فلسطینی نژاد مبلغ ابوقتادہ برطانیہ سے عمان پہنچ گئے

برطانیہ اورعمان کے درمیان ایک دہائی پرانی قانونی جنگ اختتام پذیر.


Online July 08, 2013
اردنی فوجی استغاثہ نے ابوقتادہ پر دہشتگردی کے الزامات پرفرد جرم عائدکردی۔ فوٹو : اے ایف پی

انتہا پسند اسلامی عالم ابوقتادہ عمان پہنچ گئے ہیں، برطانیہ نے دہشت گردی کے الزامات کاسامنا کرنے کے لیے انھیں ملک بدر کیاہے جس کے بعدایک دہائی پرانی قانونی جنگ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔

ابوقتادہ کے والد، بھائی اورخاندان کے دیگرارکان عدالت کے باہران کی آمدکے انتظارمیں کھڑے تھے۔ 53سالہ فلسطینی نژادمبلغ کو ایک بکتر بند پولیس گاڑی میں جیل سے لندن کے نواح میں ایک فوجی ہوائی اڈے تک لے جایاگیاجہاں سے وہ برطانیہ سے روانہ ہو گئے۔ ابوقتادہ کو 1999میں عمان میں ایک امریکی اسکول پر حملے سمیت دہشت گردی کی دیگر سازشیں تیارکرنے پرعدم موجودگی میں سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن اس کے فوری بعدہی سزائے موت کو عمرقید بامشقت میں تبدیل کردیا گیاتھا۔ 2000میں ایک مرتبہ پھر ملینیم تقریبات کے دوران اردن میں سیاحوںپر دہشت گردحملوں کی منصوبہ بندی کے لیے ان کی عدم موجودگی میں انھیں15سال قیدکی سزاسنائی گئی۔



دریں اثنا اردنی فوجی استغاثہ نے ابوقتادہ پر دہشتگردی کے الزامات پر فردجرم عائد کردی ہے۔ ایک عدالتی اہلکار نے بتایاکہ ریاستی سیکیورٹی کورٹ کے استغاثہ نے ابوقتادہ پر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی سازش کے ساتھ فردجرم عائد کی ہے۔ اہلکار نے مزید تفصیلات بتائے بغیر کہاکہ انھیں مشرقی اردن میں واقع مقرجیل میں 15روز کے لیے عدالتی تحویل میں ریمانڈپر دے دیاگیا ہے۔ صحافیوں کو الزامات سننے کے لیے عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

باوجوداس کے کہ وزیر اطلاعات محمدممانی اردن میں ابوقتادہ کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلانے میں شفافیت کا وعدہ کرچکے ہیں، الزامات پر انھیں پہلے ہی عدم موجودگی میں عمرقید کی سزاسنائی جاچکی ہے۔ تاہم اردنی قانون ان کی موجودگی میں ان کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلانے کاحق دیتاہے۔ برطانو ی ذرائع ابلا غ کے مطابق ابوقتادہ تقریباً 20برس کے بعد اپنے آبائی ملک جارہے ہیں۔ برطانیہ گزشتہ 10برس سے مسلمان مبلغ کو برطانیہ سے نکالنے کی کوشش کررہاتھااور ابوقتادہ کو ملک بدر کرنے کی کوششوں میں 17لاکھ پونڈ خرچ کر چکاتھا۔ ناکامی کے بعد اردن کی حکومت کے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت تشدد کے ذریعے حاصل کی جانے والی شہادت کو ان کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ٹریسامے نے کہاکہ آخر کار ہم اس میں کامیاب ہو گئے ہیں جو ہم سے پہلے کی حکومتیں پارلیمان اور برطانوی عوام کرنا چاہتی تھیں۔

مقبول خبریں