ماحولیاتی تبدیلی کے ایشو پر امریکا کا منفی رویہ

امریکا کوئی نہ کوئی بہانہ نکال کر اجلاس کو منسوخ یا ملتوی کرا دیتا ہے تاکہ اس معاملے پر بات ہی نہ ہو سکے۔


Editorial December 14, 2018
امریکا کوئی نہ کوئی بہانہ نکال کر اجلاس کو منسوخ یا ملتوی کرا دیتا ہے تاکہ اس معاملے پر بات ہی نہ ہو سکے۔ فوٹو: فائل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریز نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے مذاکرات کو ناکامی سے بچانے کے لیے تعطل کو ختم کیا جانا چاہیے۔ وہ پولینڈ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اس کرہ ارض پر بسنے والے تمام جانداروں کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ پولینڈ میں195 رکنی عالمی ادارے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام تقریب میں دنیا بھر کے ممالک کے وزراء اور دیگر مندوبین شریک تھے۔ ماحولیاتی تبدیلی عالمی حدت میں اضافے کا موجب بنتی ہے۔ پولینڈ کے جس شہر میں یہ اجلاس منعقد کیا گیا وہ کوئلے کی کان کنی کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اجلاس انعقاد سے48 گھنٹے پہلے ہی منسوخ کر دیا گیا۔

غالباً اس التوا کے پیچھے امریکا کی خود غرضانہ سفارتکاری کارفرما تھی کیونکہ عالمی حدت کے مسئلہ کو صنعتی ترقی کے حامل ممالک سے جوڑا جاتا ہے جن کا سرخیل امریکا ہی ہے لیکن امریکی حکمران عالمی سطح پر اپنے خلاف تنقیدبرداشت نہیں کر سکتے لہٰذا وہ اس موضوع پر اجلاسوں کے انعقاد کے سرے سے ہی خلاف ہیں اور اگر اقوام متحدہ جیسا سب سے معتبر بین الاقوامی ادارہ بھی اس موضوع پر اجلاس منعقد کرتا ہے تب بھی امریکا کوئی نہ کوئی بہانہ نکال کر اجلاس کو منسوخ یا ملتوی کرا دیتا ہے تاکہ اس معاملے پر بات ہی نہ ہو سکے کیونکہ اگر بات ہوئی تو ظاہر ہے کہ ملبہ سپر پاور یعنی امریکا بہادر پر ہی گرے گا جو امریکا کے نازک مزاج حکمران برداشت نہیں کر سکتے اور آنے بہانے کارروائی ملتوی یا منسوخ کرا دیتے ہیں۔

یہ تو خیر اجلاس تھا امریکا کو اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ پیرس میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے باقاعدہ فیصلہ ہو گیا اور ایک سمجھوتہ طے پا گیا لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود امریکا اس معاہدے سے باہر نکل گیا کیونکہ وہ اپنی اسلحہ سازی فیکٹریوں پر کوئی قدغن برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں تھا لہٰذا اس نے معاہدہ طے پاتے ہی اسے ''ایبروگیڈ'' کر دیا تاکہ اسے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کوئی کمی نہ کرنی پڑے۔ پولینڈ میں حالیہ مذاکرات دو ہفتوں تک جاری رہے جن سے بڑی توقعات کی جا رہی تھیں اور خیال تھا کہ اس کانفرنس میں2015ء کے پیرس سمجھوتے کی توثیق ہو سکے گی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا اس وقت اہم ایک نہایت اہم اجلاس میں بیٹھے ہیں اور دنیا بھر کی نگاہیں ہم پر لگی ہیں اور وہ توقع کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی حدت میں کمی کے حوالے سے کوئی اہم فیصلہ ہوجائے گا مگر ایسا نہ ہو سکا اور اجلاس کو اختتام سے قبل ہی منسوخ کر دیا گیا۔

مقبول خبریں