علی اعجاز فن کا سورج غروب ہوگیا

جو بھی روپ دھارا، وہ لاجواب تھا،ان کے کردار اور مکالمے عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔


Editorial December 20, 2018
جو بھی روپ دھارا، وہ لاجواب تھا،ان کے کردار اور مکالمے عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔ فوٹو: فائل

فن اداکاری میں یکتا ، ورسٹائل علی اعجاز نے حکومت اور سماج کی بے حسی سے منہ موڑ لیا، انھوں نے زندگی کے آخری بارہ برس انتہائی کسمپرسی کے عالم میں گزارے ۔ ریڈیو، ٹی وی اور فلم تینوں میڈیم میں انھوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا ، وہ اول وآخر اداکار تھے۔انھوں نے ہالی وڈ کی فلم ''ٹائیگرکنگ'' میں مارلن برانڈو کے ساتھ بھی کام کیا ۔

جو بھی روپ دھارا، وہ لاجواب تھا،ان کے کردار اور مکالمے عوام میں بے حد مقبول ہوئے، چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا ہنر ان سے زیادہ کسی کو نہیں آتا تھا، مختلف کرداروں کے تکیہ کلام تو ضرب المثل کی حیثیت اختیارکرچکے ہیں۔

ایک وہ وقت تھا جب ان کی کسی ڈرامے یا فلم کی کاسٹ میں شمولیت کامیابی کی کنجی سمجھی جاتی تھی ۔ان کی دوستی رفیع خاور اورمنور ظریف سے تھی ، دوستی نے اپنا رنگ دکھایا اور وہ فن اداکاری سے وابستہ ہوگئے، ریڈیو پروگراموں کی میزبانی کے فرائض بھی انجام دیے ۔ فلموں میں آنے سے پہلے ان کا ڈرامہ 'لاکھوں میں تین' پی ٹی وی سے سپرہٹ ہوا ۔

علی اعجازکی مشہور فلموں میں سالا صاحب اور دبئی چلوکا شمار ہوتا ہے جب کہ مشہور ٹی وی ڈراموں میں خواجہ اینڈ سنز،کھوجی اور شیدا ٹلی شامل ہیں۔ علی اعجازکی پنجابی فلموں مفت بر اور دادا استاد نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے، پیار دا بدلہ، بھائیاں دی جوڑی، یملاجٹ، بد نالوں بد نام برا ،عشق میرا ناں، سادھو اور شیطان، لیلیٰ مجنوں، ظلم کدی نئیں پھلدا ، سدھا رستہ، بادل، سوہرا تے جوائی، مسٹر افلاطون، نوکر تے مالک، ووہٹی دا سوال اے، باؤ جی، دشمن پیارا ، اندھیر نگری، دھی رانی، چور مچائے شور، عشق میرا ناں، بھروسہ، اتھرا پتر، آپ سے کیا پردا، عشق سمندر مشہور پنجابی فلموں میں شامل ہیں۔

انھوں نے89 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اداکار ننھا اورعلی اعجاز کی جوڑی 80ء کی دہائی میں مقبولیت کی بلندیوں پر رہی، حکومت نے انھیں 14اگست 1993ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ انھوں نے اپنے دورکی تمام مشہور اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا۔

علی اعجاز نے ایک ڈرامہ بھی بنایا جو ایک پرائیویٹ چینل سے نشر کیا گیا لیکن انھیں اس کی ادائیگی نہ کی گئی،آخر ایک ایسا وقت آیا کہ انھوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرلی پھر ان کا زیادہ تر وقت ادبی کتب کے مطالعے میں گزرا۔ صد افسوس! ہم اپنی روایتی بے حسی کے باعث اتنے بڑے فنکارکی قدر نہ کرسکے اور فن کا سورج غروب ہوگیا ۔

مقبول خبریں