئلے کی سنگین کا اندازہ اے این ایف کی رپورٹ سے لگائیں، ملک میں67 فی صد یونیورسٹی کے طالب علم منشیات کے استعمال میں ملوث ہیں ،ملک میں 76 لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں۔ خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں میں آئس اورنشے کے بڑھتے ہوئے رحجان پرسپریم کورٹ نوٹس لے چکی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ منشیات میں ڈوبے سرحدی دیہات ایک المیہ ہے جب کہ دس کروڑ سے زائد آبادی والے صوبہ پنجاب میں چھٹا دریا نشے کا بہتا ہے۔ پہلے تو علاقہ پولیس منشیات فروشی کے اڈوں سے واقف ہوتی تھی، لیکن جدید منشیات فروشوں تک رسائی پولیس کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے کیونکہ اب منشیات فروش ، واٹس ایپ ، فیس بک یا سوشل میڈیا کی دیگر ایپس کا استعمال کرتے ہیں ۔

سندھ کے طالب علموں کا منشیات ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے لیے قانون کا ڈرافٹ تیارکرلیا گیا ہے جوکہ خوش آئند ہے۔ نوجوانوں کو نشے کی لت سے بچانے کے لیے والدین، اساتذہ ، دینی اسکالرز اور پولیس سمیت ریاست اور قوم کو ملک کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،کیونکہ یہ ہماری نئی نسل کے بقاء کا مسئلہ ہے۔صحت دشمن منشیات کے ماخذ نیت ونابود ہونے چاہئیں۔

مقبول خبریں