مہنگائی مہنگائی اور بس مہنگائی

ابھی تک حکومت نے کوئی ایسی پالیسی یا کسی اسکیم کا اعلان نہیں کیا جس سے روز گار کے وسیع مواقعے پیدا ہوں۔


Editorial December 21, 2018
ابھی تک حکومت نے کوئی ایسی پالیسی یا کسی اسکیم کا اعلان نہیں کیا جس سے روز گار کے وسیع مواقعے پیدا ہوں۔ فوٹو: فائل

ڈالر مہنگا' گیس مہنگی' بجلی مہنگی' پٹرول مہنگا اور اب ہو گیا مہنگا آٹا' اس پر بھی ہے یارو چاروں طرف چھایا سناٹا۔ اب نیپرا نے بجلی کے بلوں میں 1روپے27پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے ' ادھر لاہور میں آٹا چکی مالکان نے ایک کلو چکی آٹے کی قیمت میں 2روپے اضافہ کر دیا جس سے اب اس کا ریٹ 50روپے سے بڑھ کر 52روپے ہو گیا' تندوری روٹی کی قیمت بڑھنے کا بھی امکان ہے جس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوگا۔سو کلو چینی کی بوری کی قیمت میں دو سو روپے کا اضافہ ہو گیا۔

اس طرح شوگر ملز مالکان کی چاندی ہوگئی ہے۔ وہ گنے کے کاشتکاروں کا بھی استحصال کررہے ہیں اور کنزیومرز کا بھی اور انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ریٹیلرز بھی موج میں ہیں ، ان کا بھی کچھ نہیں بگڑ رہا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر1پیسے کے اضافے سے 138روپے 94پیسے ہو گئی۔اس کا اثر بھی درآمدی اشیاء کی قیمت پر پڑے گا اور وہ مہنگی ہوجائیں گی۔

جب سے موجود ہ حکومت اقتدر میں آئی ہے عوام کو آئے دن کسی نہ کسی جنس کی قیمت میں اضافے ہی کی خبر ملتی ہے۔ بجلی مہنگی کرنے کے حوالے سے نیپرا نے نوٹیفکیشن کے لیے فیصلہ وفاقی حکومت کو ارسال کر دیا 'اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بجلی تمام تقسیم کار کمپنیوں(ڈسکوز) کے لیے 1روپے27پیسے فی یونٹ کا یکساں ٹیرف منظور کر لیا گیا ہے' صارفین سے یکساں ٹیرف ایک سال کے لیے وصول کیا جائے گا' نوٹیفکیشن کے بعد ایک سال میں ٹیرف کو ایڈجسٹ کیا جائے گا' نیپرا نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ یکساں ٹیرف میں ٹارگٹڈ سبسڈی بھی شامل ہے' وفاقی حکومت صارفین کے حقوق کا خیال رکھے۔

اطلاعات کے مطابق نیپرا نے اپنے اس فیصلے سے بجلی صارفین پر 226ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، اب حکومت اس بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے، یہ دیکھنے کی بات ہے۔

ایک طرف حکومت بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے پٹرول' بجلی اور گیس کو مہنگا کر رہی ہے تو دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر قوم کو آیندہ ماہ جنوری میں منی بجٹ لانے اور ٹیکسوں میں اضافے پر غور کی خوشخبری سنا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ قوم کو یہ مژدہ بھی سنا رہے ہیں کہ نئے اقدامات کی بدولت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بحران پر قابو پا لیا' سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مذاکرات پر قوم جلد خوشخبری سنے گی۔

آئی ایم ایف سے معاشی اصلاحات پر اختلافات ہیں' ہم نے جہاز لینڈ کرانا ہے کریش نہیں۔ حکومت کا رواں سال یہ تیسرا بجٹ ہو گا۔ پہلے بجٹ سال میں ایک بار پیش ہوتا تھا اور پورے ملک کے معاشی نظام کو چلانے کے لیے طریقہ کار وضع کر دیا جاتا تھا لیکن اب لگتا ہے حکومت نے مالیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہر چند ماہ بعد نیا بجٹ پیش کرنے کا وتیرہ اپنا لیا ہے غالباً اس کا یہ خیال ہے کہ جس طرح کچھ عرصے بعد کرکٹ کے میچ کروا کر کھیل کو فروغ دیا جاتا ہے بالکل اسی طرح ہر چند ماہ بعد نیا بجٹ پیش کر کے وہ ملک کے مالیاتی نظام میں تبدیلی لے آئے گی' حکومت کے معاشی بزرجمہروں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ ملک ہے کوئی کھیل کا میدان نہیں۔ حکومت چلانے کے لیے فہم و فراست اور تجربہ کار ماہرین پر مشتمل ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ان دونوں نعمتوں سے محروم ہے۔

ایک طرف ملک بھر میں تجاوزات ہٹانے کے نام پر ایک کروڑ لوگوں کو بے روز گار اور 50لاکھ کو بے گھر کرنے کا ٹاسک پورا کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب مہنگائی میں تیز ترین اضافے نے عام آدمی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ حکمران بار بار یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ ملک سے ہنڈی کے ذریعے بڑے پیمانے پر سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے۔

عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر حکومت ہی بے بسی کا اظہار کر رہی ہے تو پھر فلائٹ آف کیپیٹل کو کون روکے گا؟ تعلیم' صحت اور دیگر شعبوں کی حالت بھی بدستور دگرگوں ہے اور ابھی تک ان میں تبدیلی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف آج بھی حکومت کی جانب سے سہولتیں نہ ملنے پر شکوہ سنج ہیں' شہروں اور دیہاتوں میں سڑکوں کی حالت بھی بہتر نہیں' ناقص سیوریج کا نظام اور پینے کا غیرمعیاری پانی آج بھی عوام کی زندگی کا بدستور حصہ ہے۔

ابھی تک حکومت نے کوئی ایسی پالیسی یا کسی اسکیم کا اعلان نہیں کیا جس سے روز گار کے وسیع مواقعے پیدا ہوں' تجارتی' صنعتی اور زرعی شعبہ بھی پہلے کی طرح مشکلات سے دوچار ہے۔برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی کے بھی کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ حکومت نے ابھی تک ایسی کوئی خوشخبری نہیں سنائی جس سے عوام مطمئن ہو سکے کہ ان کی زندگی میں واقعی تبدیلی آ رہی ہے۔ حکومت ان وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائے جو اس نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیے تھے۔

مقبول خبریں