چین اور بھارت کا سرحدی تنازعات کے حل کی کوشش تیز کرنے پر اتفاق

سرحدپرمختلف جگہوں پراہلکاروں کےاجلاسوں میں بھی اضافہ کیاجائےگا،دونوں ملکوں کودیرینہ سرحدی مسئلےکافوری حل نکالنا ہوگا۔


AFP July 07, 2013
دونوں ملک بحری جہازوں اور ایئرفورسز کے اعلیٰ سطح کے وفود کے دوروں میں اضافہ کرینگے، چین بھارت دوستی دنیا کے مفاد میں ہے، اے کے انتھونی کی چینی ہم منصب سے ملاقات، فوجی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق.فوٹو: فائل

چین اور بھارت نے سرحد پر امن وآشتی کومزیدمستحکم بنانے کیلیے کوششیں تیزکرنے اور متنازع سرحدی علاقے میں کشیدگی پرقابوپانے کیلیے مل کرکام کرنے پر اتفاق کیاہے ۔

جبکہ چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہا ہے کہ بھارت اور چین کوتصفیہ طلب سرحدی مسئلے کااب کوئی حل نکالنا ہوگا۔ چینی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق چین کے وزیردفاع جنرل چنگ وان کوآن اور بھارتی وزیردفاع اے کے انتھونی نے ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ دونوں ملکوں نے باہمی اعتماد کوفروغ دینے اور دونوں فوجوں کے درمیان ہم آہنگی کی اہمیت پر زوردیا۔ دونوں وزرائے دفاع نے امن برقرار رکھنے کیلیے معاہدوں اور دستاویزات پرکام کرنے کا جائزہ لیااورفیصلہ کیاکہ اس عمل کومزید مستحکم بنایاجائے گا۔ فریقوں نے سرحدی دفاعی تعاون پر مجوزہ معاہدے کیلیے مذاکرات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر بھی اتفاق کیا، بات چیت کو آگے بڑھانے اور اعتماد اور تعاون کی فضا کو مستحکم بنانے کیلیے سرحدی دستوں کے وفود کا تبادلہ کیاجائے گاجبکہ سرحدپرمختلف جگہوں پر اہلکاروں کے اجلاسوں میں بھی اضافہ کیاجائے گا۔



بیان کے مطابق دونوں ملک اپنی اپنی بحریہ کے ذریعے بحری جہازوں اور ایئرفورسز کے اعلیٰ سطح کے وفود کے دوروں میں بھی اضافہ کریںگے۔ چینی خبر رساں ادارے زنہوا کے مطابق بھارتی وزیردفاع اور چینی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ افسر یانگ جیچی نے مذاکرات کیے اورکہاکہ دونوں ملکوں کو سرحد کی ساتھ امن یقینی بنانے کیلیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ یانگ جیچی نے اے کے انتھونی کو بتایا کہ اپنیسرحدوں پر امن یقینی بنانے کیلیے کوششیں کرنی چاہئیں جس کے جواب میں انتھونی نے کہا کہ بھارت اس حوالے سے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیارہے۔ دریں اثنا بھارتی وزیر دفاع نے چین کے وزیراعظم سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر لی کی چیانگ نے کہاکہ بھارت اورچین کے درمیان امن و استحکام کا ماحول پیدا کرنے کیلیے سرحدی مسائل فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اے کے انتھونی نے کہاکہ بھارت اور چین کے درمیان دوستی کافروغ عالمی برادری کے بھی مفاد میں ہے۔