گناہ ٹیکس: بڑا سوچنے کی ضرورت ہے

سعدیہ مظہر  بدھ 19 دسمبر 2018
مرد سگریٹ نوشی کرے تو اس کے پھیپھڑے خراب ہوتے ہیں اور اگر سگریٹ نوشی عورت کرے تو اس کا کردار۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

مرد سگریٹ نوشی کرے تو اس کے پھیپھڑے خراب ہوتے ہیں اور اگر سگریٹ نوشی عورت کرے تو اس کا کردار۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

بچوں کے شوق کچھ مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ بچہ جب آزادانہ زمین پر گھومنے لگتا ہے تو گھر میں دیواروں پر لگا روغن اور گملے میں پڑی مٹی نہ جانے اسے کیوں بھاتی ہے۔ مگر یہ سب وہ لاشعوری طور پر کرتا ہے۔ شاید نئے ذائقے بھاتے ہوں۔ مگر کچھ شوق ایسے ہی لڑکپن میں بھی سلامت رہتے ہیں۔ عجیب بات یہ کہ لڑکپن میں لڑکے لڑکی کے شوق میں تبدیلی ضرور آجاتی ہے، دوسری اہم بات یہ کہ اس عمر میں یہی شوق کبھی کبھار عیاں ہونے پر والدین کی ناراضی اور سزا کا سبب بھی بنتے ہیں۔

اسی لڑکپن میں جب میری عمر کی لڑکیاں سوندھی مٹی کی خوشبو کا پیچھا کیا کرتی تھیں، املی اور کچے آم کھایا کرتی تھیں، تب میرا پسندیدہ شوق پی ہوئی سگریٹ کی خوشبو سونگھنا ہوا کرتا تھا۔

ارے نہیں جناب! پینے کا تو تصور بھی سر نہیں اٹھا سکتا تھا۔ ہاں! کالج میں کہیں پیے ہوئے سگریٹ مل جاتے تو بیگ میں چھپا کر رکھ لیا کرتی تھی۔ ہمارے گھرانوں میں یہ گناہ ہی تصور کیا جاتا تھا۔

ایک بار اتفاقیہ چوری پکڑی گئی اور سزا کے طور پر خرچہ پانی بند ہوا تو شوق کو مجبوراً گولی مارنا پڑی (خدا گواہ ہے کہ تب تک امرتا پریتم سے کوئی آشنائی نہیں ہوئی تھی) بس سزا نے اس ناکردہ گناہ کا ایسا خوف ڈالا کہ چاہ کر بھی اس چاہ کو دوبارہ سر اٹھانے نہ دیا۔

برسوں بعد اس چنگاری نے پھر بھڑک ماری تو سگریٹ ہونٹ میں دبا کر لائٹر جلایا اور کش لگایا۔ کش کے احساس سے زیادہ آزادی کے احساس نے سیروں خون بڑھایا مگر شومئی قسمت! سنا ہے اب کی بار حکومت میدان میں آگئی۔ یعنی سرٹیفائیڈ گناہ۔

ٹھہریئے! آپ آزاد ہیں، بالکل آزاد، اپنے سب فیصلوں میں۔ یہاں مقصد ہلکی سی ضرب ہے شاید۔ کوشش کیجیے کہ آپ شاید سنبھل جائیں۔

اسلام آباد کی ایک جامعہ کے کچھ طلبہ بہت دلبرداشتہ ملے۔ پوچھنے پر کہنے لگے اگر سگریٹ نوشی گناہ ہے تو فتویٰ لگا دیجیے لیکن یہ کیا کہ گناہ بھی ہے مگر ٹیکس ادا کرکے گناہ کرلیجیے۔

اس بات سے مجھے اختلاف ہے، مکمل اختلاف۔ ہم گلہ کرتے ہیں کہ کھل کر جینے نہیں دیا جاتا، آزادی سے کچھ کرنے نہیں دیتے۔ اور اب جب اجازت دی جا رہی ہے تب بھی اعتراض۔ اے نوجوان آخرتجھے ہوا کیا ہے… ترے اعتراض کی دوا کیا ہے؟

’سن ٹیکس‘ اچانک اس اصطلاح کا ہماری سرزمین پر استعمال چونکا دینے والا ضرور ہوسکتا ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر یہ اصطلاح ایسی تمام اشیاء اور کاموں کےلیے استعمال کی جا رہی ہے جو کم یا زیادہ مگر مضرِ صحت ہیں۔

امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ بہت سے دوسرے ممالک میں یہ ٹیکس ’سن ٹیکس‘ کے نام سے لگائے اور وصول کیے جارہے ہیں اور فلپائن میں یہ ٹیکس 2002 سے نافذ ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم ان ممالک میں غریب افراد کے صحت و معالجے کےلیے استعمال کی جاتی ہے۔ یو اے ای اور سعودیہ جیسی ریاستوں میں بھی مختلف مصنوعات پر ’سن ٹیکس‘ نافذ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان پندرہ ممالک میں ہوتا ہے جہاں تمباکو نوشی سے منسلک بیماریاں سب سے زیادہ پائی جاتی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً 23 فیصد مرد اور 6 فیصد خواتین تمباکو نوشی کرتی ہیں۔ ایس ڈی سی پی تنظیم کے 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق، ہمارے ملک میں ہر سال ایک لاکھ پچیس ہزار سے زیادہ شہریوں کی اموات کی وجہ تمباکو نوشی ہے۔

بات ڈر یا خوف کی نہیں! بات انصاف کی ہے، میرا مطلب ’تحریک انصاف‘ کی۔

آگر آپ دلائل دیں کہ جی یہ تو ترغیب دلانے والی بات ہوئی تو جناب، انداز بدلنے کا وقت ہے، سوچ کا انداز۔

تمباکو نوشی عادت سے ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کا حصہ بنتی جاتی ہے۔ میرے نزدیک ’سن ٹیکس‘ لگنے سے اب غریب مزید صبر کرنا سیکھے گا اور امیر اپنے بجٹ میں کچھ مزید اضافہ کرنے کا۔ غور کریں تو ’مزید‘ دونوں جگہ استعمال ہورہا ہے۔

’سن ٹیکس‘ سے زیادہ کھلبلی مرد حضرات میں مچی، جو کہ جائز بھی ہے؛ کیونکہ ہمارے ملک میں یہ عیاشی بھی مردوں کے حصے آئی۔ تعجب اس بات پر رہا کہ مرد سگریٹ نوشی کرے تو اس کے پھیپھڑے خراب ہوتے ہیں اور اگر سگریٹ نوشی عورت کرے تو اس کا کردار۔

اللہ کی اتنی بڑی زمین پر رہتے ہوئے چھوٹا سوچنا بھی بہت زیادتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ سگریٹ نوشی سے بچیں گے تو نہ صرف پھیپھڑے محفوظ بلکہ ڈاکٹر کی فیس اور دواؤں کا خرچہ بھی؛ اور اگر پئیں گے تو آپ کی ادا کردہ رقم کسی غریب کی فلاح میں کام آجائے گی۔

بدقسمتی سے تمباکو نوشی کی عادت بہت تیزی سے ہمارے تعلیمی اداروں کے طلباء میں پھیل رہی ہے۔ وجوہ جو بھی ہوں، اہم اس پر بند باندھنا ہے۔ وہ ٹیکس کی صورت ہی سہی۔ تنقید برائے اصلاح کو فروغ دینے کا وقت بھی ہے؛ اور سمت کے درست تعین کا بھی۔

پاکستانی قوم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر بات میں مزاح کا پہلو ضرور ڈھونڈ لیتے ہیں۔ جیسا کہ ابھی ’سن ٹیکس‘ کے لگنے سے مرد حضرات نے پریشان ہونے کا سوچا ہی تھا کہ خواتین کی اس ٹیکس پر مسرت نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ ایک ٹیکس اور لگنا چاہیے۔ جی جی بالکل! وہی ’دھوکہ ٹیکس۔‘

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سعدیہ مظہر

سعدیہ مظہر

سعدیہ مظہر صحافی اور سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف قومی جرائد میں انگریزی اور اردو میں لکھتی ہیں۔ ان کا ای میل [email protected] ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔