امن عمل کیلیے ٹریک ٹوڈپلومیسی جاری نئی دہلی میں شہریار کی منموہن کے بعد مزید حکام سے ملاقاتیں

وزیراعظم نوازشریف کےخصوصی ایلچی بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید، قومی سلامتی کےمشیرشیوشنکرمینن اوررنجن متھائی سےبھی ملے


Online July 07, 2013
اس وقت ماحول اچھا ہے، امید ہے کہ بات چیت کی بحالی کیلیے پاکستان ہمارے خدشات دور کرنے کیلیے اقدامات کریگا، سلمان خورشید.فوٹو : فائل

پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکراتی عمل کی بحالی کیلیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں بھی تیزی آگئی ہے۔

اس سلسلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خصوصی ایلچی شہریار خان نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید، قومی سلامتی کے مشیر شیو شنکر مینن اور سیکریٹری خارجہ رنجن متھائی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی وزیراعظم کے خصوصی ایلچی کی ملاقاتوں کا مقصد بظاہر دونوں ملکوں کے درمیان کئی ماہ سے تعطل کے شکار مذاکراتی عمل کی بحالی ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے پاک بھارت تعلقات کے باریمیں سوال کا جواب دیتے ہوئے اعلان کیا کہ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ بہت جلد مذاکراتی عمل شروع کیا جائے گا۔



اس وقت ماحول اچھا ہے اور خوشگوار بات چیت کیلیے ماحول کو مزید اچھا بنایا جائے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی نئی حکومت کو اپنا کام سنبھالنے دیں، تب ہی ہم بات چیت بحال کرسکتے ہیں لیکن کچھ مسائل ایسے ہیں جن پر دونوں ملکوں کی حکومتیں اور عوام کسی ٹھوس پیشرفت کی امید کرتے ہیں۔ ہمیں اطمینان ہے کہ بعد میں یہ عمل بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھے گا۔ سلمان خورشید کے مطابقمرکزی حکومت کی توجہ اس وقت اس بات پر مرکوز ہے کہ پاکستان کیساتھ مختلف شعبوں میں بات چیت بحال کی جائے جہاں سے کچھ معاملات پر پیشرفت حاصل کی جاسکتی ہے۔ امید ہے کہ بات چیت کی بحالی کیلیے پاکستان کی طرف سے بھارت کے خدشات دور کرنے کیلیے اقدامات کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں