عرب امارات کا مالی  پیکیج

ملکی معیشت کو ملکی وسائل سے مستحکم کرنے کے کے لیے بریک تھرو کی ضرورت ہے۔


Editorial December 23, 2018
ملکی معیشت کو ملکی وسائل سے مستحکم کرنے کے کے لیے بریک تھرو کی ضرورت ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے دوست ملکوں کی طرف سے مالی امداد و اعانت کا سلسلہ جاری ہے، اگلے روز ایک اچھی خبر یہ تھی کہ متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں 3 ارب ڈالر جمع کرانے کا اعلان کیا جب کہ وزیر اعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مشکل گھڑی میں سپورٹ کرنا ہماری دوستی کی عکاسی کرتا ہے جو برسوں تک قائم رہے گی۔

واضح رہے اس سے قبل سعودی عرب مجموعی طور پر6 ارب ڈالر دینے اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے کی یقین دہانی کرا چکا ہے، قرضہ کی دو قسطیں پاکستان تک پہنچ بھی چکی ہیں۔

ترجمان اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ابھی یو اے ای حکام نے اعلان کیا ہے رقم اسٹیٹ بینک میں حکومت کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں ہوئی ہے تاہم توقع ہے کہ جلد رقم منتقل ہو جائے گی جس کے بعد ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہو گا، ادھر اے پی پی کے مطابق ابوظہبی کے فنڈ برائے ترقی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ تین ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کیے جائیں گے جس کا مقصد پاکستان کو مالی تعاون فراہم کرنا ہے۔

دوستی کے تقاضوں پر پورا اترنے والے ہمارے دیرینہ مہربان ہیں، ان کی پاکستان اور اس کے عوام سے محبت ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بلاشبہ برادر اور دوست ملکوں نے خیر سگالی کی جو مثال پیش کی ہے وہ خوش آئند ہے، حکومت کے انداز نظر کے مطابق اس مالی تعاون کا فیصلہ دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات اور تاریخی عوامی تعاون کو مدنظر رکھ کرکیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ابوظہبی فنڈ پہلے بھی پاکستان میں توانائی، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر شعبے کے 8 ترقیاتی منصوبوں کے لیے ڈیڑھ ارب درہم فراہم کر چکا ہے، اس میں 93کروڑ درہم گرانٹ کی شکل میں دیے ہیں، پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبیدالذیبی نے جاری بیان میں کہا کہ رقم فراہمی کا مقصد پاکستان کی مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کو مضبوط کرنے کے علاوہ مالیاتی استحکام میں مدد دینا ہے۔

دریں اثنا یو اے ای سفیر نے کہا پاکستان کی مدد دونوں ممالک کے عوام کے تاریخی رشتے اور ان سماجی و ثقافتی تعلقات کی بنیاد پر ہیں جن کے ذریعے دونوں ممالک صدیوں سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں جب کہ باہمی تعلقات مختلف شعبوںمیں وسیع البنیاد تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ پاکستان سے دیرینہ اور تاریخی تعلقات اس امداد کی اساس ہیں، لیکن بنیادی سوال قرضوں پر انحصار سے بالاتر اقتصادی نشاۃ ثانیہ اور فرسودہ معاشی نظام کی مکمل اوور ہالنگ اور قرض کی مے پینے کی لت سے چھٹکارا پانے کی ہے، یوں تو پاکستان کو چین سے بھی تین ارب ڈالر ملنے اور مزید سرمایہ کاری کی توقع ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دوست ممالک کی مدد کے باوجود پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی مجبوری کس بات کی غمازی کرتی ہے جب کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر کا سار زور سابق حکومتوں کی قرض لینے کر ملکی معیشت کا جنازہ نکالنے کے الزامات پرہے۔

اس لیے ضرورت قرضوں پر قائم بیمار معیشت کے مستقل سدھار کی ہے۔ ماضی کے قرضہ جاتی حوالے دل ہلا دینے والے ہیں جب کہ پی ٹی آئی حکومت کا معیشت کی زبوں حالی کا چرچا بھی کچھ ایسا غلط بھی نہیں، 2012ء کی اخباری رپورٹ ہے کہ چار سال میں غیر ملکی قرضے 14.15 ارب ڈالر بڑھے، بیرونی واجبات45.79 ارب سے60.3 ارب ڈالر، مقامی قرضے7206.9 ارب روپے ہوگئے، اسی سال اسٹیٹ بینک کا اعلامیہ جاری ہوا جس کے مطابق حکومتی قرضہ 12کھرب سے بڑھ کر72 کھرب تک پہنچ گیا۔

2006-07گیر ملکی سرمایہ کاری کا انہدام ہوا جو 8.4 بلین ڈالر سے کم ہو کر 2011 میں 0.8 بلین ڈالر ہو گئی، سیکریٹری پانی و آب پاشی نے 2012 میں کہا کہ ہمیں 280 ارب ڈالر سالانہ کا خسارہ ہے،2016 میں انکشاف ہوا کہ پاکستان پر بلند ترین سطح کا قرضہ 67ارب ڈالر ہے۔

دسمبر 2002 میں ہمارے معاشی مبصر کی رپورٹ تھی جس میں کہا گیا کہ دنیا کے مجموعی قرضے 200 ہزار ارب ڈالر سے بھی زائد ہو چکے ہیں۔2011-12 کے بجٹ میں معیشت کی خستگی کا حال یہ تھا کہ بجٹ خسارہ 10کھرب روپے کی خوفناک حد کو چھو رہا تھا گویا ہمارے سالانہ اخراجات ہماری سالانہ آمدنی 10 کھرب سے بھی زیادہ ہوںگے۔ لہذا ماضی کے گراں بار قرضوں کے آئینہ میں حکومت پاکستان کے سر666 ارب کے گردشی قرضہ کو پیش نظر رکھے اور قرضوں کے جال میں پھنسنے سے گریز کرے۔

ملکی معیشت کو ملکی وسائل سے مستحکم کرنے کے کے لیے بریک تھرو کی ضرورت ہے۔اور وہ بھی ملکی و غیر ملکی قرضوں کے بغیر۔

 

مقبول خبریں