ٹریکٹروں کی درآمد سے مقامی انڈسٹری تباہ ہو جائے گی محمد شاہد

حکومت مقامی ٹریکٹر انڈسٹری کا مفاد مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے، چیف ایگزیکٹیو الغازی ٹریکٹرز


Business Reporter December 25, 2018
پنجاب نے 5 سال سے پرانے ٹریکٹروں کی ٹیکس فری درآمد کی اجازت دینے کی سفارش کی ہے فوٹو: آئی این پی/ فائل

پرانے ٹریکٹروں کی درآمد سے مقامی مینوفیکچرنگ ٹریکٹر انڈسٹری شدید مشکلات کا شکار ہوجائے گی جو پہلے ہی پیداوار اور فروخت کے اعتبار سے بدترین دور سے گزر رہی ہے ٹریکٹروں کی درآمد سے ملک میں بے روزگاری بڑھے گی اور ملازمت کے مواقع ختم ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار چیف ایگزیکٹیو الغازی ٹریکٹرز محمد شاہد حسین نے جاری بیان میں کیا۔ حال ہی میں پنجاب حکومت نے پالیسی میں ترمیم کی سفارش کی ہے جس کے ذریعے 5 سال سے زائد پرانے ٹریکٹروں کی ڈیوٹی اور ٹیکس فری درآمد کی اجازت ہوگی جو وفاقی حکومت کے ایجنڈے کے برخلاف ہے۔ گذشتہ 5 برسوں سے ٹریکٹر انڈسٹری دشواریوں کا شکار ہے اور مکمل پیداواری صلاحیت استعمال میں نہیں آئی ہے جبکہ4، 5 ماہ سے یہ بحران شدید ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پرانے ٹریکٹرز کی درآمد مزید مشکلات پیدا کرے گی اور مقامی انڈسٹری سے حکومتی خزانے کو ہونے والی آمدنی بھی متاثر ہوگی جو اس وقت تقریباً 4.5 ارب روپے ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک میں تیار کیے جانے والے ٹریکٹرز معیاری ہوتے ہیں اور پرزہ جات بھی آسانی سے مل جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کاشتکار گزشتہ 20 سال یا 25 سال پرانے ٹریکٹرز اب تک استعمال کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی سیلز اور سروس کی سہولت بھی باآسانی مل جاتی ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی وفاقی حکومت مقامی ٹریکٹر انڈسٹری، کسانوں، ملازمین اور وینڈر انڈسٹری کے مفاد کومدنظررکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔

مقبول خبریں