آرگینک فارمنگ کوفروغ دینے کی ضرورت ہے احمدجواد

آرگینک فارمنگ کیلئےایران اقدامات کررہاہے اور بھارت میںقانون سازی ہوچکی،سی ای اوہارویسٹ ٹریڈنگ


APP August 20, 2012
ہارویسٹ ٹریڈنگ کے چیف ایگزیکٹواحمدجوادنے کہا کہ آرگینک فارمنگ کو فروغ دیکر کھاد کی درآمدات کو کم سے کم کیاجاسکتاہے جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی. فوٹو: رائٹرز/ فائل

لاہور: سستی زرعی پیداوارکے حصول کیلیے آرگینک فارمنگ کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے،ہارویسٹ ٹریڈنگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسراوراسلام آبادچیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری کے ممبرایکسپورٹ احمدجواد نے ہفتہ کوخصوصی گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ملک میں ماحول،زمین اورپانی کو صاف وشفاف رکھنے کیلیے آرگینک فارمنگ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون سازی کرے،انھوںنے کہاکہ بھارت میں اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کی گئی ہے ،آر گینک فارمنگ کے ذریعے زمین کی زرخیزی میں کمی کو روک کر اس کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

احمد جواد نے بتایا کہ یورپ میں فارمنگ کے جدید طریقہ کو نمایاں فروغ حاصل ہواہے اوربھارت نے بھی اس طریقہ کاشت سے اپنی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیاہے،اسی طرح ایران بھی اس حوالے سے اقدامات کر رہا ہے جبکہ پاکستان میں آرگینک فارمنگ کے حوالے سے ابھی تک اقدامات نہیںکیے جاسکے،انھوںنے کہاکہ آرگینک فارمنگ کے ذریعے حاصل کی جانے والی پیداوار کی قیمتیں بین الاقوامی منڈیوں میں بہت زیادہ ہیںاور اس طریقہ کاشت سے بھرپور استفادہ کر کے پاکستان خطیرزرمبادلہ کماسکتا ہے، احمد جوادنے کہاکہ حکومت ہرسال زرعی شعبے کی سبسڈی کیلیے اربوں روپے خرچ کرتی ہے اور مالی سال 2011-12کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران حکومت نے کھادکی درآمدپرکثیررقم کی سبسڈی دی تھی۔

انھوںنے کہا کہ آرگینک فارمنگ کو فروغ دیکر کھاد کی درآمدات کو کم سے کم کیاجاسکتاہے جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی ۔ احمد جواد نے کہاکہ ہمارے کسانوں کوچاہیے کہ آرگینک فارمنگ کے طریقہ کاشت کو اختیار کریںجس سے پیداواری اخراجات میں نمایاں کمی ہوگی اوران کامنافع زائد ہوگا، انھوںنے بتایاکہ اس وقت ملک میں 83 شوگرملیںکام کر رہی ہیں جوآرگینک فارمنگ کیلیے کھاد فراہم کرنے میں نمایاںکرداراداکرسکتی ہیںجس سے پیداواری اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔