کراچی میں دہشت گردی کی الم ناک واردات

ایم کیو ایم کے مختلف رہنماؤں کی سیکیورٹی کے لیے سندھ حکومت نے اقدامات کی فوری ہدایت کی ہے


Editorial December 27, 2018
ایم کیو ایم کے مختلف رہنماؤں کی سیکیورٹی کے لیے سندھ حکومت نے اقدامات کی فوری ہدایت کی ہے (فوٹو: فائل)

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ انھیں ڈیفنس کراچی میں اُن کی رہائش گاہ کے باہر نامعلوم دہشت گردوں نے اس وقت نشانہ بنایا جب انھوں نے اپنی گاڑی رہائش گاہ کے مین گیٹ پر روکی۔ اسی دوران موٹرسائیکل پر سوار دہشت گرد وہاں پہنچے اور ان میں سے ایک نے نیچے اتر کر فائرنگ کی۔ علی رضا عابدی کو سر ، بازو اور گردن پر گولیاں لگی تھیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔

واضح رہے تین روز قبل پاکستان سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے دفتر پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجہ میں دو کارکن جاںبحق اور دو زخمی ہوئے تھے ، اس سے قبل بھی کلفٹن کے پوش علاقہ میں چینی قونصل خانے پر بی ایل او نامی کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جنھیں سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا اور ان کے قبضہ سے خود کش جیکٹ ہتھیار اور بارودی مواد برآمد کیا تھا۔

علی رضا عابدی ایک تعلیم یافتہ اور مہذب فیملی کے فرد تھے۔ وہ خود بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ، بااخلاق شخصیت اور کردار کے مالک تھے۔ ان کا قتل انتہائی افسوسناک ہے۔ اس سے کراچی کی صورت حال ایک بار پھر گمبھیر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کراچی میں بدامنی کے باعث نہ صرف ملکی معیشت بلکہ سیاسی اور جمہوری نظام کو ناقابل تلافی نقصانات پیش آئے ، دہشت گردی اور بے محابہ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ القاعدہ ،طالبان اور داخلی متحارب سیاسی گروپوں میں تصادم کے باعث صوبہ سندھ سمیت ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے حالات سخت تشویش ناک ہوگئے تھے۔

جس کو سامنے رکھتے ہوئے وفاق اور سندھ حکومت نے شہر قائد سے بدامنی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا جسے ملک گیر آپریشن ضرب عضب اور بعد ازاں آپریشن رد الفساد کے ذریعہ منطقی انجام تک پہنچایا گیا تاہم گزشتہ چند ماہ سے کراچی کو دہشت گردی کی مختلف النوع وارداتوں کے ذریعہ پھر سے بدامنی کی آگ میں جھونکنے کے خدشات سر اٹھانے لگے، کراچی میں مختلف قسم کے گروہ موجود ہیں۔ متحدہ لندن کے پھر سے سرگرم ہونے کی اطلاع بھی ہے، رینجرز نے چند روز قبل اسلحہ کی ایک بڑی کھیپ پکڑی تھی، سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ اسلحہ مبینہ طور پر دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والا تھا۔

اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کو امن کے قیام اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ کراچی کا اقتصادی ہب کو محفوظ رکھنے اور شہر میں فرقہ وارانہ، مذہبی اور سیاسی ہم آہنگی کا جو پر امن ماحول بحال ہوا ہے اسے ناکام بنانے کی کوششوں کو سختی سے کچلنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر رہنا چاہیے ۔ بڑھتی ہوسی سیاسی محاذ آرائی کسی کے لیے بھی بہتر نہیں ہو گی لہٰذا اس محاذآرائی کو جتنا کم کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ علی رضا عابدی پر سرعت کے ساتھ قاتلانہ حملہ کرکے شہر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الارمنگ انتباہ دیا گیا ہے ، جب کہ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ نامعلوم دہشت گرد پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال کی ٹائمنگ سے فائدہ اٹھاکر شہر قائد کا امن سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق ایم کیو ایم کے مختلف رہنماؤں کی سیکیورٹی کے لیے سندھ حکومت نے اقدامات کی فوری ہدایت کی ہے۔

سیاسی جماعتوں، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، سماجی شخصیات نے الم ناک واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔افسوس ہے کہ موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے پولیس کی سست روی سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور وہ اپنے ہدف کو نشانہ بنا کر باآسانی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ جائے وقوعہ پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن طارق دھاریجو نے بتایا کہ پولیس کو جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے 4 خول ملے ہیں جنھیں جانچ پڑتال کے لیے فارنسک لیبارٹری بھیجا جا رہا ہے ۔

علی رضا عابدی پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو موٹرسائیکل سوار حملہ آور ان کا تعاقب کرتے ہوئے گھر تک پہنچے اور انتہائی دیدہ دلیری سے واردات کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ کراچی میں 6 جولائی 1972 میں پیدا ہونے والے 46 سالہ علی رضا عابدی نے 2013 میں NA-250 ڈیفنس کی نشست سے انتخاب جیت لیا تھا ، انھیں ملنساری اور خوش اخلاق طبیعت کی وجہ سے پسند کیا جاتا تھا مگر 2018 کے انتخابات میں انھیں NA-243 میں وزیر اعظم عمران خان کے مقابلے پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کہ پارٹی اختلافات بڑھے تو پھر علی رضا عابدی نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی، ان دنوں وہ کلفٹن میں واقع اپنے ریسٹورنٹ کے کاروبار پر توجہ دے رہے تھے۔ علی رضا عابدی کے والد بھی کچھ عرصہ رکن قومی اسمبلی رہے ہیں ، ان کے سوگواران میں بیوہ اور 3 بچے شامل ہیں ۔

وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی نے سیکریٹری داخلہ سندھ عبدالکبیر قاضی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اورعلی رضا عابدی کے بیہمانہ قتل کے بعد سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی سیکیورٹی بڑھانے اور امن وامان کی صورتحال قابو پانے کی ہدایت کی۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا ثناء اﷲ نے کہاکہ دہشت گردی کا دوبارہ سراٹھانا تشویشناک ہے ۔ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ملک کے سیاسی حالات خراب ہوتے دیکھ رہا ہوں لگتا ہے ملک میں کچھ ہونے والا ہے۔ لہذا کراچی کو بدامنی اور دہشتگردی سے بچانے کے لیے فل ایکشن ناگزیر ہے۔ رضا عابدی اور پی ایس پی کے کارکنوں کے قاتلوں کی جلد گرفتاری کسی چیلنج سے کم نہیں۔دہشتگردی کے واقعات ملکی سلامتی اور کراچی کے مستقبل کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

مقبول خبریں