جنوبی کوریا کو آم کی برآمد سے باہمی تجارت مستحکم ہوگی

برآمد کیے جانے والے آموں کی پراسیسنگ کے معیار میں بہتری کی ضرورت ہے،احمد جواد


APP July 08, 2013
برآمد کیے جانے والے آموں کی پراسیسنگ کے معیار میں بہتری کی ضرورت ہے،احمد جواد۔ فوٹو: فائل

پاکستانی آم جنوبی کوریا کے ساتھ دوطرفہ اقتصادی روابطہ کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستانی آم جنوبی کوریا کو برآمد کیے گئے ہیں۔ آئندہ چند سالوں کے دوران آم کی برآمدات کو 2ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے ۔ ہارویسٹ ٹریڈنگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد جواد نے اتوار کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال جنوبی کوریا نے پاکستانی آموں کے معیار اور ذائقے کی جانچ پڑتال کیلیے تفصیلی معائنے کے بعد آموں کی برآمد کی اجازت دی تھی۔ جس کے بعد رواں سال برآمدات کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آم کی برآمدات سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی فروغ حاصل ہوگا بلکہ برآمدات میں اضافے سے پاک کوریا باہمی تعلقات کو بھی استحکام ملے گا۔



انہوں نے کہا کہ پاکستانی آموں کی دنیا بھر میں بڑی درآمدی منڈیاں موجود ہیں جبکہ جنوبی کوریا پاکستانی آم کی بڑی درآمدی منڈی ثابت ہو سکتا ہے ۔ احمد جواد نے کہاکہ جنوبی کوریا کو آم کی برآمدات کا آغاز خوش آئند ہے جس سے پاکستانی پھلوں کی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کو برآمد کیے جانے والے آموں کی پراسیسنگ کے معیار میں بہتری کی ضرورت ہے کیونکہ جنوبی کوریا میں پھلوں کی درآمدات کے حوالے سے کوالٹی کنٹرول کا معیار انتہائی سخت ہے۔ احمد جواد نے بتایا کہ جنوبی کوریا کو برآمد کیے جانے والے آموں کو 48ڈگری درجہ حرارت پر 65منٹ تک پراسیس کیاجائے تاکہ ہر قسم کے بیکٹریا کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سیزن کے دوران آم کی برآمدی شپمنیٹس میں بعض بیکٹریاز کی موجودگی کے باعث برآمد کنند گان کو نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہاکہ برآمد کنند گان کو چاہیے کہ وہ شپمنٹ بھیجنے سے قبل پھلوں کو اچھی طرح چیک کرلیا کریں اور اگر کسی بھی قسم کے وائرس کا شک ہو تو لیبارٹری ٹیسٹ کروانے کے بعد پھل برآمد کیے جائیں تاکہ کسی قسم کے نقصان کا احتمال نہ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں احمد جواد نے اے پی پی کو بتایا کہ پاکستانی برآمد کنند گان جنوبی کوریا کو پھلوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اور آئندہ دو تین سالوں تک برآمدات کے حجم کو 2ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتاہے کیونکہ جنوبی کوریا پھلوں کا بڑا درآمد کنندہ ہے۔