امریکا کی زود پشیمانی کے عالمی مضمرات

امریکی کے باضمیر وکلا کا اصرار ہے کہ امریکا دنیا والوں کی سنے، لیکچراور دھمکی نہ دے۔


Editorial December 14, 2018
امریکی کے باضمیر وکلا کا اصرار ہے کہ امریکا دنیا والوں کی سنے، لیکچراور دھمکی نہ دے۔ فوٹو : فائل

امریکا کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کا امریکا اتنا بدل جائے گا، اس کا شاید بابائے امریکا کو اندازہ نہیں تھا کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے رفقا کو جو دھونس ، دھمکی اور اقوام کی عالمی تضحیک و محکومیت کی پالیسیوں پر دیوانہ وارگامزن ہیں، شاید احساس بھی نہیں۔

یہ حقیقت گزشتہ روز مذہبی آزادی کے حوالے سے امریکی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے خلاف پاکستان کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد منکشف ہوئی، اور ایک دن بعد ہی امریکا نے پاکستان کو مذہبی پابندیوں کی خصوصی تشویش فہرست سے استثنیٰ دے دیا۔

وجہ جواز یہ بنی کہ بلیک لسٹ فہرست میں نام شامل کرنے کے معاملے پر پاکستان نے اس کا سختی سے نوٹس لیا جب کہ امریکی سفارتکار کودفترخارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا اور امریکی رپورٹ کو حقائق کے منافی قراردے کر یکسر مسترد کردیا۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل آئینی و مذہبی آزادی حاصل ہے، ہمیں اپنی اقلیتوں سے متعلق کسی سے لیکچر کی ضرورت نہیں، یہ بہترین وقت ہے کہ امریکا میں اسلام فوبیا میں اضافے کی وجوہات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے۔

سوال یہ ہے کہ امریکا نے جن ممالک کی من پسند فہرست بنائی ہے، اس میں بھارت اور اسرائیل کا کوئی ذکر نہیں حالانکہ ان دو ممالک نے برصغیر اور مشرق وسطیٰ کو جنگی تھیٹر اور فلیش پوائنٹ بنادیا ہے، اسرائیل اپنے قیام کے دن سے فلسطینیوں پر ظلم ڈھا رہا ہے، غزہ میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، بستیاں مسمار اور مکینوں کو سر چھپانے کو جگہ نہیں ملتی۔ دو ریاستی منصوبہ امریکا کی ترجیحات میں سے کیوں غائب ہے۔

امریکی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم عالمی برادری اور امریکا کی نگاہوں سے اوجھل رہے ہیں، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کو بھی نظر انداز کیا گیا، میانمار (برما) کے مظلوم و بے بس رونگیا مسلمانوں پر کون سے قیامت تھی جو ڈھائی نہیں گئی، یمن میں لاکھوں بچے جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں جب کہ امریکی آئین کا دم بھرنے والے سیاستدان، ماہرین قانون اور امریکیوں کو کہنا ہے کہ امریکی استعماریت سے پوری دنیا نالاں ہے۔

امریکی کے باضمیر وکلا کا اصرار ہے کہ امریکا دنیا والوں کی سنے، لیکچراور دھمکی نہ دے، ان کے دانشور کہتے ہیں کہ دوسری اقوام کی تکریم و توقیر میں امریکی اقدار کی عزت مضمر ہے،انکل سام کی پالیسیوں میں انسانی ہمدردی جھلکے اور فوجی طاقت کی رعونت سے گریزو تحمل کا اظہار ہو، بدقسمتی سے ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے ساتھ ہی امریکی سماج میں قوم پرستانہ، لسانی، طبقاتی، نسلی اور مقامی تعصبات کے شعلے ہوا دینے لگے ہیں، متعدد علاقوں میں مذہبی منافرت پر مبنی تشدد آمیز حملوں کا ریکارڈ میڈیا میں موجود ہے، امریکی میڈیا اور فکری حلقوں میں یہ تشویش بڑھتی جارہی ہے کہ مین اسٹریم میڈیا سے چشمک زنی کے ساتھ امریکی معاشرہ منقار زیر پر nation under siege کی علامت بن چکا ہے۔

امریکا کی گن بوٹ ڈپلومیسی نے عالمی سطح پر مذہبی رواداری کے کون سے بیچ بوئے ہیں جن کی لہلہاتی فصلوں پر امن پسند قوتیں مطمئن ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو فوری استثنیٰ دے دیا گیا کیونکہ پاکستان کا برملا اور فوری احتجاج بلاجواز نہ تھا ۔ مزید یہ کہ مذہبی اقدار اور اقلیتوں کے حقوق کی نگرانی و جوابدہی کا امریکا کو کس قانون کے تحت لائسنس مل گیا ہے، چنانچہ معاملے کی سنجیدگی کے پیش نظر سینئرامریکی سفارتکار نے احتجاجی مراسلہ امریکی حکام کے حوالے کرنیکی یقین دہانی کرائی، بعد ازاں امریکی سفارتحانے کے ترجمان نے ایک ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے خصوصی تشویشی ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام شامل ہونے کے باوجود اس پر پابندی نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہاکہ امریکا نے وسیع تر حکمت عملی کے تحت ان ممالک کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جس کا مقصد ان ممالک میں مذہبی آزادی کے معاملات کو بہتر کرنا ہے۔ ادھر واشنگٹن میں امریکی سفیر سیم برا ؤن بیک نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اس بلیک لسٹ کے حوالے سے عائد کی جانیوالی پابندیوں سے پاکستان کواستثنیٰ دے دیا ہے اور ایسا کرنا امریکا کے اہم قومی مفاد میں ہے، واضح ہو کہ امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور تاجکستان کے لیے بھی استثنیٰ جاری کیا ہے۔

امریکی استثنیٰ پانے والے ملکوں پر جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے گذشتہ روز امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں اعلان کیا گیا تھا کہ بین الاقوامی ایکٹ برائے مذہبی آزادی 1998 کے تحت پاکستان سمیت بعض دیگر ممالک کے نام مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر خصوصی تشویش والی فہرست میں شامل کیے جارہے ہیں جس کا مقصد اقلیتوں سے روارکھے جانے والے سلوک پردباؤ بڑھانا ہے۔ اس لیے اب ضرورت ایک پرزور،کثیر جہتی اور متحرک و نتیجہ خیز سفارتی مہم کی ہے جس میں پاکستان امریکا میں موجود اہل فکر ونظر اور مذہبی اقدار پر گہری نظر رکھنے والے اہل دانش تک رسائی حاصل کرے تاکہ پاکستان مخالف لابیوں کو موثر جواب دیا جائے۔

مقبول خبریں