آمریت کے مختلف رنگ
چند ہفتوں سے مصر میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر ساری دنیا میں تبصرے ہورہے ہیں اور خاص طور سے مسلم ممالک میں بے...
چند ہفتوں سے مصر میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر ساری دنیا میں تبصرے ہورہے ہیں اور خاص طور سے مسلم ممالک میں بے پناہ اضطراب پایا جاتا ہے۔ مصر ایک ایسا سماج ہے جس نے دنیا کی قدیم ترین بادشاہتوں کے ستم سہے ہیں۔ فراعنہ اور اس کے بعد آنے والوں کا مصری عوام پر ظلم و جبر ایسی بات نہیں جسے تاریخ فراموش کرسکے۔
یہ بات ہم سب کے سمجھنے کی ہے کہ ظلم و جبر اور جور و ستم بادشاہت کے نام پر کیا جائے، مطلق العنان شخصی حکومت ہو، سوشلزم یا اسلام کے نام پر آمریت ہو یا جمہوریت کے پردے میں مطلق العنانی کی پرورش کی جائے۔ حکمرانی کے یہ تمام طریقے انسانوں کو اور بہ طور خاص بیسویں اور اکیسویں صدی کے انسانوں کو گوارا نہیں۔
یورپ کی آنکھیں سترہویں صدی سے کھلنے لگی تھیں لیکن صنعتی انقلاب کے استحکام کے ساتھ ہی ایشیا اور افریقا کے لوگوں نے بھی جمہوریت کے ذریعے اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرنے چاہے۔ متعدد قومیں اور کروڑوں انسان ایک طویل جدوجہد سے گزر کر جمہوریت کے ثمرات سے فیض یاب ہوئے۔ ان لوگوں پر جب بھی طالع آزمائوں نے آمریت یا مطلق العنان طرز حکومت نافذ کرنے کی کوشش کی تو ایسے عزائم کی شدید مزاحمت کی گئی۔ پاکستان ایسے ہی ملکوں میں سے ایک ہے اور اس کے عوام نے بار بار طالع آزمائوں کے چنگل سے نکلنے کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ 2008 سے ہمیں اپنے یہاں قدم بہ قدم بڑھتی ہوئی جس جمہوریت کا سفر نظر آتا ہے وہ اسی مزاحمت کا ثمر ہے۔
ہمارے یہاں آمریت کا تذکرہ بہت ہوتا ہے اور وہ تمام لوگ جنھیں اپنے اور دوسروں کے بنیادی انسانی حقوق عزیز ہیں، وہ ''آمریت'' کی ہر سطح پر مخالفت کرتے نظر آتے ہیں لیکن اس کے بارے میں گہرائی میںجاکر جاننے کی ضرورت ہے۔ ہم جب 'آمریت' کی اصطلاح دورِ جدید میںاستعمال کرتے ہیں تو دراصل یہ وہ طرز حکومت ہے جس میں عوام کی رائے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کا گلا گھونٹنا اور ان کی نمایندگی کی پرکاہ جتنی اہمیت بھی نہ دینا، بنیادی باتیں ہوتی ہیں۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس سے پہلے دنیا میں آمرانہ نظام موجود نہیں تھے۔ ہزاروں برس سے دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں میں جو بادشاہتیں قائم رہیں وہاں بھی آمریت کا دور دورہ رہا۔ یہ بادشاہتیں خاندانی ہوتی تھیں اور بادشاہ کی تبدیلی اسی وقت عمل میں آتی تھی جب تخت پر بیٹھا ہوا بادشاہ عالمِ بالا کی فطری یا غیر فطری طور پر راہ لے، یا پھر کوئی دوسرا بادشاہ حملہ آور ہوکر اقتدار پر قبضہ کرلے۔
یہ بادشاہ نہایت ظالم بھی ہوسکتے تھے اور نرم دل بھی، لیکن عموماً وہ اپنی رعایا کی زندگیوں میں ضرورت سے زیادہ مداخلت نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنی حاکمیت کو طاقت ور فوج اور نوکر شاہی کے ذریعے قائم رکھتے۔ اول تو عوامی احتجاج کا کوئی تصور نہ تھا اور اگر انفرادی طورپر کچھ جی دار بغاوت کرنے کی جرأت کرتے تو اسے سفاکی اور بے دردی سے کچل دیا جاتا۔ بغاوت کرنے والوں کے سردار کو اس طرح ہلاک کیا جاتا کہ پھر صدیوں تک کسی کی مجال بھی نہ ہوتی کہ وہ تخت پر متمکن شخص کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ہمت کرے۔ بادشاہ زمین پر خدا کا نائب تھا اور خدا کے نائبین کو پروہتوں اور کلیساکی آشیر باد بھی حاصل ہوتی تھی۔
تاریخ میں سلطنت روما کے باغی 'اسپارٹیکس' کی بغاوت جب کچل دی گئی تو باغیوں کو درسِ عبرت بنانے کے لیے فاتح رومی جرنیل نے روم کو جانے والی مرکزی شاہراہ پر ہر میل کے بعد سولیاں گڑوائیں اور باغیوں کے سردار اسپارٹیکس اور اس کے اہم ساتھیوں کو ان سولیوں پر فولادی میخوں سے ٹھونک دیا گیا۔ یہ لوگ کئی دنوں تک لمحہ بہ لمحہ مرتے رہے۔ خون ان کی رگوں سے ٹپک کر پیاسی زمین میں جذب ہوتا رہا، پھر ان پر مردار خور اتر آئے اور ان باغیوں کے بدن پر دعوت اڑاتے رہے۔ یہاں تک کہ سولیوں پر ان باغیوں کے صرف ڈھانچے رہ گئے، ان کے کاسۂ سر میں پرندوں نے اپنے گھونسلے بنائے اور یہ ڈھانچے 'نشان عبرت' کے طور پر سالہا سال تک روم جانے والے تجارتی قافلوں اور مسافروں کے کاروانوں کو یہ بتاتے رہے کہ وہ خواب میں بھی آمرانِ مطلق کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کا تصور نہ کریں۔
صنعتی انقلاب کو دعا دیجیے کہ جس کے بعد دنیا ایک نئے طرز حکمرانی سے واقف ہوئی اور جدید جمہوریت کا پودا برگ و بار لانے لگا۔ اس تصور کو پذیرائی حاصل ہوئی کہ ہر وہ انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوا ہے وہ جمہوری اور بنیادی انسانی حقوق رکھتا ہے اور اسے ان سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ ہم بیسویں صدی کے نصف آخر میں پیدا ہوئے اور اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں عقل و شعور کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ 20 ویں صدی غلام قوموں اور غلام انسانوں کی آزادی کی صدی کہلاتی ہے۔ جمہوری طرز سیاست اور جمہوری طرز حیات کا راستہ روکنے کے لیے بیسویں صدی نے بدترین آمر پیدا کیے۔ اپنی 65 سالہ تاریخ میں ہم بھی چار آمروںکے دیے ہوئے داغ اپنی جمہوریت، اپنے سماج اور اپنے جغرافیے کے سینے پر کھائے بیٹھے ہیں۔ شاید اسی لیے یہ لازم ہے کہ ہم آمریت کے بارے میں گفتگو کریں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ مٹھی بھر لوگ جنہوں نے پاکستانی آمروں کے عہد اقتدار کے دوران بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور جو ہر آمرکو یاد کرتے ہوئے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں اور اس کے دور اقتدار کو ''پاکستان کے سنہرے زمانے'' کے طور پر یاد کرتے ہیں، وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔
''آمریت'' بادشاہت کے روپ میں اب سے ہزاروں برس پہلے رہی ہو یا بیسویں صدی کی آمریتیں ہوں، یہ سب اقتدار کو ذات واحد میں مرتکز کردیتی ہیں اور اس ارتکاز کو قائم و دائم رکھنے کے لیے زندہ انسانوں کی کھال یا گُدی سے زبان کھنچوانے یا انھیں چالیس اور پچاس برس تک کسی ایسے تہہ خانے میں پابہ زنجیر رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا، جہاں آنے والی ہوا سرنگوں سے ہوتی ہوئی آتی ہو اور اس کی تازگی ان کوٹھریوں کے فولادی دروازوں پر سر رکھ کر دم توڑ دیتی ہو۔ آمروں نے اپنے جیسے انسانوں پر یہ ستم اب سے ہزاروں برس پہلے بھی روا رکھے اور آج بھی متعدد ایسے ملک ہیں جہاں مطلق العنان حکمران یہ سب کچھ درست اور جائز سمجھتے ہیں۔
اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اب سے 2600 برس پہلے یونان کے بے مثال حکیم لقمان نے اپنی حکایت 'بھیڑیا اور بھیڑ' میں لکھا تھا کہ آمر، مجبور اور بے بس لوگوں پر ظلم کرنے کے لیے نت نئے بہانے ایجاد کرلیتا ہے۔ یہ حکایت جو شاید ہم سب نے بچپن میں پڑھی یا سنی ہے وہ بھلائی نہیں جاسکتی۔ یونانی حکیم لقمان کے صرف 100 برس بعد شہرۂ آفاق یونانی ڈراما نگار اسکائی لس نے 'پابہ زنجیر پرومی تھیسس' میں دیوتائوں کے جبر کے بارے میں کمال کے جملے لکھے اور اب سے سات سو برس پہلے تیرہویں صدی میں ایران کے بے مثال شاعر اور دانش مند شیخ سعدی شیرازی نے 'گلستان' میں لکھا تھا کہ ''ظلم کرنے والے کو معاف کردینا، مظلوموں کے ساتھ ظلم ہے۔''
ان تاریخی حقائق کے پیش نظر ہمیں اس بارے میں غور کرنا چاہیے کہ کچھ لوگ جب مسلکی اور نظریاتی بنیادوں پر کسی آمر کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اس کے کیے ہوئے اقدامات کو سراہتے ہیں تو دراصل وہ ان تمام لوگوں کے ساتھ ظلم کرتے ہیں جو اس کے دور میں اپنے انسانی حقوق سے محروم رکھے گئے، جنہوں نے زندگی کے بیش قیمت سال بندی خانوں میں گزارے، جن کے خاندان حق کے لیے ان کی جدوجہد کے نتیجے میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے اور بہت سے تو خود بھی زندگی سے محروم کردیے گئے۔
اگر ہم بیسویں صدی میں پروان چڑھنے والی آمریتوں پر نظر ڈالیں تو جدید دور میں ہمیں آمریت کے 3رنگ نظر آتے ہیں۔ یہ شخصی آمریت، فوجی آمریت اور کسی پارٹی کی آمریت کے طور پر سامنے آتی ہے لیکن ان سب کا اصل مقصد ہر قیمت پر مخالفت کو کچل دینا، کسی اقلیت، قومیت، نسل یا مذہب و مسلک کو ہدف ملامت بناکر سرکاری سطح پر ان لوگوں کے لیے عوام کی اکثریت کے سینوں میں نفرت بھڑکانا، کسی مسلک یا نظریے کو عظیم تر ثابت کرکے اسے عوام پر بہ جبر نافذکرنا اور شہریوں کو اس کے تمام حقوق سے محروم کرنا ہوتا ہے۔
'آمریت' کے یہ رنگ انسانوں کے ساتھ کیا کچھ کرتے ہیں، اس کی تفصیل میں جائیے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
(جاری ہے)