شعبہ زراعت میں بہتری لانا صوبوں کی ذمے داری ہے وفاقی وزیر

پاکستانی آم کی کنسائمنٹ مسترد کیے جانے پر وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا اظہار تشویش


Business Reporter July 06, 2013
تعاون کی یقین دہانی، صوبائی حکومتوں، قرنطینہ ڈپارٹمنٹ، وزارت تجارت پر فوری اقدامات کیلیے زور۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے برطانیہ میں پاکستانی آم کی کنسائمنٹ مسترد کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں، قرنطینہ ڈپارٹمنٹ اور وفاقی وزارت تجارت کی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن نے کراچی میں ایکسپورٹرز اور قرنطینہ حکام کے اجلاس کے موقع پر زراعت بالخصوص ہارٹی کلچر سیکٹر کودرپیش معیار اور سپلائی چین کے مسائل کے دیرپا حل کے لیے کاشتکاروں، پراسیسنگ انڈسٹری اور ایکسپورٹرز سمیت متعلقہ تمام اداروں کے لیے آگہی مہم چلانے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے پاکستانی پھل اور دیگر زرعی اشیا کے معیار کی بہتری کے لیے وزارت کی جانب سے ہرممکن سپورٹ اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس کے دوران برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ آف انوائرمنٹ فوڈ اینڈ رورل افیئرز کی جانب سے پاکستانی آم کی کنسائنمنٹ سے فروٹ فلائز کی برآمدگی کو جواز بناکر بھاری مالیت کی کنسائمنٹ مسترد کیے جانے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ زراعت کے شعبے کی بہتری 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمے داری ہے تاہم وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی ہر سطح پر اپنا بھرپور کردار ادا کریگی۔ اس موقع پر آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے وفد کے چیئرمین وحید احمد اور سابق چیئرمین عبدالواحد نے وفاقی وزیر کو آم کے معیار اور فروٹ فلائز سے پیدا ہونیو الی صورتحال سے آگاہ کیا ایکسپورٹرز نے بتایا کہ اس سال آم کے ایکسپورٹرز کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، گلف کی مارکیٹ اور برطانیہ میں 18 ملین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔



انہوں نے بتایا کہ فروٹ فلائی کا مسئلہ بھارت، بنگلہ دیش اور نائیجریا کو بھی درپیش ہے تاہم ان ملکوں نے سرکاری سطح پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے لیکن پاکستانی حکام اور متعلقہ وزارتوں قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس مسئلے کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی۔ ایکسپورٹرز نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پاکستان سے ایک فیکٹ فائنڈنگ وفد برطانیہ روانہ کیا جائے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ متاثرہ ایکسپورٹرز کے نقصان کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جائیں، ایسوسی ایشن نے تجویز دی کہ سرکاری سطح پر برطانیہ کو ایک سال کے لیے آ م کی برآمد پر پابندی عائد کی جائے تاکہ اس دوران مقامی انڈسٹری خود کو اپ گریڈ کرسکے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ فروٹ فلائز کے خاتمے کے لیے موثر ٹیکنالوجی ثابت ہوئی ہے تاہم پاکستان میں صرف 2 پیک ہاؤسز کے پاس یہ سہولت موجود ہے اس لیے ایک سال کی پابندی کی مدت کے دوران مقامی سطح پر زیادہ سے زیادہ پیک ہاؤسز میں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی سہولت مہیا کی جائے۔ اجلاس میں ملک گیر سطح پر آگہی مہم چلانے پر بھی اتفاق کیا گیا جس کے مطابق ہارٹی کلچر سیکٹر کی مکمل سپلائی چین میں شامل تمام اسٹیک ہولڈرز میں آگہی پھیلانے کے لیے خصوصی ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جائیں گے۔