آسٹریلیا سے پاکستانی آم کی برآمد کی اجازت ملنے کا امکان

ماہرین کا وفد رواں ہفتے کراچی آئیگا، مینگو پراسیسنگ پلانٹس، ایکسپورٹ فیکٹریوں کا دورہ کریگا


Business Reporter July 02, 2013
ماہرین کا وفد رواں ہفتے کراچی آئیگا، مینگو پراسیسنگ پلانٹس، ایکسپورٹ فیکٹریوں کا دورہ کریگا۔ فوٹو: فائل

آسٹریلیا کے ڈپارٹمنٹ آف ایگری کلچر، فشریز اینڈ فوریسٹری کے ماہرین کا وفد رواں ہفتے کراچی پہنچ رہا ہے۔

آسٹریلوی ماہرین کا وفد کراچی میں نصب مینگو پراسیسنگ پلانٹس اور ایکسپورٹ فیکٹریوں کا دورہ کرے گا۔ دورے کا مقصد پاکستان کو آسٹریلیا آم برآمد کرنے کی اجازت دینا ہے یہ دورہ گزشتہ سال مئی میں آسٹریلوی ماہرین کے دورے کا تسلسل ہے گزشتہ سال آسٹریلیوی ماہرین نے پاکستان میں 8 روز تک قیام کے دوران مینگو فارمز سے فیکٹریوں میں پراسیسنگ تک کے مراحل کا باریک بینی سے جائزہ لے کر رپورٹ محفوظ کرلی تھی۔ آسٹریلوی ماہرین رواں سیزن ایکسپورٹ کمپنیوں میں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی سہولت کا جائزہ لیں گے۔



ہارٹی کلچر انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق پاکستان میں مینگوپراسیسنگ کی سہولت امریکا اورجاپان کے معیار پر بھی پوری اترچکی ہے۔ پاکستان ساؤتھ کوریا کو بھی آم برآمد کررہا ہے دوسری جانب یورپ کے متعدد ممالک، برطانیہ کینیڈا، جرمنی سمیت ترقی یافتہ ملکوں کی بڑی تعداد پاکستانی آم کی خریداری ہے، اس لیے آسٹریلیا سے پاکستانی آم کی برآمد کی اجازت ملنے کے واضح امکانات ہیں۔

آسٹریلوی ماہرین کے اس دورے کو اہمیت حاصل ہے۔ اگر آسٹریلیوی حکام نے پاکستانی مینگو کے معیار اور پراسیسنگ کی سہولت کو گرین سگنل دے دیا تو رواں سال سے ہی آسٹریلیا کو پاکستان سے آم کی برآمد شروع کردی جائیگی، تاہم آسٹریلیا کو براہ راست پروازیں نہ ہونے کی وجہ سے محدود پیمانے پر برآمدات ہوسکیں گی۔